کوئی خوش فہمی نہیں!

تحریر۔پروفیسر خالد محمود ہاشمی
بھارت، امریکہ ، چین اور روس سمیت متعدد اہم ممالک کے انتباہ کے باوجود پاکستان کے خلاف ”قصائی“ جارحیت کا مرتکب ہوا ہے۔ بھارتی جارحیت کا جواب وقت اور جگہ کا انتخاب کر کے دیا جائے گا سیاسی اختلافات اپنی جگہ عمران، نواز، زرداری ایک صفحے پر ہیں۔ ملکی سالمیت کے معاملے پر تمام اپوزیشن پارٹیاں حکومت کے ساتھ ہیں اور قوم کا بچہ بچہ اپنی بے مثل بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ پاکستان کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ بھارتی انتہا پسند اور بڑھک باز اپنے ہی ملک پر گریں گے۔ بھارتی قیادت کو اندازہ ہے کہ جنگ کیا ہوتی ہے اور ایٹمی پاکستان سے جنگ کی اسے کیا قیمت چکانا پڑے گی۔ بھارتی حکومت اگر صرف الیکشن جیتنے کے لیے مہم جوئی کر رہی ہے تو پاکستان کا جواب اس کی پوری الیکشن سٹریٹجی کو تہ و بالا کر کے رکھ دے۔ بھارت نے الیکشن میں فائدے کے لیے خطے کا امن داﺅ پر لگایا ہے مودی کو الیکشن جیتنے کے لیے ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی کے جذبات بھڑکانے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو لٹکائے رکھ کر خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکتا۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد اور امن کا پیغام دنیا نے س±ن لیا ہے او آئی سی اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے باعث پاکستان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ ادھر بھارتی پائلٹ کی حوالگی نے بھارت کی طرف سے کوئی سپاس گزاری دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ ایل او سی پر شدید گولہ باری جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر قراردادوں نے بھارت کو ٹس سے مس نہیں کیا۔ اچھے تعلقات کی خواہش میں 70 سال گزر گئے حالیہ پاک بھارت بحران میں وزیر اعظم عمران خان ایک پراعتماد لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ سیاسی اورعسکری قیادت باہم یک زبان اور یک نوا ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی نے ارکان پارلیمان کو متحد کر دیا ہے۔ یہ اتحادیوں ہی برقرار رہے تو اسے تبدیلی قرار دیا جائے گا۔ اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے عمران خان کو ہی قدم بڑھانا پڑے گا جیسے ابھی نندن کے لیے پہل قدمی کی ہے۔ مودی کے سر پر تو پاکستان دشمنی کا بھوت سوار ہے وہ امن عمل کو موقع کیوں کر دے گا۔ بھارت میں انتخابات کی وجہ سے امن خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ بھارت جانتا ہے اگر اس نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو پوری قوت سے دندان شکن جواب ملے گا۔ جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کو بھارت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسی سبب سے یہ اہم ترین علاقائی پلیٹ فارم 33 برسوں میں بھی رکن ممالک کو کچھ نہیں دے سکا۔ چند روز پہلے تک عسکری کارروائی کی بھبکیاں مارنے والے مودی اب سفارتی اور تجارتی سطح پر جواب دینے کی باتیں کرنے لگا ہے۔ کشمیر میں روز بروز بڑھتا ہوا ظلم تاریخ کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ مودی حکومت اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ پلوامہ حملے کے حوالے سے بھارت کی عالمی سطح پر سبکی ہوئی ہے۔ بھارت سفارتی محاذ پر پٹ گیا ہے۔ بھارت کے پاس الزام کے سوا کچھ نہیں بلکہ ثبوت دینے کے حوالے سے ابھی تک کوئی ٹھوس دلیل دینے میں بھی ناکام ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ نہیں، مذاکرات ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی امنگوں کے مطابق بھارت کومذاکرات کی پیشکش بھی کی اور وطن کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کا اعلان بھی کیا۔ موجودہ صورتحال پر قوم کو خطاب کے ذریعے اعتماد میں بھی لیا موجودہ کشیدگی کے ماحول میں بھارتی بڑھک بازی کے جواب میں پاکستانی اعلیٰ قیادت کے نپے تلے جواب لائق تحسین ہیں۔ دسمبر 2015ء میں مودی عمران خان ملاقات میں امن عمل کو سبوتاڑ نہ کرنے کے عزم پر اتفاق ہوا تھا۔ عمران خان آج بھی اپنے الفاظ پر قائم ہیں۔ اسی لیے انہوں نے مودی سے کہا امن کو ایک موقع دیں، امن کی خواہش کمزوری نہیں، دو جوہری قوتوں کے مابین ٹکراﺅ کے نتائج کا دنیا بھر کوادراک ہے۔ جنگ سے مشرق وسطیٰ افغانستان میں کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ پاکستان دشمنی کا کارڈ کھیلنا اب ممکن نہیں۔ بی جے پی نے پاکستان دشمنی کے نام پر اقتدار حاصل کیا تھا۔ سیاسی منظرنامہ پر دھند چھائی ہوئی ہے۔ نواز شریف کی زندگی فی الحال ہسپتال یا جیل میں گزر رہی ہے۔ شہباز شریف کو جیل سے نکال کر ای سی ایل کے پنجرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ علیم خان مزید ریمانڈ کی چکی میں ڈال دئیے گئے ہیں۔ وکیل مخالفت میں کوئی بھی ٹھوس دلائل نہ دے سکا۔ ادھر سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی کی گرفتاری زرداری کی گرفتاری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے قیادت کی ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے تحریک چلانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ بلوچستان سے بھی حکومتی پارٹی میں اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو بھی ناراض دکھائی د ے رہے ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے چھ ماہ کے دوران کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ وزیراعلیٰ کے غیر سنجیدہ رویے نے پارٹی کی تنظیم سازی نہ ہونے دی۔ خیبرپختونخواہ میں بجلی کا بحران اور عوامی احتجاج جاری ہے۔ صوبے میں بجلی کی طلب 2 ہزار میگاواٹ جبکہ رسد 1300 میگا واٹ ہے۔ اپوزیشن کے حوالے سے ڈھیل اور ڈیل کی خبریں دم توڑ چکی ہیں۔ صورتحال انتہائی حساسیت کی حامل ہے۔ پاکستان پر دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے میں ناکامی کا الزام لگانے میں بھارت نے سرتوڑ کوشش کی لیکن فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کو مالیاتی رسائی کی رسک ایسسمنٹ اور ملک میں نقد رقومات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ کرنسی کی غیر قانونی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی جاری ہے۔ جماعت الدعو? کے بعد جیش محمد کے خلاف بھی کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اگر دو جوہری ملکوں کے درمیان جنگ ناممکن ہے تو پھر ایک منصفانہ اور باعزت امن کیوں ممکن نہیں ہے۔ عالمی سفارتی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی لیکن مظلوم کشمیریوں کے حق میں ہوں تب! پاکستانی کشادہ دلی اور بھارتی ہٹ دھرمی کے مابین انصاف کیسے ہو گا۔ بھارت سیکولر ہے تو ہمارے ہاں بھی انتہا پسند مذہبی عسکری تنظیموں کا وجود نہیں۔ کسی کا دہشت گرد ونگ نہیں!20 ارب ڈالر کے پاک سعودی معاہدوں میں سب سے بڑا منصوبہ آئل ریفائنری کا قیام ہے۔ بیرونی امداد کے ساتھ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں ٹیکس چوری کرنے والوں‘ قومی دولت لوٹنے والوں‘ تاجروں‘ صنعتکاروں اور سٹاک بروکروں وغیرہ کو غیر ضروری مراعات مختلف اداروں کی جانب سے دی گئی تھیں۔ ان کا صرف 50 فیصد تعلیم‘ صحت اور پیشہ ورانہ تربیت پر خرچ کیا جاتا تو آج پاکستان کی برآمدات 19 ارب ڈالر کی بجائے 150 ارب ڈالر ہوتیں۔ نئی ٹیکس ڈائریکٹری قائم ہو چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے 2017ء میں صرف 103,763 روپے ٹیکس دیا جو اس سے پہلے دیئے گئے ٹیکس سے 35 فیصد کم ہے۔
