قائد اعظم اور دو قومی نظریہ پر تحریری مقابلہ

تحریر : میر افسر امان
جب سے پاکستان قائم ہوا ہے جماعت اسلامی قائد اعظم کے نظریہ پاکستان اور دوقومی نظریہ کی محافظ اور پرچارک رہی ہے۔ جماعت اسلامی اسلام آبادکے شعبہ علم و ادب ”قلم کاروان” جو ایک عرصہ سے ہر ہفتہ منگل کے دن بعد نماز مغرب، نظریہ پاکستان، دوقومی نظریہ، قومی زبان ا±روو، مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اہم سیاسی، معاشی ، ثقافتی اور تہذبی مسائل پر دانشوروں، منصفوں، صحافیوں، شاعروں، ریٹائرڈ بیروکریٹ اور دیگر اہل علم کو دعوت دے کر مذاکروں وغیرہ کا اہتمام کراتا رہتا ہے۔ اسی سلسلے میں اسلام آباد کے اسکولوں کے نویں اور دسویں جماعتوں کی طالبات اور طالبہ میں فروغ قومی زبان مہم کے حوالہ سے ” قائد اعظم اور دو قومی نظریہ” کے عنوان کے تحت تحریری مقابلہ کا انتظام کیا۔ اس مقابلے کی شرائط و ضوابط کے مطابق: صرف نویں اور دسویں کی طالبات اورطالب علم حصہ لے سکتے ہیں۔مضمون ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر کاغذ کے ایک طرف پانچ صفحات پر مشتمل ہو۔پہلے کاغذ کے سرورق پر مضمون نویس کا نام، جماعت ،ادارہ اور رابطہ نمبر تحریر ہو۔ قرآنی اور حدیث ?کے حوالوںاور اشعار سے مذین خوش خط تحریر ہو۔ مضمون کے ساتھ سربراہ ادارہ کا تسنیدی خط ہونا ضروری ہے۔ اصل مضمون اور اس کی دو نقول دیے گئے پتہ پر مقرر وقت تک ارسال کرنا ہے۔منصفین کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ نتائج کا اعلان ایک تقریب میں کیا جائے گا۔ اس تقریب میں مضمون نگار شریک ہوںنگے۔ مقابلے میں اوّل آنے والی لڑکی اور لڑکے کو پانچ پانچ ہزار نقد انعام اور دوم آنے والے لڑکی اور لڑکے کو تین ہزار نقد انعام دیے جائیں گے۔ مقابلے میں شریک ہر لڑکی اور لڑکے کے درمیان اسنادی سر ٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ بڑی خوشی کا مقام ہے کہ مقابلے میں سوا سو کے قریب لڑکیوں اور دو درجن لڑکے بھی اس مقابلے میں شریک ہوئے۔ وقت پر قوائد کے مطابق مضامین موسول ہو گئے تھے۔ اس مضامین کی نمبرنگ، یعنی قوائد کے مطابق اوّل دوم آنے والے کے لیے جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم” تنظیم اساتذہ پاکستان” کے معزز اساتذہ اور ماہر تعلیم کے پاس موسولہ مضامین بھیجے گئے۔ان حضرات نے نہایت مہربانی کرتے ہوئے بڑی عرق ریزی سے اپنے نونہالوں کے مقابلے میں پیش کردہ تحریری مضامین کو قوائد اور شرائط کے مطابق پرکھا۔ نمبرنگ کر کے قلم کاروان کے صدر نشین جناب ڈاکٹر ساجد خان خاکوانی صاحب اور سکیرٹیری جناب میر افسر امان کے حوالے کیا۔ حسب اعلان قلم کاروان نے اپنے د فتر، واقع ، سیکٹر جی سکس ٹو، اسلام آباد میں تقریب تقسیم انعامات کا اہتمام کیا۔اس تقریب کی صدارت جناب کاشف چوہدری صدر آل پاکستان تاجر اتحاد نے کی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی جناب ظفربخاوری چیئرمین ڈی وانس گروپ اور سابق صدر اسلام آبادچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تھے۔ اس تقریب کی کپپیئرنگ، سینیئر کالمسٹ ، تجزیہ کار اور قلم کاروان کے سیکر ٹیری میر افسر امان نے کی۔اس تقریب تقسیم انعامات میں اوّل دوم آنے والے اور مقابلہ میں شرکت کرنے والی طالبات اور طالبہ، ان کے والدین، اساتذہ کرام، دانشورں اور اہل علم نے شرکت کی۔اس تقریب کی ابتدء اللہ کے پاک کلام سے ہوئی۔ فاطمہ حسن نے تلاوت قرآن شریف کی۔ اس کے بعد مطالعہ حدیث ڈاکڑ باقر خان خاکوانی سابقہ ڈین علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پیش کیا۔ انہوں نے مختصراً دو قومی نظریہ پر سامعین سے مخاطب ہوئے۔
قلم کاروان کی سابقہ پرگروام کی کاروائی جناب ساجد عباس عباسی مقامی لیڈر نیشنل لیبر فیڈریشن اسلام آباد نے پڑھ کر سنائی۔سیکر ٹیری قلم کاروان جناب میر افسرامان نے جماعت اسلامی اسلامی آباد کے شعبہ علم و ادب کے تحت قائم” قلم کاروان ”کی غرض و غایت اوراس کے تحت ہفتہ وار ہر منگل کے پروگراموں کے متعلق سامعین کے سامنے مختصر ساتعارف پیش کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد نے یہ پلیٹ فارم ملک کے دانشورں، اہل قلم اور سوچ بچار کرنے والوں کے لیے مہیا کیا ہوا ہے۔ ہر خاص و عام کواس پروگروموںمیںتشریف لا کرنظریہ پاکستان ، دو قومی نظریہ، اسلام ،پاکستان کی قومی زبان اور پاکستان کی تاریخ اور مسائل پر صاحبان فہم و فراست کے سامنے اپنے تحریری مقالے پیش کرنے کی دعوت عام ہے۔ مقالے پر سوال جواب اور تبصرے کیے جاتے ہیں پھر صدر اس بحث کو سمٹتے ہیں۔ یہ پروگرام ہر منگل کو قلم کاروان کے دفتر بعد نماز مغرب پروگرام ہوتا ہے۔ان کے خطاب کے بعداگلے سیشن میں پہلے تحریری مقابلہ میںدوم آنے والی بچی بحریہ کالج ای ایٹ والی عائشہ نے اپنا مضمون سامعین کے سامنے پڑھ کر سنایا۔سامعین نے تالیاں بجا کر مضمون نویس کو شاباش دی۔ اس کے بعد دوم آنے والی ولیہ کلثوم اسلام آباد ماڈل برائے طالبات آئی ایٹ ون نے اپنا تحریری مضمون پڑھ کر سنایا۔ اس کو بھی سامعین نے تالیوں بجا کر شاباش دی۔ دونوں طالبات کے بعد دوئم آنے والے او پی ایف کالج برائے طلبہ ایچ ایٹ کے محمد مبین نے اپنا لکھے ہوا مضمون سامعین کے سامنے پیش کیا۔
اس کو بھی سامعین کی طرف سے شاباش دی گئی۔ دوم آنے والوں دو لڑکیوں اور ایک لڑکے کے بعد اوّل آنے والی سدرہ مومنہ اسلام آباد ماڈل کالج آئی ٹین فور نے اپنا شاندار مضمون سامعین کے سامنے پڑھ کر سنایا اس کو بھی دل کھول کر خوب شاباش دی گئی۔ آخر میں اوّل آنے والے لڑکے سعد حبیب، او پی ایف کالج برائے طلبہ ایچ ایٹ نے اپنا تحریری مضمون سامعین کے سامنے پیش کیا اس کو بھی سامعین نے طالیاں بجا کر شاباش دی گئی۔
