حکومت کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے،صدر چیمبرآف کامرس

اسلام آباد (کامرس ڈیسک)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کاروبار کی لاگت کو کم کرنے کیلئے فوری مطلوبہ اقدامات اٹھائے تا کہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے اور معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتدار سنھبالنے کے بعد پہلے ہی ماہ میں گیس کی قیمت میں 40سے 143فیصد اضافہ کر دیا ہے اور اب بجلی و تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرنے پر غور ہورہا ہے جس سے کاروباری برادری میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ان اقدامات سے کاروبار کی لاگت میں مزید اضافہ ہو گا، صنعت و تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، برآمدات میں مزید کمی ہو گی اور معیشت کو بہتر کرنے کی تمام کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ احمد حسن مغل نے کہا کہ کامیاب ممالک میں پیداواری سرگرمیوں، تجارت، سرمایہ کاری، برآمدات اور معیشت کی بہتر ترقی کیلئے نوائی کی قیمت مناسب سطح پر رکھی جاری ہے لیکن پاکستان میں پہلے ہی صنعتی و کاروباری طبقے کیلئے توانائی کی قیمت خطے میں سب سے زیادہ ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مہنگی ہونے کی وجہ سے ہماری مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کو اس وقت شدید تجارتی و مالی خسارے کا سامنا ہے اور اس کو کم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ برآمدات کو فروغ دینا ہے تاہم انہوںنے خبردار کیا کہ اگر بجلی و تیل کی قیمتوں میں مزید کوئی اضافہ کیا گیا تو اس سے ہماری برآمدت بہت متاثر ہوں گی اور معیشت کونقصان پہنچے گا۔ لہذا انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ معیشت کو مزید مسائل سے بچانے کیلئے بجلی و تیل کی قیمتوں میں مزید کوئی اضافہ کرنے سے گریز کرے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر بجلی تیل سے پیدا کی جاتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہمارے روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے جس وجہ سے تیل سے پیدا ہونے والی بجلی پیداواری شعبے کیلئے سب سے مہنگی ثابت ہو رہی ہے اور عام آدمی کیلئے مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے۔ لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہوا، پانی اور شمسی توانائی سمیت دیگر سستے اور متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی کوشش کرے جس سے سستی بجلی پیدا ہو گی، کاروبار کی لاگت میں نمایاں کمی ہو گی، پیداواری سرگرمیوں اور برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی اور معیشت کیلئے فائدہ مند نتائج پیدا ہوں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*