نفرت انسانی جرم

تحریر : ڈاکٹر خالد فواد الازہری
سماج میں مختلف الخیال لوگ موجود ہوتے ہیں اور اس میں ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ رواداری و برداشت کو شعار بنایا جائے نہ کہ غیض و غضب ذاتی ہو یا اجتماعی ،سیاسی ہو یا مذہبی ،علاقائی ہو یا صوبائی ان کو کسی صورت جگہ نہ دی جائے۔نفرت کے خاتمے کے لیے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی بنوںخیبر پختونخواہ اہم ترین کانفرنس منعقد کی جس کا موضوع ”نفرت ِ انسانی جرم ہے”تھا۔منتظمین جامعہ نے موضوع کے انتخاب میں بڑی مہارت سے کام لیا بہت ہی مﺅثر موضوع کا انتخاب کیا۔اس کانفرنس میں مذکورہ بالا موضوع کے ساتھ ہی بہت سے ضمنی مباحث کو متعین کیا گیا۔کانفرنس کے بنیادی موضوع کے ساتھ اس کے قانونی و صحافتی اور ممالک کے ساتھ تعلق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مختلف موضوعات کا جائزہ لیا گیا۔کانفرنس کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ کیا اسباب و مسببات ہیں معاشرے میں نفرت کے پھیل جانے کے اور اس کا حل کیا ہے کیونکہ یہ جرم انسانی معاشرے کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا چلا جارہاہے یہاں تک ایسا محسوس ہوتاہے کہ انسان کی حقیقی زندگی ہی یہی معلوم ہوتی ہے۔انسانوں میں کراہیت و نفرت کو ماپنا ناممکن ہے کہ کس قدر زیادہ ہوچکا ہے۔ایسی بات نہیں کہ یہ امر صرف دولوگوں کے درمیان جھگڑا ،یعنی ایک یہ بات کررہاہو تو دوسرا یہ بات ایسے میں بہتر بات وہ ہوتی ہے جو سلامتی کی طرف لے جانے والی ہو۔ المیہ تو یہ ہے کہ جھگڑا کرنے والے دونوں اس بات کے متمنی ہوتے ہیں کہ دوسرا کسی بھی طریقہ سے ہلاکت و موت کی آغوش میں چلا جائے۔ایسی عداوت و دشمنی اور نفرت دائمی فساد اور بگاڑ کا موجب ہوتی ہے کہ خاندانوں کے خاندان اور قبیلوں کے قبیلے اس میں غارت ہوجاتے ہیں۔نفرت کی انتہاء تو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے بڑے قبیلہ یا اپنے مخالف و معاند قبیلہ کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم نہیں رکھ سکتے ہیں۔کہا یہ جاتاہے کہ یہ رشتے اس لیے قائم نہیں کیے جاسکتے کہ ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہیں۔نفرت و عداوت اس حدتک انتہاء کو پہنچ جاتاہے کہ اس کے سبب گروہوں کے گروہ اس کی زد میں آجاتے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں اور ایک دوسرے کی املاک و اشیاء کو ناقابل تلافی نقصان پہنچادیتے ہیں۔اس قدر ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں کہ کوئی نہیں جان سکتاکہ ایک ساتھ کس طرح زندگی پرمسرت بسر کی جاسکتی ہے اور کیسے ایک خوشگوار ماحول اورباہم متحدہو کرخوشحالی و ترقی کی بنیادی رکھی جاسکتی ہے۔ کراہیت و نفرت کا یہ جادو اس قدر سر چڑھ کر بول رہاہے کہ ملکوں کے باہمی تعلقات استوار ہونے کی بجائے روبہ زوال ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرکے اس کو گروہ اور قبیلہ میں تقسیم صرف اس لیے کیا کہ وہ ایک دوسرے کی جان پہچان کرسکیں زندگی بسرکرسکیں۔ لیکن شیطان نے ایسا غلبہ حاصل کیا کہ بڑا طبقہ چھوٹے طبقہ کو ذبح کررہاہے اور اس کو گاہے بگاہے قربان کرتے چلے جارہاہے۔