نیب پراسیکیوشن پر سوالات کیوں؟

تحریر:محمد اکرم چوہدری
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ گزشتہ قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ وہ اپنے طاقتور لوگوںکو ا±ن کے جرائم کی سزا سے محفوظ رکھتی تھیں اور اپنے معاشرے کے کمزور لوگوں پر سزائیں مسلط کرتی تھیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔ اسی لیے حضرت علی نے کہا ہے کہ معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں مگر انصاف کے بغیر نہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ انصاف کرو کیوں کہ انصاف ”تقو ےٰ“ کے قریب ہے۔ مگر پاکستان کے روایتی سیاستدانوں کے نزدیک انصاف وہ ہے جو ”بٹوے“ اور ”ڈنڈے“ کے قریب ہے۔ ان کے لیے ان کے مفادات ہی ان کا مذہب ہیں۔ ان کی فکری گمراہیاں ہی ان کا الہام ہیں۔ یقین مانیں بطور معاشرتی رکن کے ہمیں ا±س وقت شرم محسوس ہوتی ہے جب دنیا ہماری کرپشن کو آشکار کرتی ہے، جب عالمی رینکنگ میں ہماری کرپشن کی داستانیں رقم ہوتی ہیں، جب قوم کا کھربوں روپیہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، جب یہ علم ہوتا ہے کہ کرپشن ختم کرنے والا ادارہ کمزور ”نیب“ پراسیکیوشن کی وجہ سے خود تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے، جب نیب پریہ الزام لگتا ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ اونے پونے ڈیل کرکے خود ملزمان کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور سب سے زیادہ شرم ا±س وقت محسوس ہوتی ہے جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کا سربراہ یہ کہتا ہے کہ نیب کوعدالت نے بہت سپورٹ کیا ہے، نیب سوائے آنے جانے کے کرہی کیا رہا ہے؟نیب کوئی ایک کیس بتائے جومنطقی انجام تک پہنچایا ہو، فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی گرفتاری سے کیا نتیجہ نکلا؟ قوم کوعلم ہونا چاہیے خلاف ضابطہ تقرری کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا؟ نیب سے صرف تحقیقات کرنے اورریفرنس دائر کرنے کی خبرآتی ہے، کیا نیب کا گند اب عدالت کو صاف کرنا ہے؟ نیب سے نتائج درکار ہیں، نیب کا ڈھانچہ تبدیل کرنا ہوگا۔جب اس سطح پر بات ہو تو یقینا وہ موضوع سخن ضرور بنتی ہے ورنہ میرے ایک بزرگ دوست کبھی یہ بات نہ کہتے کہ جب ہم نے 60اور 70کی دہائی میں بڑے بڑے کام کیے، ڈیم بنائے، صنعتوں میں ترقی ہوئی، اس وقت نیب تھا نہ کوئی سوموٹو ایکشن لیا جاتا تھا۔ میں ا±س وقت تو بات کو ”کور“ میں رکھنے کے لیے کہہ دیا کہ اس وقت حکمرانوں کی آنکھ میں بھوک نہ تھی۔ وہ سرکاری مال کو اپنی ذات اور اپنے خاندان پر خرچ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ قائد اعظم سے لے کر عبدالرب نشتر تک۔ لیاقت علی خان سے لے کر چودھری محمد علی تک۔ ایوب خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک۔ کسی پر کرپشن کا الزام نہ تھا۔ چونکہ حکمران دیانت دار تھے اس لیے بیورو کریسی میں بھی خیانت کی جرات تھی نہ رواج۔ وفاقی سیکرٹری، سرکاری گاڑی ذاتی استعمال میں لاتا تھا تو کرایہ سرکاری خزانہ میں جمع کراتا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ سیکرٹری خزانہ یا وزیر خزانہ اگر انکار کر دیتا تھا تو اسے وزیر اعظم یا گورنر جنرل، یا صدر فیصلہ بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا! غضب کا مالیاتی ڈسپلن تھا۔ سربراہ حکومت کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون نہیں بن جاتا تھا۔ یہ باتیں کہہ کر میں اپنے تئیں یہ بات سوچنے پر ضرور مجبور ہو اکہ آخر کوئی نہ کوئی تو خامی ہوتی ہے کہ جس سے ادارہ یا شخصیت ناکام ہوتی ہے۔پھر مجھے وہ نیب کی جانب سے 450ارب روپے کے 150کیسز کی کہانی بھی یاد آگئی جب نیب نے عدالت عظمیٰ میں بغرص ثبوت 150سیاستدانوں اور بیورو کریٹس پر الزامات لگا کر اپنے ادارے کو ہی سوالیہ نشان بنا دیا تھا۔ پھر مجھے حالیہ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی حالیہ سزا معطلی کا کیس بھی یاد آگیا۔ لیکن پاکستان کے احتساب کے اداروں نے جنگل کے قانون کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس کیس میں تو موجودہ حکومت بھی یہ کہتی نظر آئی کہ نیب کے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے اپنا مقدمہ ٹھیک طرح پیش کرنے میں ناکام رہے۔ وہ شریف خاندان کے جرائم کے سلسلے میں ٹھوس شہادتوں کو سامنے نہ لاسکے۔ چنانچہ نیب کے کان کھینچنے کی ضرورت ہے۔ فرض کیجیے کہ استغاثہ نے واقعتا وہی کیا جو ذرائع ابلاغ میں موجودافواہوں نے کہا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا استغاثہ نے ازخود ایسا کیا؟جب نیب چیئرمین کو علم تھا کہ اتنا بڑا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چل رہا ہے تو انہوں نے عام نیب وکلاءکے بجائے ملزم کے وکلاءکے برابر وکلائکو ہائیر کیوں نہ کیا؟موجودہ نیب چیئرمین اس ٹیم کو تبدیل یا اس کی معاونت کو اچھے وکیل دے سکتے تھے۔افسوس یہ ہے کہ اب بھی پاکستان میں کسی بھی بدعنوان کو قانون کا کوئی ڈر نہیں۔اول تو پکڑے نہیں جاتے اگر گرفتار ہوتے ہیں تو ناقص تفتیش سے باعزت بری ہوکر ساری زندگی اپنی ایمانداری کا اعلان کرتے پھر لوٹ مار پر لگ جاتے ہیں۔بظاہر اس کی تمام تر ذمہ داری نیب پر عائد ہوتی ہے کیونکہ نیب کی پراسیکیوشن کافی مشکوک اور غیر تسلی بخش رہی۔ نیب کے وکیل نے انتہائی کمزور دلائل دے کر جیتا ہوا کیس ہاردیا۔ مگر صورتحال اتنی سادہ نہیں کہ تمام تر ذمہ داری نیب کی کمزور پراسکیوشن پر ہی ڈال دی جائے کہ یہاں سب کچھ بکتا ہے۔اس کیس کی پراسیکیوشن نیب جیسا آزاد و خود مختار ادارہ کررہا تھا جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدعنوان عناصر کا احتساب کرے۔ کیا نیب کو اپنے پراسیکیوٹر کی کارکردگی پر ذرا بھی شک نہیں ہوا؟ جبکہ میڈیا میں اکثر نیب پراسیکیوشن کوغیر تسلی بخش قرار دیاجاتا رہا۔ نیب پراسکیوٹر ثابت شدہ جرم ثابت کرنے میں ناکام کیوں رہا ؟ اگر نیب اتنی ہی معصوم ہے کہ انہیں پتا ہی نہ چل سکے کہ ان کی ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے تو پھر وہ اپنی کارکردگی کا اندازہ خود لگا لیں۔ نیب کا تو اس کیس میں حال قوم کو بقول شاعر ایسا لگا جیسے
کھڑی ہوئی ہے مصلّے پہ با وضو ہو کر
برے ہوں دن تو عبادت گزار ہے دنیا
مذکورہ کیس کے فیصلے کے بعد ”نیب “ نے نیک نیتی یا بدنیتی سے سپریم کورٹ جانے کا فیصلے کیا تو وہاں سے جھڑکیں کھانے کے بعد خاموشی سے بیٹھ گئی۔ نیب کو ابھی بھی چاہیے کہ اپنی تمام تر توجہ العزیزیہ اور فلیگ شِپ ریفرنسز پر مرکوز کر دے کیونکہ ایون فیلڈ ریفرنس میں کچھ باقی نہیں بچا۔باقی سمجھدار کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔نیب کے ملزمان کی یہ عجیب و غریب منطق بہت ہی گھٹیا ثابت ہوتی ہے کہ ”ملزم “ یہ کہے کہ کوئی کرپشن ثابت نہ ہو سکی۔ سوال یہ ہے کہ الزام کیوں لگا؟ ثابت نہ ہو سکنے کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ کرپشن نہیں کی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔
دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں آگ ہو! آخر کرپشن کا الزام قائد اعظم پر کیوں نہیں لگا۔ عدالتوں میں لیاقت علی خان کیوں نہ گھسیٹے گئے۔ عبدالرب نشتر۔ مولوی تمیزالدین خان۔ نور الامین۔ فضل القادر چودھری، صبور خان، ان سب پر کرپشن کے الزامات کیوں نہ لگے؟ ذوالفقار علی بھٹو پر کرپشن کا الزام کیوں نہ لگا۔ نصیر اللہ بابر پر کیوں نہ لگا؟ قمر زمان کائرہ، راجہ ظفر الحق پر کرپشن کے الزامات کیوں نہ لگے؟ اس لیے کہ کرپشن کے الزامات انہی پر لگتے ہیں جو کرپشن کرتے ہیں!میرے خیال میں اگر سیاستدان اور جمہوری حکومتیں اقتدار میں آ کر اپنے اوپر چیک اینڈ بیلنس خود ہی رکھ لیں تو شائد ان پر ایسے سنگین الزامات نہ لگ سکیں۔اور اپنے اوپر چیک اینڈ بیلنس رکھ کر ہی اداروں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ورنہ اس فرسودہ نظام پر بھی ایک نظر ڈالیں تو ناقص پراسیکیوشن کی وجہ سے جعلی بینک اکاونٹس کیس، بلدیہ فیکٹری کیس، ڈاکٹر عاصم حسین کیس، ماڈل ٹاون کیس، آشیانہ ہاﺅسنگ اسکیم اور صاف پانی کرپشن کیس پر پیش رفت نہ ہونا انتہائی مایوس کن ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*