ترقی کا عمل صاف و شفاف ہو گا،وزیر اعلیٰ بلوچستان

Mir Jam Kamal Khan

زیارت(خ ن)بلوچستان عوامی پارٹی کے چیئرمین وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ہماری سیاست کا پیمانہ صاف وشفاف ترقیاتی عمل کے ذریعے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرکے ان کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے، حقیقی ضروریات کے مطابق منصوبے مرتب کرکے ان کے معیار اور بروقت تکمیل کی نگرانی کی جائے گی تاکہ لوگ خود گواہی دیں کہ واقعی یہ معیاری منصوبے ہیں، بلوچستان ہم سے بہت کچھ مانگ رہا ہے، ہم اپنے وسائل کو عوام کے لئے استعمال کریں گے، ان خےالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے زیراہتمام ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ میں منصوبہ بندی کرکے بلوچستان کے تمام علاقوں کا دورہ کررہے ہیں تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلےز پر حل ہوں،ہماری اجتماعی سوچ ہے ، ماضی میں منصوبے صرف کاغذوں کی حد تک تھے ،زمےن پر کچھ نہیں نظر آرہا تھا،ہم نہ صرف منصوبے شروع کریں گے بلکہ ان کو صاف شفاف انداز میں پاےہ تکمےل تک پہنچائیں گے اورجلد ہی ترقےاتی منصوبوں کے ثمرات سے عوام مستفےد ہوں گے ،ماضی میں قوم پرستی ،مذہب ،رنگ اور نسل کی بنےاد پر سےاست کی گئی اور بلوچستان کو پسماندہ رکھا گےا، خزانے میں سو روپے تھے اور پانچ ہزار روپے کے منصوبے بنادیئے گئے ٹینڈر کیا افتتاح ہوا، تختی لگی، تصویریں کھینچی گئیں، چار دن مشینری چلی اور پھر کام بند ہوگیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ساڑھے تین ہزار سے چار ہزار تک اسکیمیں ایسی ہیں جن کے لئے فنڈز دستیاب نہیں،صوبے کو اس مقام تک کسی اور نہیں ہم نے پہنچایا ہے جس کا الزام ہم کسی اور کو نہیں دے سکتے، قوم پرست کہتے ہیں کہ وفاق نے ظلم کیا لیکن یہ ظلم ہم نے خود کیا۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لئے دوسروں پر تنقید کرکے عوام کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے، ہم نے سرخی پوڈر کی سیاست نہیں کرنی، جو کریں گے وہ نظر آئے گا، انہوں نے کہا کہ عوام بھی ترقی کو سیاست کا پیمانہ بنائیں او رجو اس پیمانے پر پورا اترے اس کو سپورٹ کریں، وزیراعلیٰ نے کہ جب ہم نے ترقی کی بات شروع کی تو دوسروں نے بھی اس کی پیروی شروع کردی، اب قوم پرست اور دینی جماعتیں بھی ترقی کی بات کررہی ہیں، کیونکہ ہم نے سیاست کا رخ ترقی کی جانب موڑ دیا ہے، انہوں نے کہا کہ قومیں افراد پر مشتمل ہوتی ہیں قوم پرست بتائیں کہ جب قوم کا فرد زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے تو ایسی قوم پرستی کا کیا فائدہ ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمارتیں بنانا مشکل نہیں اصل کام لوگوں کا ذہن بنانا ہے ، دہشت گردوں نے زیارت ریذیڈنسی تباہ کی جسے ہم نے چار ماہ میں دوبارہ بنادیا لیکن جن معاشروں میں ذہن اور سوچ کمزور ہ اسے بنانے میں صدیاں لگ جاتی ہیں، انہوں نے کہا کہ اب اسکولوں کی جگہ سڑک اور ہسپتال کی جگہ کمیونٹی ہال نہیں بنے گا۔ ہم نے اےک بہتر طرزعمل اورمثبت سوچ کے ساتھ کا م کا آغاز کےا ہے اور جلد اس میں سرخرو ہوں گے ،ماضی کی حکومت میں صرف منصوبوں کا افتتاح ہوتا تھا ،اب ےہ کام نہیں چلے گا ،ترقی کا عمل صاف وشفاف ہوگا،چےزوں پر خود نظر رکھیں گے ،ترقےاتی منصوبے عوام کی ضرورت کے پےش نظر شروع کرےں گے جہاں پر اسکول کی ضرورت ہوگی وہاں پر ہسپتال نہیں بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کی راہیں بلوچستان سے ہوکر گزرتی ہےں ،موجودہ صوبائی حکومت اےک وژن کے مطابق بلوچستان کی پسماندگی کو دور کرنے کے لےے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت ملک اور صوبے کی ترقی،عوام کے روزگار میں رےڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتا ہے ،ضلع زےارت کے زمےنداروں کے مسائل حل کئے جائیںگے،خشک سالی اور زراعت کے حوالے سے ہم اےک طرےقہ کار بنارہے ہیں ،اےرانی سےب کی برآمد پرپابندی کا معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھائیں گے اس حوالے سے ہم نے وزےر اعظم سے بات کی ہے آئندہ چند دنوں میںوزےر اعظم بلوچستان کادورہ کررہے ہیں اس مسئلے کو وزےر اعظم سے بات کرکے حل کرےں گے،زےارت ،سنجاوی ،ہرنائی کے انٹر کالج کے قےام کے حوالے سے لائحہ عمل طے کےا ہے ،صحت کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو اس طر ح فعال کرےں گے ،کہ اےک مرےض کو اےک اےکسرے ،ٹےسٹ اور اےک چھوٹی سی سرجری کے لےے کوئٹہ نہ جانا پڑےں،ہسپتالوں کو ٹھےک کرےں گے ،جعلی ادوےات کے کاروبار کو بند کرےں گے ، ضلع زےارت میں مواصلات کو بہتر بنائیں گے اور عوام کو سفری سہولےات میں آسانی دےں گے ،ضلع زےارت اےک خوبصورت علاقہ ہے ،صنوبر کے خوبصورت جنگلات کی وجہ سے سےاح زےارت کا رخ کرتے ہیں ،اگر ہم سےاحت کو ٹھےک طرےقے سے استعمال کرےں تو زےارت میں کوئی بھی شخص بےروزگار نہیں رہے گا،بجلی کے حوالے سے ہم نے وزےر اعظم کو بتا دےا ہے کہ پورے بلوچستان کی بجلی ٹھےک کرنی ہے اوربجلی میں توسےع کرنی ہے ،سنجاوی میں مےونسپل کمےٹی کے قےام کے حوالے سے بات کرکے اسے عمل کو پورا کرےں گے،ضلع زےارت کے فٹبال اسٹےڈےم کو گراسی کرےں گے ،صحت مند سرگرمےوں کو فروغ دےں گے،انہوں نے کہا کہ ضلع زےارت کے عوام نے حاجی نورمحمد دمڑ کو کامےاب کرکے اےک اچھا نمائندہ چنا ہے ،جس میں کام کرنے کا جذبہ موجود ہے ،صوبائی وزےر پی اےچ ای حاجی نورمحمد خان دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم وزےر اعلٰی بلوچستان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ان کی درخواست پر زےارت کا دورہ کےا اور وزےر اعلیٰ جلد ان کی درخواست پر سنجاوی اور ضلع ہرنائی کا دورہ کرےں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزےر اعلٰی بلوچستان جام کمال خان کے داداجام مےر غلام قادر مرحوم نے ضلع زےارت کو ضلع کا درجہ دےا تھا اور ضلع زےارت کے عوام پر بہت بڑا احسان کےا ،اس طرح ان کے والد جام ےوسف مرحوم نے ہرنائی کوضلع کا درجہ دےا تھا جس پر ہم ان کے ہمےشہ مشکو ررہیں گے ،صوبائی وزےر حاجی نورمحمد دمڑ نے سپاسنامہ بھی پےش کےا اوروزےر اعلیٰ بلوچستان کو اپنے حلقے کے عوام کے دےرےنہ مسائل سے آگاہ کےا۔