تھر گرین تحریک کو کامیاب بنائیں

اسد اللہ غالب
لاہور اچانک خالی ہو گیا ہے۔مشتاق چودھری امریکہ واپس چلے گئے اور ڈاکٹر ٓٓآصف جاہ کا تبادلہ اسلام ا ٓباد ہو گیا۔ وہ چیف کلکٹر کسٹمز نارتھ ہوں گے۔ بہت بڑی اور بھاری ذمے داری ہے، خدا ان کا حامی و ناصر ہو مگر میں نے ان کی نئی تحریک کا گرم جوشی سے ساتھ دینے کا فیصلہ کیاہے۔ کسر تو پہلے بھی میںنے کبھی نہیں چھوڑی اور وہ زلزلے میں برباد ہونے والوں کی دستگیری کریں یا سیلاب زدگان کے آنسو پونچھیں یا روہنگیاا ور شام کے مہاجرین کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کریں ،میںنے ہمیشہ ان کی کوششوں کو سراہا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے مگر یہ جو تھر گرین تحریک ہے ، یہ ریاست مدینہ کے نعرے کی تکمیل میں مدد دے گی۔ یہ نعرہ حکومت نے لگایا ہے مگر فلوریڈا میں قیام پذیر پاکستانی مشتاق چودھری کا کہنا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کا کردارا دا کرنا ہے۔ انہوںنے روانگی سے پہلے ایک خاموش صبح کو اپنے گھر میں مجھے اور ڈاکٹر آصف جاہ کو ناشتے پر یاد فرمایا۔ آئیڈیا تو ان کے ذہن میں پہلے ہی سے تھامگر وہ اسے حتمی شکل دینا چاہتے تھے۔انہوںنے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ وہ تھر کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ساری تفصیل بیان کی۔ اسے میں کئی بار اپنے کالموں میں دہرا چکا ہوں مگر مشتاق چودھری نے کہا کہ اگر آپ تھر گرین تحریک پر پوری توجہ مرکوز کریں تو وہ امریکہ میں اپنے دوستوں کو اس میں تعاون کے لئے تیار کرسکتے ہیں۔تھر گرین تحریک یہ ہے کہ اس بد قسمت علاقے میں ایک تو پانی نہیں ہے۔ دوسرے یہاں بیماریاں عام ہیں، تیسرے یہاں کے بچے بھوک سے مر جاتے ہیں۔ مگر روشنی کی ایک کرن یوںنظر آتی ہے کہ تھر کی زمین انتہائی زرخیز ہے۔ اگر آبپاشی کا بندو بست ہو جائے تو ریکارڈ پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انہوںنے پانچ پانچ ایکڑ کے چند فارم وہاں بنائے ہیں، سولر پینلز سے بجلی لی ہے۔ ٹیوب ویلز نصب کئے ہیں اور مقامی آبادی کو قائل کیا ہے کہ وہ یہاں کاشت کاری میںمدد کریں اور اپنی محنت کے عوض ساٹھ فیصد حصہ لے لیں۔ ان فارموں سے ایک سو من گندم فی ایکٹر پیدا ہوئی ہے جو کہ ایک معجزہ ہے۔ اور تھر کے لوگ خوشی سے نہال دکھائی دیتے ہیں۔بات یہاں تک پہنچی تھی کہ میںنے لقمہ دیا کہ اگر ہم اس مسئلے کو یوں دیکھیں کہ بائیس کروڑ کی آبادی میں صرف پچیس لاکھ غیر مسلم ہندوہیں اور وہ بھوکے ہیں۔بیمار ہیں۔ قحط زدہ ہیں۔ ادھر ہم مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں، ہمار امذہب تلقین کرتا ہے کہ ہم اپنی اقلیتوں سے حسن سلوک کریں اور انہیں برابر کے شہری اور معاشی حقوق دیں۔یہ ہمارا فرض ہے ،کوئی بخشیش نہیں۔ اگر ریاست پاکستان اپنے پچیس لاکھ کروڑ ہندو وئں کی معاشی حالت سدھارنے میں کامیاب ہو جائے تو آخرت کی جزا کے علاوہ ہمیں دنیا میں بھی اچھا اچھا کہا جائے گا۔اس لئے ہمیں مذہبی فریضہ سمجھ کراس تحریک کاآغا زکرنا چاہئے اور اگر ہم سو پچاس ایکڑ آباد کر دکھائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کی این جی اوز بھی اس کار خیر میں شریک نہ ہوں اور ہمارے مخیر طبقات بھی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیں، اس طرح ہم تھر کی اقلیت کو ایک مثالی معیشت میں تبدیل کر سکتے ہیں اور پاکستان کے ماتھے سے کلنک کا یہ داغ بھی مٹ جائے گا کہ ہم اپنی اقلیتوں سے صرف نظر کرر ہے ہیں۔ ویسے تو ہم اپنی اکثریتی آبادی کے حقوق بھی پورے نہیں کر پاتے مگر اس سے ہمیں کوئی مذہبی بنیاد پر طعنہ نہیں دے سکتا۔میری بات مشتاق چودھری اورڈاکٹر آصف جاہ کے دل کو لگی اور دوستو ! اب تھر گرین تحریک کے لئے سرگرم عمل ہو جائیں۔ یہ کام صرف مشتاق چودھری یا ڈاکٹر آصف جاہ کی تنظیم کسٹمز ہیلتھ کیئر ہی کے کرنے کا نہیں، ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے اور ہمیں اس کے لئے کمر ہمت کس لینی چاہئے۔ اگر تو تھر میں زمین خرید کر فارم بنائے جائیں تو پھر ایک فارم پر دس سے پندرہ لاکھ خرچ اٹھے گا ورنہ صرف ساڑھے تین لاکھ میں آبپاشی کے لئے ٹیوب ویل اور سولر پینلز کا انتظام ہو سکتا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر ایک فارم کی ذمے داری کوئی ایک فرد بھی لے سکتا ہے۔ اور فارم اگر بڑا ہو یعنی دس بیس ایکڑ کا تو چند افراد مل کرا س کی ذمے داری اٹھا سکتے ہیں۔ بائیس کروڑ کی قوم کے لئے یہ خرچ کوئی زیادہ نہیں لیکن اگر ہم یہ کام نہیں کرتے تو دنیا میں ہماری بدنامی بہت زیادہ ہے۔ آئے روز صرف مٹھی کے ایک ہسپتال میں بچے مرتے رہیں گے تو کیا اس سے ہماری نیک نامی میں اضافہ ہو گا یا ہم ان بچوں کے والدین کی بھوک افلاس کا خاتمہ کر کے انہیں صحت مند بنا دیں تاکہ ان کے ہاں پیدا ہونیو الے بچے بھی صحت مند ہوں تو اس طرح ہماری نیک نامی بڑھے گی۔ یہ کوئی مشکل فیصلہ نہیں۔ ہمارے معاشرے میں صاحب خیر لوگوں کی اکثریت ہے۔ یہ جو ایدھی کاا دارہ ہے۔ اسے دنیا میں مثالی خیال کیا جاتا ہے۔ اخوت کے ادارے کی خدمات عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہیں۔ شوکت خانم کے ہسپتالوں کو تو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ملک کے اندر قدم قدم پر فلاحی ادارے قائم ہیں۔ یہ سب روشنی کی کرنیں ہیں اور ان سے یہ امید بھی روشن ہوتی ہے کہ ملک کے صرف پچیس لاکھ اقلیتی افراد کی زندگی سے بھوک، پیاس کو مٹانا کوئی مشکل کام نہیں۔میںنے پچھلے دنوں رائے ونڈ روڈ پر زیر تعمیر کینسر ہسپتال کا ذکر کیا تھا جس کے لئے ریڈی ایشن کی چھ مشینیں ہی کوئی ایک ارب کے عطیات سے خریدی گئی ہیں۔ کئی کروڑ روپے سے ہسپتال کی عمارت بن رہی ہے۔ اس کے آپریشن تھیئٹر بن رہے ہیں ایک صاحب نے صرف ہسپتال کے گیٹ پر اڑھائی کروڑ لگا دیئے ہیں۔ یہ سب نیک کام ہیں اور اسی طرح کے صاحب حیثیت لوگ مزید مل جائیں تو پورا تھر جل تھل ہو جائے اور جنگل میں منگل کا سماںنظر آئے۔ تھر کے لوگوںکے لئے ان کا علاقہ جنت ارضی کا نمونہ بن جائے اور مخیر حضرات اپنے لئے اللہ کے ساتھ جنت کا سودا کر لیں۔ہم یہ نیک کام کر لیں تو بھارت دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا جہاں مسلم اقلیت کو گائے کا گوشت فروخت کرنے کے الزام میں شہید کر دیا جاتا ہے۔ جہاں کشمیر کے مسلمانوں کو روز شہید کیا جاتاہے۔ ان کی آنکھوں میں پیلٹ گولیاںمار کر انہیں اندھا کیا جا رہا ہے۔پاکستان کو تو اپنی اقلیت سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہئے اور میں سمجھتاہوں کہ تھر کو سرسبز بنا کر ہم پاکستان کو ریاست مدینہ کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔مشتاق چودھری امریکہ میں بیٹھ کر اپنا کردار اداکریں۔ ڈاکٹر آصف جاہ اپنی گوناں گوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر ا س منصوبے کو پروان چڑھائیں اور ہم سب اپنی اپنی جگہ پر اس کار خیر کو آگے بڑھائیں توتاریخ ہمیں اچھے لفظوں سے یاد رکھے گی۔
پل بنا، چاہ بنا، فیض کے اسباب بنا۔
اور بناتے ہی چلے جا۔ واہ! ڈاکٹر آصف جاہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*