پارلیمنٹ میں ”مفاہمت“ کا ماحول خراب ہونے خدشہ

تحریر۔نواز رضا
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس ” پاکستان زندہ باد “ کے نعروں گونج رہا تھا ، حکومت اور اپوزیشن مادر وطن کے دفاع کے لئے اپنے تمام اختلاف بالائے طاق رکھ کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اپنی مسلح افواج کی پشت پر کھڑی نظر آرہی تھیں۔ ایسا منظر ہماری قومی تاریخ میں کم کم دیکھنے میں آیا تھا۔پاکل تک اپوزیشن ”کپتان“ کو” سلیکٹڈپرائم منسٹر“ کا طعنہ دے رہی تھی آج پوری اپوزیشن اسی ”کپتان “ سے اظہار یک جہتی کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہی تھی کہ ”ہم ایک قوم ہیں “ ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اپنی علالت کے باوجود لاہور سے پارلیمنٹ ہاﺅس پہنچ گئے۔کوٹ لکھپت جیل میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے لیڈر میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کو بھارتی جارحیت کے خلاف حکومت کا ساتھ دینے کا پیغام دیا اور کہا کہ سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر حکومت سے تعاون کریں۔پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری کراچی سے سیدھے اسلام آباد پہنچے جبکہ فضائی پروازیں بند کئے جانے سے بلاول بھٹو زرداری دوبئی سے اسلام آباد نہ پہنچ سکے پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کو اس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمنٹ کا اجلا س میں نماز کا وقفہ ہونے پر وزیر اعظم اپوزیشن رہنماﺅں سے ملے بغیر اپنے چیمبر میں چلے گئے اس کے بعد وہ واپس نہیں آئے عام تاثر تھا وزیر اعظم عمران خان مفاہمت کے اس ماحول میں اپوزیشن رہنماﺅں کی طرف ایک قدم بڑھا کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پائے جانے والے ”فاصلوں“کو ختم کر دیں گے لیکن انہوں نے یہ نادر موقع گنوا دیا۔بہر حال پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا محمد ظفرالحق نے اپنی شاندار تقاریر میں بھارتی جارحیت کے خلاف حکومت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔بھارت کی اپوزیشن نریندر مودی کے” جنگی جنون“ کے خلاف اٹھ کھڑی ہو ئی ہے اور کہا ہے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر نے کے لئے نریندر مودی نے ”جارحانہ طرز عمل“ اختیار کر رکھاہے جب کہ پاکستان کی اپوزیشن بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کی ”امن“ کی پالیسی کو سراہا رہی ہے۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کرنے کے ”عاجلانہ“ فیصلے کیبھی اپوزیشن نے مخالفت نہیں کی اور اسے سیاسی ایشو بنانے سے گریز کیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن نے موجودہ نازک صورت حال میں کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے کی بجائے حکومت کی پشت پر کھڑی نظر آئی۔ چیئرمین مجلس قائمہ برائے قانون و انصاف ریاض فتیانہ نے خواجہ سعد رفیق کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا جو سپیکر آفس میں روک لیا گیا۔ سپیکر کے اس اقدام کے خلاف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر خواجہ سعد رفیق کا پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیا گیا تو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی چلانا ممکن نہیں رہے گا“۔ اگر حکومت نے اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیا تو پارلیمنٹ کا ”پر امن ماحول “ ایک بار پھر ”ہنگامہ ا?رائی کی ”نذر “ ہونے کا خدشہ ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دو روزہ بحث میں وزیراعظم عمران خان، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف ، چیئرمین پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین آصف علی زرداری کی تقاریر کا محور ”امن “ تھا انہوں اپنی تقاریر میں بھارت کو یہ باور کرا یا کہ” اگر اس نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو حکومت اور اپوزیشن متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں گی“۔ یہ بات قابل ذکر ہے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں میں سینیٹ میں قائد ایوان راجا محمد ظفر الحق نے تاریخ کے حوالے دے کر پاک بھارت کشیدگی پر روشنی ڈالی ان کی مدلل تقریر کا وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ عسکری و سیاسی قیادت کی جانب پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کو ’ ’ان کیمرہ“ دی جانے والی بریفنگ میں فوج کے سربراہ باجوہ نے تو شرکت کی لیکن وزیراعظم نے اس اہم بریفنگ میں بھی شرکت نہ کر کے اپوزیشن رہنماﺅں سے براہ راست رابطے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز کی شاندار تقریر کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے دو بار ڈیسک بجا کر داد دی جو خوش آئند ہے میاں شہباز شریف اپنی تقریر میں خوبصورت اشعار کا بھی سہارہ لیا انہوں نے شعر پڑھا کہ ”تمنا آبرو کی ہے اگر گلزار ہستی میں،تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کرلے“اور” نہیں یہ شان خوداری چمن سے توڑ کر تجھ کو…کوئی دستار پر رکھ کوئی زیب گلو کر لے“ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کر نے کے باوجود بھارت کا جنگی جنوں ختم نہیں ہوا سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر دونوں ملکوں جنگ سے روکنے کے لئے پاکستان اور بھارت آنا چاہتے تھے لیکن بھار ت کی طرف مثبت جواب موصول نہ ہونے پر انہوں اپنا دورہ ایک ہفتے کے لئے موخر کر دیا ہے او آئی سی اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود کشمیریوں کی حمایت اور بھارت کی در اندازی کے خلاف قرار دایں منظور کی گئیں اس سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے مشکل وقت میں مسلم امہ نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ پاک فضائیہ اور بحریہ ”الرٹ ہے پاک فضائیہ کے طیارے رات بھر پاکستان کی فضاﺅں کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ عوام سکون کی نیند سو سکیں پاکستان اور بھارت دونوں” نیوکلر پاور“ ہیں روایتی ہتھیاروں کی جنگ کسی وقت ’ بھی ’ نیوکلر وار“ میں تبدیل ہو سکتی ہے لہٰذا وزیر اعظم عمران خان بار بار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر جنگ نے شدت اختیار کرلی تو صورت حال دو نوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی پھر پیچھے کچھ نہیں بچے گا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن او آئی سی کے اجلاس میں بھارت کو ”گیسٹ آف آنر“ کے طور پر مدعو کرنے کے معاملہ پر اپوزیشن منقسم رہی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے کہا کہ ”میں نے شادی کی ایک تقریب میں رانا ثنا اللہ سے مصافحہ کر لیا اور علی محمدخان کی احسن اقبال کے ساتھ تصویر شائع ہو گئی تو تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ان کی ”درگت “بنا دی اس لئے ہم نے اپوزیشن سے ایک فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے خدا را وزیر اعظم پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو بلا تاخیر” وزیراعظم آفس “ میں مدعو کریں اور نہ صرف جنگی حکمت عملی پر مشاورت کریں بلکہ پارلیمنٹ کو پر سکون ماحول میں چلانے پر تعاون حاصل کریں۔ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں وہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سے بلند ہو کر سوچیں تو ان کے لئے حکومت چلانا آسان ہو گا ورنہ ” تصادم اور محاذ آرائی “ کی پالیسی سے اپوزیشن کو ہی سیاسی فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔´

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*