اہل قلم کی تربیتی ورکشاپ

تحریر : ڈاکٹر ندیم ملک
ایک سچا کھر اقلمکار معاشرتی ناہمواریوں اور سوشل ٹیبوز کو اپنی قلم کی نوک سے کیسے توڑتاہے اورا سٹیریو ٹائپ Thinking کو کیسے جدت عطا کرتاہے۔یقینا ذہنوںکوپالش کر نا اور نئے رحجانات سے روشناس کروانا ایک دیانتدار اور فرض شناس صحافی کاشیوہ ہواکرتاہے۔وحدت ملک وملت پہ ابھارنا اور نئے صبح وشام پیداکرنے میں ایک قلمکار بڑا اہم رول پلے کرتا ہے۔
نہ مال وزر ہے نہ جاہ وحشم ہماراہے
مگر خدا کی عطاہے قلم ہماراہے
گزشتہ دنوں لاہور کے مقامی ہوٹل میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی۔جس میں صحافت کے طالبعلموں اور نوجوان کالم نگاروں کے ساتھ ملک کے نامور صحافیوں ،کالم نگاروں اور اینکرپرسنز نے شرکت کی اور نئے لکھنے والوں کی تربیت کے لیے خصوصی لیکچر دیے۔ایسی ورکشاپس نئے لکھنے والوں کے سفر میں مہمیزکاکام کرتی ہیں۔کسی بھی فیلڈ میں نئے آنے والے لوگ جب اپنے آئیڈیلز کو اپنے رابطے میں اور اپنی تربیت کیلئے کوشاں دیکھتے ہیں تو ان کے جذبے گویا زمین سے آسمان کا سفرکرتے ہیں جس کا اظہار شرکاءورکشاپ نے گاہے بگاہے کیابھی۔میری ذاتی رائے کے مطابق لکھنا وہ آرٹ ہے جو بائے برتھ ہوتاہے آپ رائٹرہیں یانہیں ہیں۔
ہم ایک دوسرے کی مختلف تجربات کی روشنی میں مختلف ٹپس کی صورت میں رہنمائی تو کرسکتے اور مطالعہ کے روشنی میںاسے پالش بھی کرسکتے ہیں مگر رائٹر بنانہیں سکتے۔بہرحال ماحول اور تربیتی ورکشاپس اس ٹیلنٹ اور خداداد صلاحیت کو پالش کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں جن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔اس کے علاوہ اپنے جیسوں کی بیٹھک میں جو توانائی اور ویوزملتی ہے وہ یقینا ایک خوشگوار اور ناقابل فراموش تجربہ سے کم نہیں ہے۔جہاں تک لکھنے اور پاپولر رائیٹر بننے کی بات ہے اس ضمن میں ایک با ت کرناچاہوں گا۔
”ممتاز مفتی صاحب فرماتے تھے کہ لکھنا ایک کام ہے اور اسے دلوں سے پار کردینا دوسرا کام ہے آپ لکھ سکتے ہیں مگر اسے طاقت پرواز دینے اور دلوں سے پار کردینے والی ذات کوئی اور ہے۔”
ورکشاپ میں پورے پاکستان سے اہل قلم کی ایک کثیر تعدا د نے شرکت کی۔سنیئر صحافی جناب ایثار رانا نے اپنے لیکچر میں پن پوائنٹ سائلنٹ کا ماحول پیدا کر دیا اور اپنے تجربے اور مشاہدے سے نئے آنے والوں کو فکر کا ایک دریا کشید کر دیا۔جو شرکائ ورکشاپ کو مدتوں رہنمائی کی صورت میں یاد رہے گا۔
پی ایچ ڈی سکالر ڈئریکٹر (نیپا)( کے پی کے) جناب ڈاکٹرجاوید اقبال صاحب کے لیکچر میں علم کا سمندر موجزن تھا جنہوں نے مجاز سے حقیقت کا سفر قرآنی حوالوں اور احادیث کی روشنی میں دیا اور ان سارے مسائل کا حل پیش کیا جو علم کے راستے میں حائل ہوتے ہیں۔اور ہماری شخصیت کو بدبودار اور داغدار کرتے ہیں۔اینکر پرسن اسد اللہ خاں نے تلفظ اور لہجے کی بہتری پر ایک پر مغز لیکچر دیا جسے خوب سراہاگیا۔سنیئر صحافی شاہد نذیر چوہدری نے مطالعہ اور سنیئر ز کی رہنمائی کو لازمی قرار دیتے ہوے مختصر وقت میں بہترین لیکچر ڈلیور کیا۔گل نوخیز اختر نے بہترین کالم نگاری کیلئے مختلف سوچنے کے انداز کو ضروری قرار دیا۔وقت کی کمی اور مقرررین کی بھرمار نے بعض اچھے مقررین کو مقید کر دیا جن میں رابعہ رحمان ،راشد لاہوری،علی اصغر عباس ،اختر عباس سر فہرست ہیں۔ سینئر مقررین کی کثیر حاضری اس بات کی غماز تھی کہ وہ بھی جونیئر ز کو سیکھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اور سینئر ز کا یہی جذبہ ورکشاپ کی کامیابی کی دلالت کرتے ہوئے نظر آیا۔اور یوں اہل قلم کی اس کامیاب تربیتی ورکشاپ کیلئے صدر آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن جناب چوہدری غلام غوث سنیئر نائب صدر وبانی ایم ایم علی نائب صدر حافظ محمد زاہد اور سرپرستی اعلیٰ زبیر احمد انصاری اور تمام ممبران و عہدیداران خواتین ونگ اور آل اپوا ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس قدرخوبصور ت ماحول میں اہل قلم کو تربیت کے ساتھ ساتھ بہترین فریشمنٹ بھی دی یقینا ایسی ورکشاپس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔کیونکہ ہمارے ہاں تربیت کی کمی کی وجہ سے ہم اپنا پیشن ڈسکور ہی نہیں کر پاتے۔
میرے خیال میں پیشن کی عدم دریافت ہمارا قومی مسئلہ بھی ہے۔ہمارے ترقی نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ اپنے پیشن سے دوری بھی ہے۔کہتے ہیں موت کا مزہ تو سب چکھتے ہیں مگر زندگی کا مزہ کوئی کوئی چکھتاہے زندگی کامزہ چکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اپنے پیشن کو عشق کو جیاجائے۔تربیتی سیشن میں معروف ٹرینر ومصنف جناب اختر عباس صاحب نے محدود وقت میں حاضرین کو خود شناسی کے لمبے سفر کی آگاہی دی۔جب دنیا کی بلند ترین چوٹی مونٹ ایورسٹ کو ایڈ منڈ ہیلر ی نے فتح کیا تو اس سے پوچھا گیا کہ یہ سب آپ نے کیسے کیا تو اس نے ایک تاریخی جملہ بولا کہ دراصل ہم پہاڑ سر نہیں کرتے بلکہ خود اپنا آپ سر کرتے ہیں۔قارئین کرام در اصل ٹھان لینا طے کرلینا اور خود کو سفر کے لیے تیار کرلینے کے اندر ہی سار ی فلاسفی ہے۔مشہور ٹرینر قاسم علی شاہ صاحب فرماتے ہیں زندگی دنوں ،مہینوں اور سالوں میں نہیں بلکہ اسی لمحہ بدل جاتی ہے جب آپ اسے بدلنے کا ارادہ کرلیتے ہیں سواچھا اور موثر قلم کار بننے کے لیے بھی یہی فارمولا صادق آتاہے۔اور راستے کی ہر وہ رکاٹ جو آپ کو منزل سے دور کرتی ہے جب آپ ٹھان لیتے ہیں تو آپ کی منزل سامنے آجاتی ہے۔کیونکہ کامیابی اتفاقیہ طور پر نہیں ملاکرتی بلکہ یہ ہمارے رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے اور رویے ہمارا اپنا انتخاب ہوتے ہیں۔
چنانچہ کامیابی انتخاب ہوتی ہے اتفاق نہیں۔میں سمجھتاہوں دنیا کے جتنے بھی نامور تخلیقار ،سائنس دان اور مصور شاعر ادیب گزرے ہیں ان سب کے اندر ایک چیز کامن تھی کہ انہیں اپنے کام سے عشق تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اسی کام کیلئے پیدا ہوئے ہیں سو جب تک زندگی میں کسی بھی شعبہ میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ہمارے اندر برننگ ڈیزائر اور اپنے کام سے عشق نہیں ہوگا تو کامیابی ممکن نہیں۔اور یقینا جیتنے کیلئے سیکھنا ازحد ضروری ہے اور ایسی تربیتی ورکشاپس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے کہ پلٹنا جھپٹنا اور لہو کو گرمانا مقصود ہے اس میں کوئی شک نہیں کی میرے سمیت تمام شرکاءورکشاپ نے ا پنے سنیئرز سے بہت کچھ سیکھا۔ہم امید رکھتے ہیں کہ آل پاکستا ن رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آئندہ بھی ایسے ٹریننگ سیشنز کا اسی طرح کے خوبصور ت اور منظم ماحول کا اہتمام کرے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*