پاپولر حکومت کی کارکردگی اور ان کے حامی

تحریر : ریاض احمد ملک
پاکستان پر پی ٹی آئی کی حکومت کی مکمل دسترس حاصل ہو چکی ہے حکومت جن وعدوں پر برسراقتدار آئی ان میں وزیر خزانہ فرمایا کرتے تھے کہ پیٹرول46روپے لیٹر ہمیں ملتا ہے باقی نواز شریف کی جیب میں جاتا ہت جس ہر عوام سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے اپنا غصہالیکشن میں نکالا اور نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر پھنکا دوسرا بڑا آپشن یہ تھا جسے عوام نے بھی بے حد سراہا عمران خان نے عوام سے طانس مانگا عوام نے انہیں چانس دیا وہ بھی بڑت بڑت دعوے کیا کرتے تھے کہ اقتدار میں آ کر غربت کا خاتمہ ملک میں کرپشن وغیرہ کو ختم کریں گے بلا شبہ کرپشن نے ملک جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں انہوں نے عوام کو 100دن کا پروگرام دیا جس میں مکانات نوکریاں ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا شامل تھا۔اب حکومت برسر اقتدار آ چکی ہے اب ہم حق بجانب ہیں کہ ان سے پوچھیں کہ اب تک کیا کرپشن کا خاتمہ ہو چکا ہے پولیس راہ راست پر گئی ہے ہسپتالوں میں غریب کو ادویات مل رہی ہیں کیا پنجاب یا ملک میں یکساں تعلیم کا راج آ چکا ہے کیا اشیاء ضروریہ کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں یقین جانیے جب حکمران جب عوام کو یہ سبز باغ دیکھا رہے ہوتے تھے خوب ہنستے ہو نگے کہ وہ عوام کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اس وقت غریب کی استعمال کی ہر چیز ٹیکس کے علاوہ بھی مہنگی ہو کران کی پہنچ سے باہر اور بجلی کا بل دیکھ کر تو ہوش اپنی جگہ نہیں رہتے گزشتہ روز پی ٹی آئی کا ایک سرگرم کارکن اس وقت پھٹ پڑا جب وہ بجلی کا بل جمع کرانے آیا اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے بتیا کہ وہ دس ہزار روپے ماہانہ کما رہا ہے آٹھ ہزار روپے بل ادا کر رہا ہے تو بچوں کو کیا دے گا۔
اس نے انکشاف کیا کہ وہ پی ٹی آئی کا کارکن بھی ہے اور اپنی غلطی پر پچتا بھی رہا ہے اس وقت عوام چاہے کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں شروع میں تو حکمرانوں کے کارکنوں نے تسلی دی کہ اب تو اچار ڈالا ہے آپ اچار پکنے تو دیں پھر دیکھیں اب تو اچار پک بھی گیا ہے اور اس نے اتنا گوڑا رنگ دیا ہے کہ کارکنوں کی بھی چیخیں نکل گئی ہیں صرف وہ لوگ جو پاکستان سے باہر ہیں ان پر مہنگائی کا کوئی اثر نہیں پڑا وہ فیس بک اور سوشل میڈیا پر کمنٹس کرتے نظر آ رہے ہیں امید ہے چند دنوں بعد وہ بھی چپ کا روزہ رکھ لیں گے کیونکہ ان کی کمائی اپنے گھر تک ہی ہو گی دوسرے رشتہ داروں کی آہیں ان تک ضرور پہنچ جائیں گی حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ وہ کچھ بھی کرتے پیٹرول کی قیمتیں کم کرتے اس کے علاوہ اشیاء خردونوش کی قیمتیں کم کرتے تاکہ غریب عوام کو سہارا ملتا کہ ان کی حکومت نے ان کے لئے کچھ کیا ہے اب دیکھیں سابقہ حکمرانوں کو ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ملک کو تباہ کیا بھائی آپ اس کی سمت درست تو کرتے اس وقت ملک میں کرپشن عام ہے جرائم کی شراح میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے حکمرانوں کو سادگی کے پکوانوں سے فرصے ہی نہیں مل رہے۔نواز شریف کی بھیسیں بیچی جا رہی ہیں گاڑیاں بیچ کر جو پیغام عوام کو دیا گیا مگر وہ گاڑیاں تو ان حکمرانوں کے دوروں کے لئے تھیں جو باہر سے ہمارے ملک میں آتے تھے میڈیا کی وجہ سے اب عوام حکمرانوں سے سوال کرتے ہیں کہ جب سعودی وزیر خارجہ پاکستان آ ئے گا امریکی چینی وزیر خارجہ یا دیگر وزرا پاکستان آئیں گے ان کو تانگے یا کریم میں بٹھا کر لائیں گے یہ حکومتی نااہلی ہے جسے اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیاکریں وہ ابھی تک اس شک میں ہیں کہ وہ اقتدار میں آ چکے ہیں یا خواب دیکھ رہے ہیں اور کہیں ان کی آنکھ کھل ہی نہ جائے پی ٹی آئی کے کارکن ہی انہیں یقین دلا دیں کہ وہ اقتدار میں آ چکے ہیں۔عوام اپنے وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں ان پر رحم کریں اس وقت سرکاری ہسپتالوں کا یہ عالم ہے کہ ایمرجینسی کی صورت میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ فٹ بال کا کھلاڑی میدان میں فٹ بال کے ساتھ کرتا ہے سرکاری ہسپتال میں ادویات ناپید ہیں ڈاکٹرز اپنے من مانے سٹوروں کا راستہ دیکھا رہے ہیں پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانا مشکل تھا جو اب منڈیوں کی طرح دستیاب ہے کیا یہ نیا پاکستان تھا جس کا خواب ہمیں دیکھایا گیا جب آپ یہ الفاظ پڑ رہے ہونگے عوام پر ایک اور پیٹرول بم گر چکا ہو گا یا گرنے والا ہو گا کیا اب بھی نواز شریف یا زرداری جنہوں نے ملک کو لوٹا یہ پیسہ ان کی جیب میں جا رہا ہے یا،،،،؟ خدا راہ عوام پر ترس کھائیے کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کی بدعائیں تمیں لے ڈوبیں ایک طانس مانف کر آنے والا حکمران تاریخ کے اوراق میں غائب ہی نہ ہو جائے اس وقت غریب کی خواہش دو وقت کی روٹی ہے پیبشنوں اور تنخواہوں میں اضافہ نہیں چینی آٹا دالیں اور ھکی سستا کریں غریب پر اینا بوجھ نہ ڈالیں کہ وہ سسک سسک کر دم توڑ جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*