بس ایک ربط کی کمی ہے

تحریر : انجینئر افتخار چودھری
لگتا ہے کوئی پی ٹی آئی کی ناﺅ کو ڈبونے کی کوششوں کو تیز تر کر رہا ہے۔ رات کو سات بجے سے گیارہ بجے تک پی ٹی کا محاسبہ اس قدر کیا جا رہا ہے جیسے پارٹی کی حکومت کو تین سال تین سو تریسٹھ دن ہو گئے ہیں۔پی ٹی آئی کے نئے نئے اراکین اسمبلی جن کا چہرہ فوٹو جینک اور مغز خالی از شعور ہے انہیں گرگوں کے سامنے بٹھا کر پارٹی کا تیا پانچہ ہو رہا ہے لگتا ہے میڈیا سیل کی گرفت ہے ہی نہیں جو کوئی چاہتا ہے اور جہاں کہیں اس کی رسائی ہے وہ پارٹی کی نمائندگی کرنے پہنچ جاتا ہے۔پارٹی کا میڈیا سیل فواد چودھری،افتخار درانی کی سرکاری ذمی داریوں کی وجہ سے بغیر کسی کنٹرول کے چل رہا ہے۔یہی وجہ ہے پارٹی موئقف کا دفاع نہیں کیا جا رہا۔اس میں پرائے تو تھے ہی اپنوں نے بھی حصہ بقدر جثہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ویسے ایک بات تو حیران کن ہے کہ اپوزیشن کے گہرے صدمات اور تکلیف کی تو سمجھ آتی ہے لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے پی ٹی آئی کو آڑھے ہاتھوں لے لیا ہے غلطیاں تو ہو جاتی ہیں مگر اس قدر چڑھائی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس طرح دیکھا جا رہا ہے جیسے سالوں بیت گئے ہوں۔ایک صوبائی وزیر کی زبان سلپ ہوئی تو سارا دب ڈھنڈورہ پیٹا گیا اس کے بعد کھنچائی اتنی کے موصوف ابھی تک چسکے بھی نہیں۔یہی چال ہوتی ہے مخالف کی کہ وہ کسی غلطی کو پکڑ کر اس قدر شور کرتا ہے کہ اگلا سہم کے رہ جاتا ہے۔پاکستانی تاریخ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ سیاسی لیڈران نے ہزیان بک دیا لیکن جو احتساب فیاض الحسن چوہان کا ہوا ہے ہم پنڈی والوں کو فکر پڑ گئی ہے کہ ہم نے ایک تیز و طرار وزیر لاہور بھیجا تھا اسے کیا ہو گیا ہے۔سیاست کے طالب علموں کو علم ہے کہ ایک بار ذوالفقار علی بھٹو نے بھرے جلسے میں بنگالیوں کو گالی دے دی تھی بات آئی گئی ہو گئی۔میں کسی طور بھی فیاض الحسن چوہان کے گالی دینے کے عمل کو درست قرار نہیں دیتا لیکن طویل خاموشی سے پی ٹی آئی کا نقصان ہو رہا ہے جس دن مچاہد اللہ خان سینیٹ کے فلور انگلی کا ذکر کر رہے تھے اور ساتھ بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کے سینٹرز کو ڈانٹ ڈپٹ رہے تھے تو سچ پوچھیں مجھے بہت محسوس ہوا۔زبان درازی اور بد گفتاری کا عالمی ریکارڈ قائم ہوا اور کوئی چسکا بھی نہیں۔پی ٹی آئی کا مقابلہ کچھ اس قسم کی مخلوق سے پڑا ہے جن کو جواب نہیں دیا جا رہا الٹا پی ٹی آئی کے لوگوں کو کی زبان بندی کی جاتی ہے۔مشاہد اللہ کو جواب اگر کسی لکھنوی نے دینا ہے تو پھر دیکھا کیجئے۔رانا ثناء اللہ عابد شیر علی طلال چودھری نے اس اسمبلی میں جو کچھ کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے خود خواجہ آصف نے ایک خاتون رکن اسمبلی کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ہمارے لوگ تو اگر کوئی لفظ غلط بھی کہہ دیں تو معافی مانگ لیتے ہیں۔کوئی خواجہ آصف سے کیوں مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ شیریں مزاری کے بارے میں کہی گئی بات واپس لے۔سارے ضابطے سارے اخلاقی معیار پی ٹی آئی کے لئے ہیں۔ایک ٹی وی پروگرام میں میاں منان نے استعفی کا مطالبہ کرنے پر فیاض الحسن چوہان سے بد اخلاقی اور بد تمیزی کی حد کراس کر دی کسی نے کچھ نہیں کہا۔میں جناب عمران خان نے کہوں گا کہ سیر کو سوا سیر سے ٹکرانے دیں۔ایسے اسمبلی نہیں چلے گی۔ دوسرے فواد چودھری نے چوروں ڈاکﺅں کو الٹا لٹکانے کی بات کی تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔پیپلز پارٹی کے جناب خورشید شاہ نے جست لگائی اور اپنے ساتھیوں سمیت اسمبلی باہر چلے گئے حالنکہ فواد چودھری نے پیپلز پارٹی کے کسی بندے کا نام نہیں لیا تھا۔گویا جب بھی کسی چور اور ڈاکو کی بات ہو گی تو جناب خورشید شاہ باہر چلے جائیں گے۔۔
