اجلی سحر کا ظہور

تحریر : طارق حسین بٹ شان
(گذشتہ سے پیوستہ)کتنا سنگدل نکلا یہ سماج جس نے بسترِ مرگ پر پڑی ہوئی اپنی قوم کی قابلِ فخر بیٹی کی بیماری کا لحاظ بھی نہ کیا۔عدالتوں میں تو فیصلوں کو محفوظ کر کے کئی کئی ماہ تک التوا میں
رکھنے کا رواج ہے لیکن نیب عدالت نے انسانی ہمدردی کے تحت التوا سے انکار کر دیا۔منصفوں کو خود بھی علم تھا کہ ایک بڑی جماعت کا قائد اپنی بیوی کی جان لیوا بیماری کے باعث اپنی بیوی کی تیمارداری کیلئے چند ایام اس کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے لہذا فیصلہ کو موخر کر دیا جائے لیکن بوجوہ ایسا نہ کیا گیا اور فیصلہ سنانے میں انتہائی عجلت سے کام لیا گیا۔میاں محمد نواز شریف نے اپنی بیمار بیوی کو لندن میں چھوڑ کر پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا اور اپنی بہادر سپتری کے ساتھ گرفتاری پیش کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ لوگ شسدر رہ گئے کہ قانون کا احترام ایسے بھی کیا جاتا ہے۔جھنیں اقتدار کی جلدی تھی ان کیلئے یہ گرفتاری کسی نعمت سے کم نہ تھی لیکن وہ جو انسانی جذبوں کے امین ،انسانی قدروں کے قدردان اور انسان دوستی کے علمبردار تھے انھیں حکومتی طرزِ عمل سے دلی رنج ہوا۔فیصلہ ہو گیا،جھنیں اقتدار سونپاجانا تھا اس کا اہتمام ہو گیا اور جھنیں جیل کی ہوا کھانی تھی انھیں جیل کی دیواروں کے اندر محبوس کر دیا گیاتا کہ راوی چین ہی چین لکھ سکے۔
نیب عدالت کے فیصلہ پر بڑا شور مچا۔ماہرینِ قانون نے بڑی دہائی دی،قانون کے پرستاروں نے بڑے دلائل دئے لیکن جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔پانسہ پھینکا جا چکا تھا اور جیت کا فیصلہ کر دیا گیا تھا۔ جس شخص کو وزیرِ اعظم بنانا مقصود تھا اس کا فیصلہ ہو چکا تھا جسے اب بدلا نہیں جا سکتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ یک طرفہ انتخابات تھے لیکن کچھ کیلئے پھر بھی لوہے کا چنا ثابت ہوئے کیونکہ جسے نامزد کیا گیا تھا وہ پھر بھی سادہ اکثریت سے محروم رہا۔سوال کسی کی عوامی مقبوبیت کا نہیں تھا بلکہ طریقہ واردات غلط تھا۔۔ نیب عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی تا کہ نا انصافی سے عوام کو روشناس کروا یا جائے۔نیب عدالت کا فیصلہ انتہائی کمزور بنیادوں پر تھا لہذا اس کا معطل ہونا فطری تھا۔یہ فیصلہ قانون ِ شہادت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا تھا لہذا اسے معطل ہو کر رہنا تھا۔
سزائیں تو سنا دی گئیں لیکن انھیں بر قرار رکھنا انتہائی مشکل تھا۔قانونِ شہادت میں گواہ اور دستاویز ات انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جو کہ اس مقدمہ میں سرے سے موجود ہی نہ تھیں۔ جسے سزا سنائی گئی تھی اس کے خلاف کوئی کاغذ کوئی دستا ویز،کوئی معاہدہ اس بات کو ثابت نہیں کرتا تھا کہ ایون فیلڈ فلیٹس کے مالک میاں محمد نواز شریف ہیں۔ جب وہ مالک ہی نہیں تھے تو پھر انھیں سزا کس بنیاد پر سنائی گئی تھی؟ایون فیلڈ کے مالک ان کے بیٹے ہیں اور اس مقدمہ کا جواب بھی انہی سے لیا جانا چائیے۔احتساب سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن احتساب اور انتقام میں بین فرق ہے۔جس نے کرپشن کی ہے اسے سزا ہونی چائیے لیکن انصاف کا پلڑاجھکائے بغیر۔ سپریم کورٹ پہلے ہی اپنے فیصلہ میں یہ طے کر چکی ہے کہ باپ اپنی اولاد کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے لیکنایون فیلڈ میں والد کو جوابدہ بنایا گیا کیونکہ مقصدانتخابات جیتنا تھے۔ایون فیلڈ ریفرنس پر شریف خاندان کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ نے پوری سیاسی بساط ہی الٹ دی ہے۔
وہ لوگ جو چور کہہ کہہ کر آسمان سر پر اٹھا رہے تھے انھیں ندامت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ عدالت میں کرپشن کا کوئی بھی ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہے۔ نیب عدالت نے اگرچہ میاں محمد نواز شریف کو کرپشن کے الزامات سے بری کر دیا تھا لیکن پھر بھی ایون فیلڈ ا پارٹمنٹس کی ملکیت کے سوال پر انھیں دس سال اور ان کی بہادر سپتری کو جس کا اس مقدمہ سے کوئی ڈائرکٹ تعلق نہیں تھا انھیں سات سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔سزا کے ساتھ نا اہلی کا اضافی ٹھپہ بھی لگا یا گیا۔مریم نواز کا خاوند ہونے کی جہت سے کیپٹن صفدر بھی رگڑے میں آگئے اور انھیں بھی نا اہلی کا سامنا کرنا پڑا۔نیب عدالت کے فیصلہ پر تمام غیر جانبدار ماہرینِ قانون ، دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی کی متفقہ رائے تھی کہ یہ فیصلہ انتہائی کمزور ہے اور اسے جب بھی چیلنج کیا جائیگا اس کا بودا پن واضح ہو جائیگا۔یہ فیصلہ واقعی بودا نکلااور اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرموں کے خلاف سنائی گئی سزا ﺅں کو معطل کرکے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔اس فیصلہ سے جہاں شریف خاندان کو ریلیف ملا ہے وہاں پر عدلیہ کی ساکھ میں بھی بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔یہ ایک اجلی سحر کا نیا ظہور ہے اللہ کرے اسے کسی کی نظر نہ لگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*