گڈ گورننس بیوروکریسی کی ذمہ داری ،کرپشن برداشت نہیں کرونگا،سردار بابر موسیٰ خیل

انٹرویو۔ محب ترین
دوسرے صوبوں کی نسبت بلوچستان کی سیاست مختلف ہے کیونکہ بلوچستان ایک قبائلی صوبہ ہے یہاں اب بھی قبائلی نظام وجود رکھتا ہے صوبے کو ماڈرن سوسائٹی تصور نہیں کیا جاسکتا یہاں زندگی کے ہر شعبے میں کام کرنا انتہائی مشکل ہے جس میں سیاست بھی شامل ہے صوبے میں قوم پرستوں کا ووٹ بنک کافی زیادہ ہے اس دوڑ میں مذہب پرست جماعتیں بھی شامل ہےں دوسری طرف قومی پارٹیوں کے امیدواروں کی کامیابی کے پیچھے پا رٹی کی مقبولیت نہیں بلکہ شخصیت اور حلقے میں اثرو سوروخ ہوتا ہے اگر صوبے میں پارٹیوں کی بات کی جائے تو پشتون بیلٹ میں ہمیشہ مقابلہ تین جماعتوں کے درمیان ہوتا ہے جن میں جمعیت علماءاسلام (ف) ،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی ہے اسی طرح بلوچ بیلٹ میں جمعیت علماءاسلام (ف) ،بی این پی مینگل،بلوچستان نیشنل پارٹی ،بی این پی عوامی اورجمہوری وطن پارٹی ہےں ۔لیکن حال ہی میں بلوچستان میں چند ماہ میں بننے والی ایسی پارٹی میدان میں اتری جس نے حالیہ انتخابات میں حصہ لیکر صوبہ بلوچستان کے پشتون بلوچ اضلاع سے واضح کامیابی حاصل کی اور بلوچستان اسمبلی کی اکثریتی جماعت بنی ۔بلوچستان کی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف اپنا لوہا منوائیگی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا خصوصاً پشتون بیلٹ میں قوم پرست اور مذہب پرست کو شکست دینے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن گزشتہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں انٹری دیکر صوبے کے بیشتر اضلاع سے کامیابی حاصل کی۔اگر بات کی جائے صوبائی اسمبلی کی نشست یعنی ضلع موسی خیل کی تو وہاں کامیابی ہمیشہ قوم پرست اور مذہب پرست جماعتوں کی رہی ہے لیکن گزشتہ انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیوں میں موسیٰ خیل کے ساتھ ضلع شیرانی کو بھی شامل کیا گیا ۔بات کی جائے ضلع شیرانی کی تو اسے ہمیشہ مذہب پرست جماعت کا گڑھ تصور کیا گیا ہے جبکہ وہاں دوسری پوزیشن قوم پرست پارٹی کو حاصل ہے۔موسیٰ خیل اور شیرانی دونوں صوبے کے پسماندہ اضلاع ہیں حالیہ حلقہ بندیوںمیں دونوں اضلاع ایک نشست پر مشتمل ہےں جسے پی بی 1کہا جاتا ہے۔گزشتہ انتخابات کے دوران مذکورہ حلقے پر جمعیت علماءاسلام (ف) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ،پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا اور بالآخرکامیابی پاکستان تحریک انصاف کا مقدر بنی ۔