اس ملک کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا جس طرح لوٹا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔کہا جا رہا ہے کہ پبلک اکائقنٹس کمیٹی کا سربراہ جناب شہباز شریف کو بنایا جائے اور اس کی مثال یہ دی جاتی ہے کہ نون لیگ نے اپنے دور میں پیپلز پارٹی کو یہ ذمہ داری دی تھی اور یہ بھی مثال دی جاتی ہے کہ جناب پیپلز پارٹی نے بھی نون لیگ کو یہ عہدہ دیا تھا۔دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے کہ کیا نون اور پی پی پی مخالف جماعتیں تھیں۔ایک لفظ مک مکا کا ہے جو ان دونوں پر صادق آتا ہے۔نون لیگ نے پیپلز پارٹی کے دور میں کرپشن چور بازاری پر چپ سادھے رکھی اور اسی طرح نون لیگ کے دور میں پیپلز پارٹی خاموش رہی۔ایک دوسرے کو حاجی اور ملا کہنے والے ایک دوسرے کے عیوب پر پردہ ڈالتے رہے۔ان گنت کیس داخل دفتر کر دئے گئے جن میں جناب آصف علی زرداری کے بھی کیس شامل ہیں اور نون لیگ کے بڑوں کے بھی کیس کھڈے لائن لگا دئے گئے۔کوئی کرے تو کرے کیا جس ملک میں چیف جسٹس شراب پکڑے اور وہ جا کر شہد بن جائے وہاں یہ سب کچھ جائز تھا اور شرابیں شہد بنتی رہیں۔اگر فواد چودھری چھیچھڑوں اور دودھ کی رکھوالی کی مثال دیتے ہیں تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟کیا میاں شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سربراہ بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ کرپشن کے بے شمار کیسیز پر چادر ڈالی جائے۔صاف پانی کی کمپنیوں کا معاملہ ہو میٹرو کرپشن آشیانہ یا پھر دیگر بے شمار گھپلے۔کیا جناب شہباز شریف یا حمزہ شہباز ان کیسوں کو ایمانداری سے ٹرائل کرنے دیں گے۔جس دن خرم دستگیر خان اسمبلی کے فلور پر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو ملنے کا مطالبہ کر رہے تھے اس وقت قوم سوچ رہی تھی کہ داڑھی میں تنکا محسوس کیا جا رہا ہے شنید ہے ہمارے اس نوجوان گجرانوالہ کے ذمے بھی سیلا باسمتی کیس ہے۔قوم نے تبدیلی کے لئے ووٹ اس لئے دیا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ احتساب سب کا ہو۔قوم اپنا مال وصول کرنا چاہتی ہے اس کے لئے کسی کو الٹا لٹکایا جائے یا سیدھا کھڑا کر کے وصولی کی جائے۔اسے اس بات سے غرض نہیں کہ کون کیا ہے؟حساب اگر دینا ہے تو جس نے اقتتدار کے مزے لوٹے ہیں وہ دے گا جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں پیڑھ بھی انہی کے پیٹوں سے اٹھے گی۔ہاں اگر کسی کو کے پی کے حکومت سے کوئی شکائت ہے تو نیب موجود ہے۔کوئی اگر یہ کہتا ہے کہ جنرل حامد کا احتساب کمیشن کیوں ختم ہوا تو کے پی کے حکومت کے اس جواب پر بھی تبصرہ کر دے کہ احتساب کمشنر نے ایک متوازی حکومت قائم کر دی تھی کوئی کام آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔لیکن اس کے باوجود اگر کوئی میگا کرپشن سامنے نہیں آئی تو آپ پرویز خٹک حکومت کو ملزم نہیں ٹھہرا سکتے۔میں نے دو موضوع پر بات کرنے کی کوشش کی ہے ایک قومی اور صوبائی اسمبلی کے ترجمانوں کو ترجمانی کا موقع دیں اخلاق سے گری بات سے روکنے کا مقصد نہیں کہ یہ لوگ بات ہی نہ کریں دوسرا پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سربراہی کسی صورت اپوزیشن کی کسی بھی جماعت کو نہ دی جائے۔نیب کو کیس بھیجے جائیں اگر کوئی شک و شبہ ہے کہ سیاسی انتقام لیا جارہا ہے تو ہائی کورٹ سپریم کورٹ موجود ہیں اگر نواز شریف نیب عدالتوں سے سزا پانے کے باوجود گھر میں آرام کر رہے ہیں تو کسی دوسرے کو خوف نہیں ہونا چاہئے۔
پی ٹی آئی کی حکومت سے لوگ توقع رکھتے ہیں اگر اس حکومت نے کڑا احتساب نہ کیا عوام کو ریلیف نہ دی تو سمجھئے بڑی تیزی سے زوال آئے گا۔مہنگائی کو روکنے کے لئے برین آف پی پٹی آئی کو برین کا ستعمال کرنا ہو گا ورنہ بجلی،گیس،پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا فارمولا ایک ریہڑی والے کو بھی آتا ہے۔صرف دوسرے لوگ ہی نہیں خود پی ٹی آئی کے کارکن کو جادوگری چاہتے ہیں ان لوگوں پر شکنجہ دیکھنے چاہتے ہیں جو ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔پی ٹی آئی نے سر کیا منڈوایا اولے ہی پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔حالنکہ پارٹی کی حکومت نے ان دو مہینوں میں سچ پوچھیں کئی سالوں کا نہیں تو کئی مہینوں کا کام کر لیا ہے۔ہر منسٹری رات دن کام کر رہی ہے۔وزارت داخلہ کو دیکھیں،محرم کے انتظامات پر نظر ڈالیں۔منسٹری آف ہیلتھ کی ٹاسک فورسز،وزارت حجج اور بین المذاہب کی منسٹری کا متعلقہ لوگوں سے روابط،وزارت تعلیم کی کارکردگی ریلوے منسٹری کے کام۔بس ایک ربط کی کمی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*