بحیثیت حکومت ہم نے اچھی شروعات کی ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

Mir Jam Kamal Khan

کوئٹہ (این این آئی )وزیراعلی بلوچستان اور بلوچستان عوامی پارٹی (ابا) کے صدر نواب جام کمال خان عالیانی نے کہاہے کہ پی ایس ڈی پی سے متعلق اراکین اسمبلی نے یہاں بحث میں اچھی تجاویز دیں تاہم میں چاہتا ہوں کہ پہلے ایوان سے متعلق اپنی رائے دوں اور تجویز دوں ،انہوںنے یہ بات پیر کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی پر ایوان میں ارکان اسمبلی کی جانب کی گئی بحث کو سمیٹے ہوئے کہی ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان اسمبلی کے اس ایوان کی افادیت کو ہم نے سمجھنا ہوگا اور میکانزم کے تحت ایجنڈے پر رکھے نکات کو اہمیت دینی ہوگی ہمےں اس ایوان کو قواعد کے مطابق چلانا ہوگاضروری ہے کہ اراکین اسمبلی جب ایک نکتے پر بات ہورہی ہو تو اسے تکمیل تک پہنچائیں ایک ایجنڈے ابھی مکمل نہیں ہوتا کہ ہم دوسرے ایجنڈے پر چلے جاتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے بحیثیت حکومت ہم نے اچھی شروعات کی ہیں ہمیں اسمبلی کی شروعات بھی بہتر طور پر کرنی ہوں گی گر ہم نے ماضی کے تجربات کئے اور ہاﺅس کوسابق طریقے سے چلایاتو یہ ٹھیک نہیں ہوگا اس طرح ایجنڈا بھی پورا نہیں ہوگا اور اچھا تاثر بھی نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو باقاعدہ میکانزم کے تحت اور قواعدو انضباط کار کے تحت چلایا جانا چاہئے۔ میں نے پہلے اجلاس میں قائمہ کمیٹیوں کے اجراءکی بات کی ڈیڑھ مہینے بعد ہم ایک بھی کمیٹی نہیں بناسکے اپوزیشن لیڈر کاانتخاب نہیں ہوا۔ محکموں سے متعلق جو سوالات آتے ہیںان پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے قائمہ کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ پارلیمانی سیکرٹری کا تقرر بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے پہلے دن سے پی ایس ڈی پی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا ہے نہ صرف کابینہ بلکہ صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھی اس پر بات ہوتی رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ پی ایس ڈی پی کوقواعد کے مطابق بلوچستان کی ضروریات کے تحت بنائیں بطور ایوان اور بطور حکومت اگر ہم نے پی ایس ڈی پی کے حوالے سے میکانزم کی تیاری اور چیزوں کی تبدیلی کو یقینی بنایا تویہ ایک بہت بڑا کام ہوگا جو ماضی میں بلوچستان کے عوام کے لئے کسی نے نہیں کیا۔انہوں تجویز دی کہ بلوچستان میں گزشتہ 18سالوں کے دوران جتنی بھی پی ایس ڈی پیز آئیں ہمیں ان کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر بنانا چاہئے آج ہم حکومت کا حصہ ہیںہم نہیں چاہتے کہ کل صوبے کے عوام ہمیں یہ کہیں کہ آپ حکومت میں رہے اور آپ نے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نئی نئی بنی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی بھی بڑے عرصے کے بعد بڑے پیمانے پر ایوان میں آئی ہے آئی جے یوآئی سے بھی نئے لوگ اسمبلی میں آئے ہیںپی ٹی آئی پہلی بار بلوچستان اسمبلی میں آئی ہے ہمیں ایک وائٹ پیپر بنانا چاہئے کہ اٹھارہ سالوں میں پی ایس ڈی پی میں کیا ہوا کہاں کہاں غلط سکیمیں ڈالی گئی ہیں کہاں کہاں منصوبہ بندی نہیں ہوئی بلوچستان کو ڈبونے میں سب سے بڑا کردار اسی پی ایس ڈی پی کا ہوگا اس کاذمہ دار کون ہے ؟ کم از کم ہم تونہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایسا کام کریں کہ آنے والے وقت میں لوگ ہماری مثال نہ دیں کہ یہ بھی اس کا حصہ تھے اس لئے ضروری ہے کہ ہم ابھی سے اس پر توجہ دیں خود اعتماد ی سے فیصلے کریں آنے والے پانچ سالوں میں ہم جو کام کریں گے اس میں توازن ہوگا۔ سابق حکومتوں نے کیا کیا اور ہم کیا کریں گے۔ ماضی میں کس نے کیا کیا ہم اس بحث میں نہیں پڑتے مگر کل جب ہم اپنے حلقوں میں جائیں تو ہم یہ کہیں کہ ہم نے معاملات کو بہتر بنایااس کا کریڈٹ موجودہ حکومت بھی لے گی اور اپوزیشن بھی لے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل بہت زیادہ ہیں اب جو بھی ہوگا اس کا فائدہ اور نقصان دونوں ہم سے منسلک ہے۔ بلوچستا ن میں کرپشن سمیت جتنے بھی چھوٹے بڑے مسائل ہیں ان کے حل کے لئے ابھی اگر ہم نے کام نہیں کیا توآنے والی حکومتوں کو بھی مسائل کا سامنا رہے گااس وقت حالت یہ ہے کہ ہماری پی ایس ڈی پی چار سو ارب تک جا پہنچی ہے۔ آپ کی پی ایس ڈی پی کے انددر تقریبا? دو ہزار ایسی سکیمیں ڈالی گئی ہیں جن کے لئے مختلف مالی برسوں میں مختلف رقومات مختص کی جاتی رہی ہیں ان کو کمپلیٹ کرنے کے لئے اگر ہمارے پاس چار سو ارب روپے ہوں گے تو یہ کتابچہ مکمل ہوگا اس سے مزید پچاس سے ساٹھ ارب ہوگا تو نئی پی ایس ڈی پی مکمل ہوگی ظاہر سی بات ہے کہ چار ساڑھے چار سو ارب روپے تو بلوچستان کے پاس نہیں ہیں اس کے لئے ہمیں وفاق سے بھی بات کرنی ہوگی۔ کسی بھی حکومت کا اگر کوئی ترقیاتی پلان فنڈ ز کے بغیر ممکن نہیں تعلیم صحت ، بندات ، مواصلات سب کے لئے فنڈز چاہئیں۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے صوبے مین آج بھی ایسے کئی علاقے ہیں جہاں اس جدید دور میں بھی پانی میسر نہیں روڈ ز نہیں ہیں بجلی نہیں ہے لوگ یہ چیزیں مانگتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے اب یہ مسئلہ چونکہ ہمارا بھی ہے اور اس سے نہ آپ بری ہیں نہ ہم بری ہیں یہ مشترکہ مسئلہ ہے اور مشترکہ حکمت عملی سے حل کرنا ہے۔انہوںنے کہا کہ کابینہ اجلاس میں پی ایس ڈی پی زیر بحث آتی رہی ہے یہاں صوبائی اسمبلی کے ایوان میں بھی اس پر بات ہوتی رہے موجودہ حکومت نے ڈیڑھ مہینے میں تین کابینہ اجلاس منعقد کئے پاکستان میں کسی صوبائی کابینہ نے اتنی مستعدی سے اجلاس منعقد نہیں کئے یہ بہت بڑا جواب ہے ان تمام لوگوں کے لئے جو کہتے ہیں کہ بلوچستان میں طریقہ کار نہیں ہے بلوچستان کا سیاسی سسٹم تباہ ہے یہاں قبائلیت ہے اور دیگر مسائل ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگ کام کرنا جانتے ہیں اور کام کررہے ہیں اگر آپ بلوچستان کے لوگوں کو بہتر پلیٹ فارم دیں گے اختیار دیں گے تو یہی بلوچستان کے لوگ آپ کو وہ کرکے دکھا سکتے ہیں جودوسرے لوگ نہیں کرسکیں گے آج ہم ماضی کی نسبت زیادہ خودمختار ہیں کابینہ اجلاسوںمیں ہم نے محسوس کیا کہ چھوتے چھوٹے مسائل کابینہ کی منظوری نہ ہونے کے باعث کئی کئی مہینے پڑے رہتے ہیں ہم نے پی ایس ڈی پی سے متعلق پی اینڈ ڈی کو کام کرنے کا کہا تمام رپورٹ طلب کی اخراجات کتنے آئے منصوبے کس طرح سے ڈالے گئے منظوری کیسے لی گئی تمام امور کا جائزہ لیا جارہا ہے ہمیں تفصیلات دی گئیںبہت عجیب چیزیں سامنے آئیں انہوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 71ایسے منصوبے ہیں جنہیں پی ایس ڈی پی سے نکال دیا گیا یہ وہ سکیمیں تھیں جن پر اسی فیصد سے زیادہ خرچہ ہوا تھا نئی سکیمات کو جگہ دینے کے لئے پرانی اور چلتی ہوئی سکیمات کو الگ کیا گیا ایریگیشن اسی طرح ہے پی ایچ ای اسی طرح ہے۔ہم نے جواب طلب کیا کہ ایسا کس نے کیا اور کیسے کیوں۔ ہمارے ہاں مانیٹرنگ سسٹم جسے چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کہتے ہیں ماضی میں جس افسرسے کام نہیں لینا ہوتا تھا اسے سی ایم آئی ٹی میں لایا جاتاہم نے سب سے پہلے وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کو فعال بنایا چیئرمین سی ایم آئی ٹی کو ٹاسک دیا کہ بلوچستان کی پی ایس ڈی پی میںجتنی بھی آن گوئنگ سکیمات ہیں ٹیم ان کا جائزہ لے اور مجھے خوشی ہے کہ دس دنوں میں چار سو سے زائد سکیمات کا کمیٹی نے دورہ کیا اور باقاعدہ ہر سکیم کی ویڈیو بنا کر لے آئی اسی طرح چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہم نے ٹاسک دیاکمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ متعلقہ محکموں کو بلا کر پی ایس ڈی پی کی ایک ایک سکیم کی کلریفیکیشن کرائیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی ایک سال پروگرام نہیں ہوتا آپ کے آنے والی نسلو ں کے لئے پلاننگ ہوتی ہے مگر بلوچستان میں بد قسمتی سے اسے یہاں قواعد کو پس پشت ڈالا گیا منصوبہ بندی و ترقیات کے محکمے میں قواعد سے ہٹ کرکام ہوتا رہا صوبائی کابینہ ہر اجلاس میں ان مسائل پر غور کرتی آئی ہے تین اجلاس ہوچکے ہیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم دس پندرہ دنوں میں کابینہ اجلاس منعقدکریں گے۔ انہوںنے ایوان کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل نہ ہونے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا احتساب آپ کی کمیٹیوں کے ذریعے ہوگی اس لئے کمیٹیاں بننا چاہئیں ہر مہینے آٹھ دس رپورٹس آئیں گی تو ستر فیصد چیزیں کلیئر ہوجائیں گی حکومت اور ایوان کا رشتہ کمیٹی سے بنتا ہے اگر آپ کمیٹی تین سال نہیں بنائیں گے تو اس طرح تو ہم صوبے کے مسائل حل نہیں کرسکیں گے ایوان کی قائمہ کمیٹیاں بنانے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر کا انتخاب اور پارلیمانی سیکرٹری کا تقرر بھی ہوجانا چاہئے انہوں نے اپنے حالیہ دورہ مکران ڈویڑن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ بلوچستان کے اپنے لوگوں نے اب تک بلوچستان کے اضلاع نہیں دیکھے تربت اور گوادر میں مجھے بعض وزراءاور سیکرٹریز نے بتایا کہ وہ پہلے گوادر اور تربت نہیں آئے انہوں نے گوادر میں پینے کے پانی کی قلت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ڈی سلینیشن پلانٹ کام کررہا ہوتا تو اج گوادر میں پانی کا مسئلہ حل ہوتا۔ساڑھے تین ارب روپے گوادر میںپانی کے لئے پی ایچ ای خرچ کررہی ہے جو بہت بڑی رقم ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں پی ایس ڈی پی بناتے وقت منصوبوں کی افادیت ،پلاننگ ،طریقہ کار ، ضرورت کسی چیز کا خیال نہیں رکھا گیا نہ ہی کوئی طریق کار رکھا گیا اس لئے میری تجویز ہے کہ ٹھارہ سال کی پی ایس ڈی پی کا وائٹ پیر بنانا لینا چاہئے۔وزیراعلیٰ نے حکومت و اپوزیشن کے بعض اراکین کی جانب سے دی گئی تجاویز کا بھی مرحلہ وا ر تذکرہ کیا اور کہا کہ اراکین کی تجاویز پر مختلف شعبوں میں بہتری لانے کے لئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ افسران کا تقرر مکمل طور پر میرٹ پر ہونا چاہئے۔انہوںنے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے لئے میکانزم بنانا چاہئے۔ پی ایس ڈی پی میں ہر ضلع کے لئے فنڈز مختص ہونے چاہئیں یہ ہر ضلع کا حق ہے کیونکہ ہر ضلع میں رہنے والے لوگ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروںکی حالت زار بہتر بنارہے ہیں۔ شیخ زید ہسپتال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ گوادر کے ہسپتال میں جی ڈی اے ہسپتال میں بارہ سو کی اوپی ڈی ہے سکول بھی ان کا انتہائی بہتر اورفعال ہے۔ بلوچستان کے باصلاحیت بچوں کو پروموٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی بہت ذمہ داریاں ہوتی ہیں ہم اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے ہم اپنی کارکردگی سے آپ کو دکھادینا چاہتے ہیں کہ ہم کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ثناءبلوچ سمیت دیگر اراکین نے جو جو تجاویز دی ہیں انہیں مد نظر رکھ رہے ہیں پلاننگ میں یہ تجاویز ہمارے لئے مددگار ہوں گی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر ہم نے انہیں بلوچستان میں توانائی مواصلات اوردیگر شعبوں میں جو جو مسائل ہیں ان سب سے آگاہ کیا ہے انہوں نے جلد ہی بلوچستان آنے کا وعدہ بھی کیا ہے ہم آج تک ڑوب سے حب اور گوادر تک سڑک نہیں بناسکے ہمےں گوادر میں اپنی زمینوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*