جیسے پہلے ذکر کیا کہ یہاں قومی پارٹی کی مقبولیت کی بناءپر نہیں بلکہ امیدوار اپنی شخصیت اور خاندانی پس منظر کی بنیاد پر کامیاب ہوتے ہیں بالکل اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار جنکا تعلق بلوچستان کے ضلع موسیٰ خےل میں قبائلی فیملی اور آباواجداد سے آبادایک ایسے خاندان سے جنہوں نے حلقے کے عوام کی بلاامتیاز خدمت کو اپنا شیوہ سمجھا ہے ہم بات کررہے ہیں ضلع موسیٰ خیل میں مسیحا کی پہچان رکھنے والے سردار بابر خان موسیٰ خیل کی جو اس وقت بلوچستان اسمبلی کے کم عمر ڈپٹی اسپیکر ہےں ۔انہوں نے 20مارچ 1990کو موسیٰ خیل شہر کے محلے مغل آباد میں سردار عصمت اللہ خان موسیٰ خیل کے گھر میں جنم لیا ۔انکے داد ا سردار عبدالوہاب خان کمشنر بھی رہے ہیں جبکہ چچا سردار حسن موسیٰ خیل تاحال پولیس دیپارٹمنٹ میں بطور ایس ایس پی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سردار بابر خان موسیٰ خےل کی اخلا ص مندی ،محبت، مہمان نوازی ،کردار اور انسانیت کسی سے پوشیدہ نہیں ۔
بلوچستان اسمبلی کے کم عمر ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل سے گزشتہ دنوں روزنامہ میزان کی ٹیم نے ملاقات کی اور تفصیلی انٹرویو کیا۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
سوال ۔ سب سے پہلے آپ ہمیں یہ بتائے کہ آپکی تعلیم کتنی ہے۔؟
جواب۔ میں نے گریجویشن کی ہے ۔کوئٹہ آئی ٹی یونیورسٹی میں ریگولر پڑھ رہا تھا بعد میں کچھ ذاتی وجوہات کی بناءپر یونیورسٹی چھوڑ دی اور B.Aپرائیویٹ کیا ۔
سوال ۔ آپ نے ابتدائی اور ہائیر سیکنڈری تعلیم کہاں سے حاصل کی ؟
جواب۔ میں نے مختلف سکولوں سے تعلیم حاصل کی جس میں ایف سی سکول لورلائی،موسیٰ خیل اور کوئٹہ کا ایجوکیٹر کالج شامل ہیں۔
سوال ۔اسٹوڈنٹ لائف میں شرارتی تھے یا سنجیدہ۔؟
جواب۔ زیادہ شرارتی تھا اور سکول میں دوستوں کے ساتھ بہت شغل کیا کرتا تھا۔
سوال ۔ پڑھائی میں ذہین تھے یا پھر کمزور۔؟
جواب۔ پڑھائی میں ذہین تھا البتہ ایک ہی تعلیمی ادارے سے مسلسل تعلیم حاصل نہیں اور مستقل طور پر تعلیم سے وابستہ نہیں رہا کبھی کبھار تعلیم کے دوران باہر چلا جاتا تھا۔یعنی مسلسل کسی سکول میں دو سال تعلیم حاصل نہیں کی۔
سوال ۔ تعلیم مکمل نہ کرنے کی وجہ معاشی حالات اور مشکلات تھیں یا پھر کوئی اور وجہ؟
جواب۔ معاشی مشکلات نہیں تھی میں ایک سیاسی اور قبائلی شخصیت کا بیٹا ہوں والد صاحب کی سیاسی سرگرمیاں زیادہ تھیں انکے ساتھ ہی زیادہ وقت گزرتا تھا انکے مہمان بھی زیادہ تھے ۔البتہ یہ وجہ تھی کہ تعلیم سے تھوڑا دور رہنا پڑا۔
سوال ۔بچپن میں آپکا مشغلہ کیا تھا۔اور کیا اب بھی کرتے ہو؟
جواب۔ بچپن میں کرکٹ بہت پسند تھا ۔لیکن اب ہارس رائیڈنگ کرتا ہوں چونکہ بچپن میں بھی ہارس رائیڈنگ کا شوق تھا۔
سوال ۔ کیا کبھی شطرنج کھیلی ہے اور سیاست میں شطرنج کے کھلاڑی ہو یا نہیں۔؟
جواب۔ شطرنج کھیلی نہیں ہے البتہ سیاست میں شطرنج کا کھلاڑی ہوں۔
