پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ماہ اکتوبر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اس کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کرتے ہوئے کہا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ ماہ برقرار رہیں گی ۔حکومت عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی اس لئے قیمتیں برقرار رکھیں ۔
قبل ازیں آئل اینڈر ریگولیٹری اتھارٹی اوگرانے عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہونے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجی تھی جس میں پیٹرولیم کی قیمت میں 4روپے 50پیسے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4روپے مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں میں 3روپے 50پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی تھی ۔
وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ بلاشبہ ایک خوش آئند اور قابل تعریف اقدام ہے حکومت کے اس فیصلے سے عوام ملک میں بڑھنے والے ایک مہنگائی کے طوفان سے بچے گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگا ئی میںاضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات عام زندگی میں ضرورت نہ صرف امیروں کی بلکہ غریبوں کی بھی ہے اس کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ جاتے ہیں جس کا براہ راست اثر عام استعمال کی روز مرہ کی چیزوں پر پڑتا ہے اور اس سے غریب عوام بھی شدید متاثر ہوتے ہیں چونکہ ان کا بجٹ بڑی طرح متاثر ہوتا ہے جس کاا ن کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔
وفاقی حکومت نے ماہ اکتوبر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان کی قیمتوں میں مزید کمی کرنے کے اقدامات کرنے چاہےے اگر حکومت یہ اہم اقدام کرتی ہے تو اس سے عوام کو بہت بڑا ریلیف ملے گا جس کا موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے متعدد بار وعدہ بھی کیا ہے اب چونکہ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو بھر پور مینڈیٹ دیکر اقتدار سونپا ہے اور وہ پر امید ہےں کہ انہوں نے ملک میں تبدیلی آنے کے نعرے کو تقویت بخشی ہے اس لئے اس نعرے پر عملی طور پر عملدر آمد ہونا چاہےے اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہوئی تو یہ اس کےلئے اچھا شگون نہیں ہوگا۔
اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اسے بھر پور ریلیف دےنے کے مزید اقدامات کرنے چاہئیں جن میں عام مارکیٹ میں عام روز مرہ کی استعمال کی اشیاءکی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کا نہ ہونا ہے مارکیٹوں میں تاجر اپنی مرضی سے ان اشیاءکے نرخ مقرر کرکے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں کیونکہ ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اس لئے حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کرکے ایک عوامی حکومت ہونے کا ثبوت دینا چاہےے ۔اور اس کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہےے کیونکہ عوام نے موجودہ حکومت سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*