وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جنرل اسمبلی سے جرات مندانہ خطاب

گزشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک جرات مندانہ خطاب کیا انہوں نے اپنے خطاب میں یہ واضح کردیا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہندوستان ہمارے صبر کا امتحان نہ لے ہندوستانی ایماءپر پاکستان میں دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منصوبہ بندی کی گئی اے پی ایس اور مستونگ حملوں میں دہشتگردوں کو ہندوستانی پشت پناہی حاصل تھی ،پاکستان طویل عرصے غیر ملکی پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا آیا ہے اب وہ افغان پناہ گزینوں کی پر امن اور رضا کارانہ طور پر واپسی چاہتا ہے ۔
وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جرات مندانہ خطاب اور پاکستان کا موقف واضح کرنا بلاشبہ قابل تعریف اقدام ہے انہوں نے جنرل اسمبلی سے مذکورہ خطاب کرکے پاکستان کی پالیسی واضح کرتے ہوئے ہندوستان کے تمام مذموم عزائم سے آگاہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان میں ہونےوالی دہشتگردی کی اکثر وارداتوں میں ہندوستان کی پشت پناہی حاصل تھی جن کا ثبوت ہندوستانی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا انکشاف اور بعض دیگر دہشتگردوں کا گرفتاری کے بعد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف شامل ہے ۔
ہم سمجھتے ہیںکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے اس اہم خطاب میں ہندوستان کے مذموم عزائم سے پردہ اٹھادیا ہے اور عالمی دنیا پر واضح کردیا ہے کہ ہندوستان پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث ہے وہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کررہا ہے ۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہندوستان کو اس اہم پلیٹ فارم سے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ ہمارے صبر کا امتحان نہ لے کیونکہ پاکستان اپنی خود مختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا وہ اپنی حفاظت کرنا خوب جانتا ہے اس کی مسلح افواج اور عوام اس کی دھرتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے ۔
جہاں تک غیر ملکی پناہ گزینوں کی میزبانی کا معاملہ ہے تو یہ بھی واقعی ایک تلخ مرحلہ ہے کہ پاکستان نے جن پناہ گزینوں کو ایک عرصے تک پناہ دی جن کی تعداد لاکھوں میں ہے افسوس کی بات ہے کہ وہ بھی پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں ملوث پائے گئے اس کے ثبوت بھی ملے ہیں کہ پاکستان میں ہونےوالی کئی وارداتوں کے تانے بانے کا بل سے ملے ہیں اس لئے پاکستان اب ان کی پر امن اور رضا کارانہ واپسی چاہتا ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ان تمام حقائق کا بغور جائزہ لیں اور ہندوستان کو مذکورہ اقدامات کرنے سے باز رکھے اور اگر پھر بھی وہ باز نہیں آتا تو اس پر اقتصادی راہداری پابندیوں جیسے اقدامات کرے کیونکہ یہ یہی وقت کا تقاضا ہے اور ایسا کرنا بہت ہی ناگزیر ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*