بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور بےروزگاری

صوبائی مشیر برائے محکمہ امور حیوانات و ترقیات مٹھا خان کاکڑ نے ایک بیان میں کہا ہے ،کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور بےروزگاری ہے موجودہ صوبائی حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے اور انہیں ریلیف دینے کےلئے اپنی جن ترجیحات کو واضح کیا ہے ان میں روزگار کے مواقع عوام کو فراہم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ غربت میں کمی کی جاسکے ۔
صوبائی مشیر برائے محکمہ امور حیوانات و ترقیات حاجی مٹھا خان کاکڑ کا مذکورہ بیان حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت بلوچستان جہاں دیگر اہم مسائل سے دوچار ہے وہاں اس کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور بےروزگاری ہے اور بڑی اچھی بات ہے کہ عوام کے مسائل کے حل انہیں ریلیف دینے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں غربت اور بےروزگاری کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ پچھلی حکومتوں کے دور سے چلا آرہا ہے کیونکہ گزشتہ حکومت نے صوبے میں 30ہزار آسامیوں کے خالی ہونے کی بات بار بار کی اور حکومت اپنی مدت پوری کر گئی مگر ان آسامیوں پر متعدد بار انٹر ویو اور دیگر مراحل ہونے کے باوجود بھرتیاں نہیں کی گئیں اس کے بعد نگراں حکومت کے دور میں مذکورہ محکمہ امور حیوانات میں کچھ افراد کو تعینات کیا گیا مگر موجودہ حکومت نے مبینہ طور پر ان کو کیسنل کرنے کی بات کی بہرحال اس پر کہاں تک عملد رآمد ہوا یہ معلوم نہیں ہوسکا کیونکہ ان بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کیونکہ یہ حکومتی معاملات ہیں لیکن یہاں اس بات کا ذکر ضرور کرینگے ،کہ اگر موجودہ حکومت کو ترجیحات میں غربت اور بےروزگاری کا خاتمہ اولین ترجیح ہے تو پھر اس پر فوری طور پر عملی طور پر عملد رآمد کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ صوبے کے جن محکموں میں ہزاروں آسامیاں خالی ہیں وہاںان محکموں کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے جبکہ دوسری جانب نوجوانوں میں بےروزگار ہونے کے باعث احساس محرومی پیدا ہوگیا ہے اور وہ اس طرح نفسیاتی مریض بن گئے ہےں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ ہم نے اتنی محنت کرنے کے بعد جوڈ گریاں حاصل کی ہیں ان کا انہیں کیا فائدہ ہوا ہے یہ ڈگریاں فی الحال ان کےلئے محض ایک کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہےں۔
اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت کو صوبے میں بےروزگاری اور غربت کے خاتمے کےلئے احسن اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ نوجوانوں میں پیدا ہونے والا احساس محرومی ختم ہوسکے اور ان کو اس سلسلے میں ریلیف مل سکے کیونکہ بلوچستان کے عوام کو موجودہ حکومت سے کافی توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام میر کمال خان اپنے آبا ﺅ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صوبے میں تاریخی اقدامات کرکے ایک تاریخ رقم کرینگے کیونکہ وہ ایک سینئر پارلیمنٹرین ہونے کے ناطے بلوچستان کے تمام مسائل سے نہ صرف بخوبی آگاہ ہیں بلکہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ان کو حل کرنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*