نوازشریف کے ٹیکس کی رقم 2.324 ملین سے کم ہوکر 263,173 روپے رہ گئی جبکہ شاہد خاقان عباسی کے ٹیکس کی رقم میں ایک سال میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے 2017ء میں3.086 ملین ٹیکس ادا کیا۔ وزیراعظم نے خود تسلیم کیا ہے کہ210 ملین کی آبادی والے ملک میں صرف 1.7 ملین لوگ ٹیکس فائلرز ہیں۔ ساری آبادی باالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایسے عدم توازن کو فیئر کون کہہ سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کو 24 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔ ٹیکس چوری روکنے کیلئے معیشت کا مکمل طورپردستاویزی بنایا جانا ضروری ہے۔ اس وقت ملک کو 170 ارب روپے کے شاٹ فال کا سامنا ہے۔ چار ہزار 398 ارب کاٹیکس ہدف حاصل کرنے کیلئے میگا چین سٹوروں سے حقیقی فروخت کے مطابق ٹیکس وصولی ضروری ہے۔ بجلی چوری روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کا آزمائشی استعمال شروع کیا گیا ہے۔ اس سے کنڈا ڈالنے والے فوری پکڑے جائیں گے۔ صارفین بجلی سے متعلق تمام ڈیٹا اپنے موبائل فون پر حاصل کر سکیں گے۔ لوڈشیڈنگ‘ اوور بلنگ اور بجلی چوری کیلئے فول پروف نظام ضروری تھا۔ ہر سال سردی سے پہلے گیس اور گرمیوں سے پہلے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان گزشتہ دہائی سے جاری ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک روپے 80 پیسے یونٹ کا ہے۔ 13 ارب 50 کروڑ روپے کا یہ اضافہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام سے ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ بجلی 30 فیصد مہنگی کرنے کا ہے۔ مرمت کے نام پر آئے روز کئی کئی گھنٹے بجلی‘ پانی کی بندش معمول ہے۔ بجلی کی ترسیل کا بوسیدہ نظام 1960ء سے چل رہا ہے۔ 17 لاکھ ٹیکس دہندگان میں سے 72 ہزار نے اپنی آمدنی دو لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی ہے۔جس طرح رشوت خوروں کا رویہ اور سوچ نہیں بدل سکتی اسی طرح ٹیکس ادائیگی سے اجتناب برتنے والوں کی سوچ میں بھی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ایف بی آر ترقی یافتہ ملکوں کے ٹیکس نظام کے مطابق طریق کار قوانین اور گوشواروں میں اصلاحات کی طرف قدم کیوں نہیں بڑھاتا؟ ٹیکس کلچر اور ٹیکس نیٹ کی تکرار سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ گیس قیمتوں میں 151 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے۔ ایل پی جی بھی 9 روپے مہنگی ہو گئی ہے۔ سبسڈی نہ دی گئی تو گیس کمپنیوں کو 170 ارب روپے سے زائد شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے 75 پیسے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پٹرول کی نئی قیمت 92 روپے 88 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ اگر عالمی منڈی کے مطابق کم نہیں کئے جا سکتے تو بڑھائے بھی نہ جائیں۔ ایف بی آر نے شوگر ملز رئیل اسٹیٹ میگا رئیل چین سٹورز‘ سیمنٹ‘ فیشن ڈیزائنرز کے شعبوں کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ ایف بی آر کو مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں 237 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ 30 جون تک خسارہ 300 ارب تک جا سکتا ہے۔ دو منی بجٹوں سے بھی ایف بی آر کا پیٹ نہیں بھرا۔ انڈسٹری کیلئے مراعات کا چرچا ہے‘ لیکن نتیجہ دیکھنا باقی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*