جو کچھ آج انسان کررہاہے یہ سب اللہ کی مرضی و منشا کے بر خلاف کام ہیں جن میں وہ انفرادی و اجتماعی اور قبائیلی و ملکی اور جماعتی عصبیت و نفرت کو شہ دیتے نظر آتے ہیں۔کتنا ہم نے بڑھا ہے کہ زندگی میں تنگیاں اس لیے سرایت کرجاتی ہیں کہ لوگوں کے مابین تعلقات محبت و احترام سے خالی ہوچکے ہیں ،ہر ایک کسی سے رابطہ اس لیے رکھتاہے کہ اس میں اس کا یا تو مفاد وابستہ ہوتا ہے ،یا شہوت کو تسکین پہنچانے اور کشت و خون کا بازار گرم کرنے اور اخلاقی اقدار کو پاﺅں تلے روندنا مقصود ہوتاہے۔کراہیت کی ابتداء اولاد کے درمیان سے ظاہر ہوئی ہے ،لڑکا اور لڑکی کے درمیان سے۔جب ماں اپنی بیٹی کو حکم دیتی ہے کہ وہ بھائی کے کپڑے دھودے ،یا اس کو کھانا پیش کرے اور گھر کے برتن دھوئے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے نفرت کی بنیاد پڑتی ہے۔۔۔اسی طرح جب باپ اپنی بیٹی کو شادی پر مجبور کرتاہے ایسے شخص سے جس کو وہ ناپسند کرتی ہو۔فقہاء نے ایسی جبر و اکراہ اور زبردستی کی شادی کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس پر حکم لگایا کہ یہ شادی قائم رہنی چاہیے تاہم جہلاء کا طبقہ شرعی علوم سے ناآشنا ہیں۔نفرت کا بیج اس وقت بھی طاقتور ہوکر نمودار ہوتاہے جب باپ گھر میں آمرانہ مزاج اختیار کرلے اور رحمت و الفت کے نام سے ناواقف ہوجائے۔ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے مغرب کا سفر کیا تو وہاں یہ پایا کہ وہاں بعض ممالک کے لوگ کسی دوسرے ملک کے گروہ اور وفد سے تعلق و معاملہ نہیں کرتے۔ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ ان کے درمیان تجارت قائم ہو؟ایسی حرکتوں کو دیکھ کر اقوام متحدہ کا عالمی چارٹربرائے انسانی حقوق کی ایک کاغذکا ٹکڑا ہونے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں محسوس ہوتی۔
جب کہ اسلامی تعلیمات لوگوں کے قلوب و اذہان پر ایسے رچ بس گئی تھیں کہ اس نے فرد نہیں افراد اور جماعتوں اور خاندانوں ،قبیلوں اور ملکوں الغرض ہرمقام پر انسانوں کے سماج کی فلاح و بہبود اور ان کی عزت و عظمت کو قائم و دائم رکھنے کا جذبہ موجزن نظرآتاہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں نے مثالی دورحکومت گذارا کہ اس میں ہرانسان کو برابر فائدہ حاصل کرنے کا موقع میسر تھا۔تاریخ انسانی صلیبی جنگوں کو نہیں بھلا سکتی کہ اس میں یورپی ملک ارض انبیاء پر حملہ آور ہوئے تو انہوں نے 70ہزار سے زائد مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں شہید کیا اور اس قدر کشت و خون کیا کہ خون نہروں کی شکل میں بہتارہا۔عیسائیوں نے 2سوسال تک مسجد اقصیٰ اور فلسطین میں تباہی و بربادی کا بازار گرم کیے رکھا یہاں تک کہ ظاہر بیبرس اور اس کے بعد اشرف بن قلاوون نے ان حملہ آور وں کا راستہ روکا اور ان کو ارض مقدس سے نکال باہر کیا۔
