ہماری نئی نسل گوادر،بلوچستان اور پاکستان کا مستقبل ہے ،جام کمال خان

Mir Jam Kamal Khan

گوادر(خ ن)وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ہماری نئی نسل گوادر بلوچستان اور پاکستان کا مستقبل ہے جب ہم انہیں تعلیم سے آراستہ کرکے ان کی شخصیت اور کردار سازی کریں گے تو سی پیک بھی بنے گا اور گوادر بھی ترقی کرے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی ڈی اے ہائر سیکنڈری اسکول کے دورے کے موقع پر طلباءوطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وفاقی وزیر مسز زبیدہ جلال، صوبائی وزراءسردار عبدالرحمن کھیتران، میر ظہور بلیدی ، میر نصیب اللہ مری، سردار نورمحمد دمڑ، عبدالر¶ف رند، اراکین صوبائی اسمبلی سید احسان شاہ، محمد اکبر آسکانی اور میرحمل کلمتی بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سب کو اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ تعلیم کے بغیر ہمارے بچوں کا کوئی مستقبل نہیں، اساتذہ کو بچوں کے لئے رول ماڈل بننا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے طلباءسے کہا کہ پرائمری اسکول مضبوط ستون ہوتا ہے جو بچوں کی بنیاد بناتا ہے اگر بنیاد مضبوط ہوگی تو عمارت بھی مضبوط بنے گی لہٰذا وہ ہر مضمون میں محنت کریں ، کھیلیں کودیں ضرور لیکن تعلیم کے حصول پر توجہ مبذول رکھیں اور اگر کوئی غلطی ہوجائے تو اس سے سبق سیکھیں، انہوں نے کہا کہ اگر اسکول میں کارکردگی اچھی ہوگی تو اچھے کالج اور پھر اچھی یونیورسٹی میں پڑھنے کا موقع ملے گا اور ایک شاندار مستقبل ان کا منتظر ہوگا، قبل ازیں ڈی جی جی ڈی اے ڈاکٹر سجاد بلوچ اور اسکول کی پرنسپل نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور اسکول کی کارکردگی اور مسائل پر روشنی ڈالی، اس موقع پروزیراعلیٰ نے طلباءکے سائنس سٹال کا معائنہ کیا اور طلباءنے سائنسی تجربہ پیش کیا، وزیراعلیٰ نے اسکول کے طلباءکی کارکردگی کو سراہا۔ دریں اثناءوزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ گوادر ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کرنے جارہا ہے جس میں ایک مکمل یونیورسٹی کاقیام ضروری ہے، کابینہ نے گوادر یونیورسٹی کے ایکٹ کی منظوری دے دی ہے جلد اس منصوبے پر کام کا آغاز ہوگا، ماضی میں بہت سے تعلیمی اداروں کے منصوبوں کو نامکمل چھوڑدیا گیا یا ایسے مقامات پربلا ضرورت تعلیمی اداروں کی عمارتیں بنادی گئیں جہاں ان کی ضرورت نہیں تھی جس سے وسائل کا ضیاع ہوا اور ان علاقوں کے نوجوان تعلیمی سہولت سے محروم رہ گئے، ہم جو بھی منصوبے بنائیں گے وہ عوام کی ضروریات کے مطابق ہوں گے اور انہیں اپنے وقت پر مکمل کیا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے گوادر کیمپس میں طلباءوطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال، صوبائی وزراءمیر ظہور احمد بلیدی، میر نصیب اللہ مری، سردار عبدالرحمن کھیتران، سردار نور محمد دمڑ، میر عبدالر¶ف رند، اراکین اسمبلی میر حمل کلمتی، سید احسان شاہ اور اکبر آسکانی بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ یونیورسٹی کا معیار بنانے کے لئے اچھی فیکلٹی کی ضرورت ہوتی ہے ہماری کوشش ہوگی کہ مناسب پیکج دے کر ملک بھر سے ایسے اساتذہ کو بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں لایا جائے اور مقامی اہل اساتذہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کے باوجود صوبے میں یونیورسٹیوں کی تعداد میںاضافہ ہوا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے ، انہوں نے کہا کہ جلد صوبے میں نمل یونیورسٹی بھی قائم ہوگی اور نسٹ NUST جیسا معیاری تعلیمی ادارہ بھی قائم ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی 65فیصد آبادی 30سال سے کم جوانوں پر مشتمل ہے لہٰذا ہمارے پاس باصلاحیت نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد ہے جو پڑھ لکھ کر اور ہنرمند بن کر ملک اور صوبے کی تقدیر بدل سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں سیاسی ومعاشی زاویوں میں تبدیلی آرہی ہے، خاص طور پر بلوچستان کے نوجوانوں کی سوچ وفکر بدل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباءکی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، انہوں نے طلباءپر زور دیا کہ وہ تعلیم کا حصول صرف روزگار حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی شخصیت اور کردار سازی کے لئے کریں، تعلیم کو اپنی اعتماد کی مضبوطی کی بنیاد بنائیں اور اگر ان کا تعلق کسی غریب گھرانے سے ہے تو اس میں ہرگز شرمندگی محسوس نہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباءابھی سے اپنے پروفیشن کا انتخاب کریں اور اس کے لئے ریسرچ اور انٹرنیٹ کو ذریعہ بنائیں کہ انہوں نے عملی زندگی میں کس شعبہ میں جانا ہے ، اپنے رحجان اور صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر جو بھی فیصلہ کریں اس پر مضبوطی سے قائم رہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سی پیک آرہا ہے گوادر پورٹ فعال ہورہی ہے، یہ وہ مواقع ہےں جو موجودہ نسل کو حاصل ہیں لہٰذا ان تمام مواقعوں کو سامنے رکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباءاچھا فیصلہ کریں گے تو ان کا مستقبل روشن ہوگا اور اگر غلط فیصلہ کریں گے تو ان کے لئے مشکلات ہوں گی، انہوں نے طلباءکو تلقین کی کہ زندگی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مثبت سوچ وفکر اختیار کریں اور بلا جوازتنقید سے اجتناب کریں، ہر چیز میںخامی تلاش کرنے سے منفی رجحان جنم لیتے ہیں، وزیراعلیٰ نے طلباءسے کہا کہ وہ عملی زندگی میں داخل ہونے جارہے ہیں، جہاں ان کی معاشرتی اور سماجی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ طلباءسیاست میں ضرور حصہ لیں لیکن کسی اور کے راستے پر چلنے کی بجائے اپنی سوچ کے مطابق مثبت اور منفی سیاسی طرز عمل کو پرکھیں اور پھر فیصلہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی نمائندے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں لہٰذا عوام اور بالخصوص نوجوان اپنے نمائندوں جنہیں انہوں نے ووٹ دیا ہے سے ان کی کارکردگی پر سوال ضرور کریں، وزیراعلیٰ اس موقع پر طلباءوطالبات سے گھل مل گئے اور نہایت خوشگوار ماحول میں ان کی جانب سے پوچھے گئے تندوتیز سوالات کے نہایت تحمل سے مفصل جواب دیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*