سوال ۔ زندگی کی کوئی ایسی خواہش جو آج تک پوری نہ ہوئی ہو۔؟
جواب۔ نہیں ایسا کوئی خواب نہیں ۔زندگی میں جو چاہا اللہ نے عطا کیا دل و دماغ میں جو خواہش کی پوری ہوئی ہے۔ بچپن میں میری خواہش تھی کہ میں دیوار چین پر جا¶ میں نے خواہش ہی کہ دس دن کے اندر میں وہاںگیا۔اس کی اہم وجہ نیت کا صاف ہونا ہے ۔آج جس کرسی پر بیٹھا ہوں صرف کام کرنیکی خواہش ہے۔
سوال ۔کیا آپکو موسیقی سے لگا ﺅہے،اگر ہاں تو کونسا میوزک سنتے ہیں؟
جواب۔جی بالکل موسیقی بہت پسند ہے، زیادہ تر پشتو ،فارسی،انڈین اور کلاسک میوزک سنتا ہوں۔
سوال ۔ کیا آپ شاعری پسند کرتے ہیں؟
جواب۔شاعری بھی پسند ہے ،اردو اور پشتو شاعری بہت پسند کرتا ہوں۔
سوال ۔بچپن میں ہر کسی کی خواہش ہوتی کے بڑا ہوکر کچھ بنو ۔آپکی خواہش کیا تھی؟
جواب۔ بچپن میں میری خواہش تھی کہ بڑا ہوکر سپورٹس مین بنوں۔
سوال ۔ہر ماں باپ کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ میرا بیٹا بڑا ہوکر فلاں آفیسر بنے ۔آپکے والدین کی خواہش کیا تھی۔؟
جواب۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ آرمی آفیسر بنوں۔
سوال ۔سٹوڈنٹ لائف یا دوستوں کے ساتھ کبھی کہیں پکنک میں کھانا وغیرہ پکایا ہے۔؟
جواب۔ ۔ کھانا پکانا تو نہیں آتا البتہ نوڈلز اور چائے اچھی بنالیتا ہوں۔
سوال ۔بلوچستان میں اور بھی دیگر پارٹیاں وجود رکھتی تھی پھر پی ٹی آئی میں شمولیت کی وجہ کیا تھی؟
جواب۔۔پاکستان تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اس سے پہلے صوبے کے عوام کو دیگر پارٹیوں نے بری طرح مایوس کردیا تھا قوم پرست اور مذہب پرستوں کا کوئی ایسا کام بتائےں جسے عوام سراہتے ہوں۔البتہ عمران خان نے غریبوں کیلئے کام کیا اور کرکٹ میں نمایاں کردار بھی ادا کیا وہ کرپٹ سیاستدان نہیں انہوں نے کبھی اپنی ذات کیلئے کچھ نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کے علاوہ میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا ۔
سوال ۔ آپکی کامیابی کیوجہ پارٹی کی مقبولیت تھی یا پھر خاندانی پس منظر۔؟
جواب۔ ہمارے خاندان کا سیاست میں اہم کردار رہا ہے ۔رہی بات میری کامیابی کی تو اسکے پیچھے خاندانی پس منظر اور شخصیت ہی شامل ہے۔
سوال ۔کیا آپکو سیاسی جماعتوں نے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔؟
جواب۔ مجھے کافی سیاسی جماعتوں نے پارٹی مےں شمولیت کی دعوت دی ہے ۔زرداری صاحب کے ساتھیوں اور مولانا صاحب کے بیٹے اور دیگر سیاستدانوںنے دعوت دی ۔لیکن دل نے جگہ پی ٹی آئی کو دی ہے۔
سوال۔ کیا الیکشن کے بعد پارٹی چیئرمین عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور کیا آپ نے ان سے بلوچستان کے معاملات پر گفتگو کی ہے۔؟