صلیبی فوج ذلت و رسوائی کے ساتھ ایسی نکلی کہ خیرو بھلائی کے ساتھ ان کو تذکرہ کرنے کا کوئی نشان بھی نہیں تھا۔تاریخ یہ شہادت پیش کرتی ہے کہ اسلام کے پیروکاروں نے تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی کہ غرناطہ ،طلیطلہ و بغداد ، قاہرہ، صقلیہ اور اشبیلہ وغیرہ جیسے نمایاں شہر قائم کیے جن میں ایک متطور قوم کی تمام تر آسائشیں اور ان کی راحت کا سامان موجود تھا۔یہ علمی و اخلاقی اور تعمیر و ترقی کی طرح صرف محبت انسانی کے ذریعہ ڈالی گئی نہ کہ اس میں کوئی اور سبب پوشیدہ یا مضمر تھا۔یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی بنوں کی انتظامیہ نے شاندار خدمت سرانجام دی ہے کہ عصر حاضر میں اس اہم موضوع پر کانفرنس کا انعقاد کا اہتمام کیاہے۔
کامیاب ہوئے ہیں اس موضوع کے داﺅپیچ کو چھاننے اور بھٹکنے میں اور اس کانفرنس میں اس مرض و جرم کی دنیا بھر میں پھیل جانے کے اسباب کا مہارت سے جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں اس مرض کے خاتمے کے لیے تجاویز و آراء پیش کی گئیں۔معلوم ہونا چاہیے کہ افریقہ و ایشیاء کے غریب و نادار ملکوں کی موجودگی کے سبب پڑوسی ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غریب ممالک کی حاجات کی تکمیل و فراہمی میں معاونت و مدد کریں۔رسول اللہ کا ارشاد گرامی ہے کہ”وہ ہم میں سے نہیںجو خود سیر ہوگر اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے”۔افسوس کی بات ہے کہ صرف نفرت و کراہیت دلوں میں اس قدر سختی پیدا کردی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو مرتا دیکھ کربھی مدد کو نہیں پہنچتے۔نفرت کا بخار اتنا شدید ہے کہ بڑے ممالک چھوٹے ملکوں میں جاسوس بھیجتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ اپنے ملک کا دفاع مضبوط کریں بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے وہ کونسے طریقے اختیار کرلیں کہ وہ کسی طرح اس ملک داخلی طور پر کمزور پہنچا سکیں اور اس کی تباہی و بربادی کا سامان تیار کریں۔ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے اخلاقی قوانین ترتیب دیں جس میں انسانیت کی فلاح و بہبود مضمر ہو اور اسی بنیاد پر دوطرفہ ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں۔ہمیں ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ثقافتی و فکری اور انسانی بنیادوں پر روابط مضبوط کریں۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے ممالک کو کس طرح نقصان پہنچائیںاس لیے کسی ملک سے تعلق قائم رکھیں۔پاکستان ایک مثالی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہے اور اس کے اس امتیازی وصف کو دنیا بھر کے لوگوں نے قبول بھی کیا ہے تاہم دشمن کی سازشوں اورناپاک منصوبہ بندیوں میں گھراہواہے اس کے باوجود بھی ملک تادم زیست قائم و دائم ہے۔دشمن ملک کو نقصان پہنچانے اور غیر مستحکم کرنے میں جنگی میدان میں کامیاب نہیں ہوپائے مگر اب وہ ملک کو داخلی طورپر کمزور کرنے کے لیے پاکستان میں نفرت و فرقہ بندی کو کو شہ دیکر اس کو کمزور کرنے میں مصروف عمل ہے۔ہماری خواہش ہے کہ اہل حل و عقد اس نازک صورتحال کو باریک بینی سے جان جائیں اور اس کے تدارک کے لیے دوررس اقدامات کرنے کے ساتھ ملک میں ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے ملک میں چہار سو خواص و عوام کو فائدہ پہنچا سکیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*