کیا پارلیمانی ہے اور کیا نہیں

تحریر:ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
ایک چونکا دینے والی خبر ہے کہ عمران خان نے خاتون اول بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر سے ایک بیٹی کو اپنا معاون خصوصی لگا دیا ہے۔ اس کی لاکھوں روپے تنخواہ ہے۔ اگر یہ افواہ نہیں تو عمران خان‘ بشریٰ بی بی اور اس کی بیٹی کو مبارک ہو۔نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں نوائے وقت کی ایک قابل ذکر اور پسندیدہ کالم نگار‘ ادیب اور شاعرہ عارفہ صبح خان کا انٹرویو شائع ہوا ہے۔ انٹرویو سنڈے میگزین کے انچارج خالد یزدانی نے کیا ہے۔ اس کیلئے ہم سعید آسی اور چیف ایڈیٹر رمیزہ مجید نظامی کیلئے بھی شکرگزار ہیں کہ ایسا بالعموم اخبارات میں نہیںہوتا۔ یہ ایک اچھی روایت ہے۔
عارفہ ایک اچھی مزاح نگار بھی ہیں۔ بالعموم عورتوں میں مزاح نگاری کا رجحان بہت کم ہے۔ یہ بہت بڑی انفرادیت ہے اور دلیری بھی ہے۔ عارفہ کہتی ہے کہ میں مزاح زندگی کے تلخ حقائق سے کشید کرتی ہوں۔ ایک بڑے مزاح نگار کرنل محمد خان نے عارفہ صبح خان کیلئے کہا تھا کہ وہ خواتین کی پطرس بخاری ہیں۔ یہ بات عارفہ کیلئے ایک اعزاز ہے۔ عارفہ ہماری کولیگ ہیں مگر اس کیلئے کئی باتوںکا اس انٹرویو سے علم ہوا ہے۔ عارفہ نے پی ایچ ڈی بھی کی۔ تنقید میں تخلیق کرنا ایک اچھوتا ادبی عمل ہے۔ عارفہ کے اس مقالے سے بہت استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
صدر پاکستان عارف علوی کو اب پتہ چلا ہے کہ صدر بننا آسان ہے مگر اپنی زمین پر قبضہ چھڑوانا بہت مشکل ہے۔ خدانخواستہ کوئی اگر ایوان صدر پر قبضہ کر لے تو پھر صدر عارف علوی کیا کریں گے۔پیپلزپارٹی خاص طورپر اور (ن) لیگ کے سیاستدان بھی عمران خان اور تحریک انصاف پر دھاندلی کے الزام لگا رہے ہیں۔ یہ الزام تو برسراقتدار حکومت پر لگتے ہیں۔ عمران خان مسلسل (ن) لیگ پر الزام لگاتے رہے اور صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے مگر (ن) لیگ نے ایک بھی حلقہ نہ کھولا۔ اب تو باقاعدہ دھاندلی کی تحقیقات ہونے والی ہیں۔ پرویز ملک بہت آگے آگے ہیں۔ان سے گزارش ہے کہ کوئی اور بات کریں۔وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے وہی اعلان کیا ہے جو تحریک انصاف کے اکثر سیاستدان خواتین و حضرات کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملاقات ہے‘ مگر اب وہ وزیر ہو گئی ہیں۔ شکر ہے کہ ابھی وزیر شذیر نہیںہوئیں مگر ان سے رابطہ نہیں ہے۔ ان لوگوں کے ملازمین جھوٹ بولنے میں اپنے وزیروں اور امیروں سے بہت آگے ہوتے ہیں۔ یاسمین راشد نے کہا کہ ہم انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔ فی الحال کوئی قابل ذکر تبدیلی ہی لائیں۔ وہی کچھ ہو رہا ہے جو پہلے ہوتا تھا۔ پاکستان میںہر طرح کے حکمرانوں کا ایک ہی معمول ہے۔ اقتدار ہو تو ایوان‘ اقتدار سے ہٹ جائیں‘ تو عدالت اور جیل۔تحریک انصاف کے فیصل واہڈا نے کہا ہے کہ اسمبلی میں جو مشاہد اللہ خان نے زبان استعمال کی ہے‘ اس کیلئے اسے کوڑے مارنا چاہئیں۔ فیصل واہڈا نے اپنی پارٹی تحریک انصاف کے فواد چودھری کا ”دفاع“ کیا ہے کہ انہوں نے بہت سادہ زبان استعمال کی ہے۔ کرپٹ لوگوںاور لوٹ مار کرنے والوں کو چور اور ڈاکو نہ کہا جائے تو کیا انہیں فرشتہ کہا جائے۔خورشید شاہ اب بھی اپنے آپ کو قائد حزب اختلاف سمجھتے ہیں۔ وہ بہت بپھرے ہوئے تھے جیسے انہیں چور اور ڈاکو کہاگیا ہو۔ کوئی ہے جو پارلیمانی اور غیر پارلیمانی کا فرق بیان کرے۔ ایک لفظ ایک سیاسی جماعت کیلئے پارلیمانی ہے‘ دوسری پارٹی کیلئے غیرپارلیمانی ہے۔”وزیراعظم ملک پر بوجھ ہیں۔“ پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی نے یہ بات کہی ہے۔ وہ ایک سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ یہ بات ہر حکمران کیلئے کہی جاتی ہے جو اقتدار میں ہوتا ہے۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ڈاکو غیر پارلیمانی نہیں تو پھر لفظ ”کمینہ“ بھی غیر پارلیمانی نہیں۔ یہ شعر بھی کسی رکن اسمبلی کا نہیں‘ حبیب جالب کا ہے۔جب کمینے عروج پاتے ہیں‘ اپنی اوقات بھول جاتے ہیںچور‘ چوروں کا ماموں پیپلزپارٹی میںہے۔ میری عمران سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی تربیت کریں۔ اب محسوس ہوتا ہے کہ فواد چودھری نے اپنے الفاظ واپس لے لئے۔ ثابت کیا کہ انہوں نے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے ہیں۔رانا ثناء اللہ کی سنئے۔ وہ کہتے ہیں شاہ محمود قریشی کا رویہ بھیک مانگنے والے فقیروں جیسا ہے۔ رانا صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ بھیک تو ہمارے حکمران نے مانگی ہے۔ اس کے بغیر حکومت بھی نہیں چلتی اور کوئی عیاشی وغیرہ تو ہو ہی نہیں سکتی۔ اپنی پارٹی کے سہیل انور کیلئے شہلا رضا نے کہا کہ ان کا لہجہ واقعی غیرپارلیمانی ہے۔ اب تنقید اپنے ہی لوگوں پر ہونے لگی ہے۔ یہ حق گوئی ہے یا کوئی اور بات ہے؟جب بھی زرداری صاحب پر کوئی تنقید ہوتی ہے تو وہ خود کہتے ہیں اور پیپلزپارٹی والے سارے ”وفادار“ لوگ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بینظیربھٹو کے قتل کا ٹرائل ہورہا ہے۔ فاروق نائیک اپنی وکالت کیلئے یہ بات بہت ضروری سمجھتے ہیں۔ آخر محترمہ کی قبر کب تک سیاسی بہانہ بنی رہے گی۔اگر بینظیر قتل کا ٹرائل شروع ہوجائے تو زرداری صاحب کیا کہیں گے۔ بینظیر کے قتل کا ٹرائل تو تب نہ کرایا گیا جب ”صدر“ زرداری باقاعدہ ایوان صدر میں تھے۔ یہ بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل کہتے ہیں تو ٹرائل ان کا بھی بنتا ہے۔ پیپلزپارٹی والے کچھ کریں تو دودھ کا دودھ‘ پانی کا پانی ہو جائے۔ یہاں دودھ پینے والے سیاسی مجنوں بہت ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*