صوبائی وزےر سردار عبدالرحمان کھےتران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وزےر اعلیٰ بلوچستان کی قےادت میں عوام کے مسائل کے حل کے لےے بھرپور کردار ادا کررہی ہے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کررہی ہے ۔صوبائی مشےر مٹھا خان کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے خادم ہیں عوام کی حقےقی نمائندگی کررہے ہیں عوام کے مسائل کے حل کے لےے ہر فورم پر آواز بلند کرےں گے۔اس موقع ،اراکےن اسمبلی حاجی محمد خان لہڑی،مےر سکندر عمرانی پرنس احمد علی ،چےف سےکرٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذےر ،کمشنر سبی ڈوےژن محمد اےاز مندوخےل ،ڈپٹی کمشنر زےارت قادر بخش پرکانی اورتحصےل صدر حبےب اللہ پانےزئی بھی موجود تھے دریں اثناءوزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبے کے بے پناہ قدرتی وسائل کو استعمال نہ کر کے ہم کفران نعمت کے مرتکب ہو رہے ہیں اگر ان وسائل کو ترقی دینے کے لئے سنجیدہ اقدامات کیئے جاتے تو آج ہم پسماندگی کا رونا نہ رو رہے ہوتے بلکہ بلوچستان ملک کا ترقی یافتہ ترین صوبہ ہو تا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے زیارت کے سیاحتی مقامات کے دورے اور ترقیاتی منصوبوں کے معائینہ کے دوران کیا۔صوبائی وزراءوارکین اسمبلی چیف سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے پراسپیکٹ پوائینٹ اور دیگر تفریحی مقامات کا دورہ کر کے سہولیات کا جائیزہ لیا اور ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہی حاصل کی۔وزیراعلیٰ سے علاقے کے لوگوں نے بھی ملاقات کی اور انہیں زیارت ہرنائی روڈ کے منصوبے کی عدم تکمیل بجلی پانی صحت اور تعلیم کے مسائل سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ نے سیاحتی مقامات کی زبوں حالی پر افسوس کا اظہار کیاانہوں نے کہا کہ اگر زیارت کا مقام کسی ترقی یافتہ ملک میں ہوتا تو شائد اس کا شمار دنیا کے بہترین سیاحتی مراکز میں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم زیارت کو ترقی یافتہ بناکر نہ صرف علاقے کے عوام کو بنیادی سہولتیں دیں گے بلکہ اسے ایک بہترین سیاحتی مرکز بنایا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب تک انہوں نے صوبائی کابینہ کے اراکین کے ہمراہ جن علاقوں کے بھی دورے کئے اور منصوبوں کا معائنہ کیا انہیں مایوسی ہوئی ، ہم اتنے مایوس ہوئے ہیں تو عوام کی مایوسی کا کیا عالم ہوگا جنہیں عرصہ دراز سے نعروں کے ذریعہ بہلایاجاتا رہا ہے،اس جدید دور میں بھی ہمار ے عوام سخت اور مشکل زندگی گزاررہے ہیں، جبکہ ترقی کے نام پر اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں، عوامی ضروریات سے ہٹ کر منصوبوں نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے او رکوئی بھی اس کی ذمہ داری لینے اور جوابدہی کے لئے تیار نہیں، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر زیارت کے لئے ایک مکمل ترقیاتی پیکج تیار کرنے، سیاحوں کو سہولتوں کی فراہمی اور مختلف مقامات پر چیئر لفٹ لگانے کی ہدایت بھی کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*