جواب۔ الیکشن کے پانچ دن بعد صوبائی صدر یارمحمد رند کے ہمراہ عمران خان کو مبارکباد دینے کیلئے بنی گالہ گئے وہاں ان سے ملاقات ہوئی مختلف امور پر گفتگو کی گئی انہوں نے کہا کہ کوئی میں پانی کا مسئلہ ہے اس کو جلد حل کراﺅنگا۔چیئرمین صاحب نے بہت غور سے ہماری باتیں سنیں اور ہمیں عزت بخشی۔
سوال ۔الیکشن مہم کے دوران کن عوامی مسائل کا سامنا کیا ۔؟
جواب۔بالکل الیکشن مہم کے دوران مجھے کافی مسائل دیکھنے کو ملے جس میں پانی اور سڑکوں کا مسئلہ سرفہرست ہے میرے حلقے کے لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور ہے۔اسی طرح سڑکیںاور صحت کا شعبہ بھی ابتر تھا۔جلد تمام تر مسائل حل کردیئے جائیں گے۔ سڑکیں خستہ حال ہیں بالکل چلنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ تعلیم ،صحت اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
سوال۔کیا ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ آپکی ذاتی خواہش تھی اور کیا آپ اس عہدے سے مطمئن ہواور کسی دوسرے عہدے کی خواہش تو نہیں۔؟
جواب۔ نہیں ۔ ڈپٹی اسپیکر کے لئے جب مجھے نامزد کیا گیا تو میں نے انکار کیا لیکن پارٹی قیادت نے کہا کہ قبول کرو۔ وفاق میں دیکھا ڈپٹی اسپیکر کو جو عزت ملی میں نے سوچا اس عہدے سے ضرور اپنے علاقے کی خدمت کرونگا۔ لہذا ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر مطمئن ہوں آئین میں دوسرا عہدہ نہیں دیا جاسکتا۔
سوال۔ پچھلے ادوار میں تعمیر وترقی کے کافی بلند وبانگ دعوے کئے گئے کیا آپکے علاقے میں ماضی میں کوئی کام نہیں ہوا۔؟
جواب۔ 2008سے 2018تک 16سے 18ارب روپے ریلیز ہوئے لیکن گرا¶نڈ پر کچھ نہیں ہوا۔
سوال۔کیااقتدار میں آکر عوامی نمائندے انتقامی کارروائیاں شروع کردیتے ہیں۔؟
جواب۔ انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتا انتظامیہ کو کہہ چکا ہوں کہ غلط بات میری بھی نہ مانو ۔گڈ گورننس بیوروکریسی کی ذمہ داری ہے اور کرپشن برداشت نہیں کرونگا۔
سوال۔ آپکی نظر میں صوبے سے بے روزگاری اور پسماندگی کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا۔؟
جواب۔ دیکھئے صوبے 30سے 35ہزار پوسٹیں پینڈنگ میں ہےں جب یہ ملیں گی کو انشاءاللہ بہت بوجھ کم ہوگااور بے روزگاری کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔
سوال۔آپکی جماعت میں اندرونی اختلافات نظر آرہے ہیں کیا ان اختلافات سے پارٹی غیر مستحکم نہیں ہوگی۔؟
جواب۔ دیکھئے اختلافات ہر پارٹی میں ہےں ہم اس وقت عمران خان کے وژن کے ساتھی ہیں پارٹی چیئرمین نے سردار یار محمد رند کو صوبہ بلوچستان کا صدر منتخب کرایا ہے ہمیں قبول ہے۔
سوال۔ کیا آپکی نظر میں بلوچستان کی حکومت اپنا ٹائم پوری کریگی۔اور اپوزیشن کے بارے میں کیا کہنا پسند کرینگے؟