اس کے بعد قلم کاروان کے صدر نشین جناب ڈاکٹر ساجد خان خاکوانی ماہر تعلیم اور یورپین ہسٹری” اندلس میں مسلمانوں کا نظام تعلیم” میں پی ایچ ڈی نے معززسامعین سے خطاب کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں کے طالبات اور طالبعلموں میں” قائد اعظم اور دو قومی نظریہ” پر تحریری مقابلہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہ ہماری نئی نسل کو دو قومی نظریہ سے واقف کرانا مقصود ہے۔ آج کے طالبعلم کل کے پاکستان کے معمار ہیں۔ اگر ان کو اپنی تاریخ اور پاکستان حاصل کرنے کی جدو جہد کے متعلق آگاہی نہ دی گئی تو کل یہ ملک کو کیسے ترقی کی شاہ راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ انہوں کہاکہ فروغ قومی زبان ا±ردوکو سامنے رکھ کر ”قائد اعظم اور دو قومی نظریہ” پر اسلام آباد کے اسکولوں کی طالبات اور طلبہ میں تحریری مقابلہ کرانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم ایک طرف پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ کو یاد رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ میں قومی زبان ا±ردو کے نفاذ کے لیے بڑے بوڑھے نوجوان مرد و خواتین سب یک جان ہو جائیں۔
ہم ایسے پروگرام قلم کاروان کے پلیٹ فارم سے آئندہ بھی کراتے رہیں گے۔ اس کے بعد تحریری مقابلہ میں دوم اور اوّل آنے والے لڑکیوں اور لڑکوں میں تقسیم انعامات کو سیشن ہوا۔ دوم آنے والی طالبات اور طلبہ کو تین تین ہزار نقد انعام اور اوّل آنے والی طالبات اور طلبہ کو پانچ پانچ ہزار نقد انعام بدست جناب حامد اطہر صدر الخدمت فاﺅڈیشن ضلع اسلام آباد پیش کیا گیا۔ اس کے لیے الخدمت فاﺅڈیشن اور دعوی اکیڈمی نے تعادن کیا تھا۔ اس کے بعد تحریری مقابلے میں حصہ لینے والے حاضر طالبات اور طلبہ کو اسنادی سرٹیفیکیٹ بطور انعام دیے گئے۔تقسیم انعامات کے بعدمہمان خصوصی جناب بختاری نے دو قومی نظریہ اور بانی پاکستان قائد اعظم کی شاندار جدو جہد پر مفصل روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کے قیام سے پہلے مسلمانوں کی معاشی حالت اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور کے انار کلی بازار میں صرف ایک مسلمان کی دوکان تھی اور باقی سارے بازار میں ہندوﺅں کی دکانیں تھیں۔ الحمد اللہ آج مسلمانوں کا اپنا آزاد وطن ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ آخر میں اس تقسیم انعامات کی تقریب کے صدر جناب کاشف چوہدری نے تحریری مقابلہ ” قائد اعظم اور دو قومی نظریہ” کے تحریری مقابلے میں اسلام آباد کے سکولوں کی طالبات ، طلبہ کی تعریف اور ان کے والدین اور اساتذہ کی شرکت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں کہا کہ اس تحریر مقابلہ کی تقسیم انعامات کی تقریب میں اہل علم کی شرکت قابل فخر ہے انہوں شریک بچوں کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی اسلام ضلع آباد کے شعبہ علم و ادب کے ”قلم کاروان ”اور اس کے متظمین کا شکریہ ادا کیا۔اس کے بعدمقابلے میں اوّل دوم انعام حاصل کرنے والوں کے ساتھ اجتماہی فوٹو سیشن ہوا۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء تقریب کی چائے بسکٹ سے تواضع کی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*