کوئٹہ کی ترقی و خوشحالی اور مسائل کا حل

گزشتہ روز بلوچستان صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی پر موخر شدہ بحث کا سلسلہ بڑھاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی نے کہا ہے کہ سابق دور حکومت میں بنائی جانے والی پی ایس ڈی پی میں کوئٹہ شہر کے لئے کوئی منصوبے نہیں رکھے گئے یہاں پر آبادی میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیمی ادارے ،کھیلوں کے میدان ،انڈرپاسز سمیت ٹریفک کے مسائل سے نمٹنے کےلئے10سالہ پلان بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ کوئٹہ کی ترقی و خوشحالی اور اس کے مسائل کا حل ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
بلوچستان صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی کا مذکورہ بیان کوئی نیا نہیں ہے کیونکہ یہاں جو بھی نمائندے منتخب ہوکر آتے ہیں وہ اسی طرح بیانات دیتے ہیں چونکہ موصوف ایم پی اے پہلی مرتبہ اسمبلی میں پہنچے ہیں ،اس لئے تناظر میں ان کا بیان نیا ضرور ہے کیونکہ وہ خود نئے ہیں ۔
کوئٹہ شہر جو صوبائی دارالحکومت بھی ہے کی ترقی و خوشحالی اور اس کے مسائل حل نہیں کئے گئے جن کی وجہ سے یہ کم یا ختم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں حالانکہ اس شہر کی ترقی کےلئے اربوں روپے کے علیحدہ سے فنڈز بھی دیئے گئے لیکن اس کے باوجود اس اہم شہر کی حالت نہیں بدلی جاسکی ،جوکہ یقینا ایک قابل مذمت اقدام ہے ۔
کوئٹہ شہر کے کئی مسائل ہیں جن میں صفائی کی صورتحال ،پانی کی قلت بے ہنگم ٹریفک کا دباﺅ ،سوئی گیس کے پریشر میں کمی اور شہر کی اکثر سڑکوں کی کشادگی ،اوور فلائی پلز ،اور انڈر پاسز کی تعمیر شامل ہیں ۔
ان مسائل پر متعدد بار لکھا بھی جاچکا ہے اور اس کے حل کےلئے تجاویز بھی متعلقہ حکام کے گوش گزار کی گئیں مگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوسکا اور اس طرح شہر مزید مسائل میں الجھ گیا ۔
اب اگر موجودہ حکومت اس کی جانب خصوصی توجہ دے تو پھر شاید شہر دوبارہ لٹل پیرس بن جائے جوکہ یقینا اس کےلئے ایک خواب سے کم نہیں ہے کیونکہ یہ نعرہ ہر دور میں لگایا گیا اور اس طرح شہر کے باسیوں کو صرف دلاسہ دیتے ہوئے بے وقوف بنایا گیا جوکہ یقینا ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف اقدام ہے امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مسائل حل کروا کرایک تاریخ رقم کرینگے کیونکہ ان مسائل سے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے اور جن سے ان کو چھٹکارا دلانا وقت کی اہم ضرورت اور ناگزیر ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*