جواب۔ انشاءاللہ بلوچستان کی حکومت اپنی مدت پوری کریگی۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر جائیں گے ہم نے حکومت کو اتنا ٹائم نہیں دیا جتنا اپوزیشن کو دیا ہے ۔
سوال۔صوبے کے دیگر اضلاع میں اسٹوڈنٹ کو سکالرشپ نہیں مل رہے کیا یہ اسٹوڈنٹس کی حق تلفی نہیں۔؟
جواب۔ اسٹوڈنٹس کو سکالر شپ ملنی چاہئے اس کے لئے مزید اقدامات اٹھائیں گے ۔ سکالرشپ کم سے کم 60سے 80ہزار ہونی چاہئے۔
سوال۔ پی بی 1میں آپکے مخالف امیدوار نے الیکشن ٹریبونل میں کیس کر رکھا ہے کیا آپ کوسرخروہونے کی امید ہے۔؟
جواب۔ کرسی اللہ نے دی ہے جس مقام پر ہوں پہلے اللہ اسکے بعد عوام کا احسان ہے جنہوں نے مجھے یہاں تک پہنچایا آج تک کسی کا حق کھایا نہ کرپشن کی اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی کرپشن کی ایک پائی مجھ پر ثابت نہیں ہوگی مخالفین نے کیس بیلٹ پیپرز ایشو نہ ہونے پر کیا ہے جو کہ کوئی خاص مسئلہ نہیں۔
سوال۔الیکشن میں حلقہ بندیوں سے کس حد تک مطمئن تھے اور خصوصاًآپکا حلقہ کیسا تھا۔؟
جواب۔ حلقہ بندیوں میں پشتون بیلٹ کے ساتھ بہت ناجائز ہوا میراحلقہ PB-1کو دواضلاع موسیٰ خیل کم شیرانی پر مشتمل ہے ۔حلقے کو فنڈ ایک ضلع کا دیا جائیگا جو کہ غلط ہے۔
سوال ۔ وفاق سے صوبے بالخصوص اپنے حلقے کیلئے کس چیز کی ڈیمانڈ کرینگے۔؟
جواب۔ وفاق میں NHAسے موسیٰ خیل کیلئے روڈ ،گرین موسیٰ خیل کیلئے درختیں اور کیڈیٹ کالج کی ڈیمانڈ کرونگا اور انشاءاللہ تمام پر جلد کام بھی شروع کرونگا۔
سوال ۔ آپ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک ) کو کس نظر سے دیکھتے ہو۔؟
جواب۔سی پیک صوبے کیلئے گیم چینجر ہے اس میں بلوچستان کا بہت فائدہ ہے ۔
سوال ۔ چھوٹی انگلی میں پہنی انگوٹھی کہیں عمران خان کا اسٹائل اپنانا تو نہیں۔؟
جواب۔ نہیں یہ انگوٹھی میرے دوست نے مجھے دی اور کہا اسے اتارنا مت دوسری انگلیوں کی نسبت اس میں اچھی لگی تو پہن لی۔
سوال ۔ کیا آپ نے زندگی میں کبھی کسی سے محبت کی ہے اگر ہاں تو کس سے ۔؟
جواب۔ میں نے زندگی میں محبت اپنی دھرتی اور پاک وطن سے کی ہے یہ وطن ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ملا ہے ۔
سوال ۔پاک فوج اور ایف سی نے قیام امن میں اہم کردار ادا کیا ہے۔آپ کیا کہیں گے۔؟
جواب۔ اس میں کوئی شک نہیں پاک فوج نے ملکی دفاع کی خاطر کافی قربانیاں دی ہیں اور امید ہے سیکورٹی فورسز مستقبل میں بھی قوم کی بقاءکیلئے اپنا مشن جاری رکھیں گے۔
سوال ۔آخر میں عوام اور قارئین کے نام کیا پیغام دینا چاہیں گے ۔؟
جواب۔ صوبے بھر کے عوام انتہائی باشعور ہیں صبروتحمل کا مظاہرہ کریں ہم نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں انہیں ہر صورت پورا کریں گے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*