نان فائلرز کو جائیداداور گاڑیوں کی خریداری کی اجازت سے ٹیکس چوروں کی حوصلہ افزائی ہو ئی ہے، پاکستان اکانومی واچ

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ نان فائیلرز کو گاڑیوں اور پلاٹوں کی خریداری پر عائد پابندی ختم کرنے سے ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ اس سے ٹیکس نیٹ میں توسیع، پراپرٹی مارکیٹ میں کالے دھن کی آمد روکنے، پلاٹوں اور گھروں کی قیمتوں میں استحکام اور گاڑیوں کی خریداری پر پریمیم کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔اس فیصلے سے پاکستان کے بارے میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی رائے بہتر نہیں ہو گی۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے راولپنڈی اسلام آباد ٹیکس بار ایسوسی ایشن (رَٹبا)کے صدر سید توقیر بخاری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹراب دوبارہ کرپشن، کک بیکس، جرائم اور ٹیکس چوری سے حاصل شدہ رقم کی پناہ گاہ بن جائے گاجبکہ گاڑیوں کے خریداروں کو لوٹنے والا اون کا کلچر دوبارہ پروان چڑھے گا۔اس فیصلے سے دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کر کے انھیں ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کیونکہ انھیں پہلے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس میں چھوٹ ملی ہوئی ہے۔اس فیصلے ملک میں رئیل اسٹیٹ مافیا اور آٹو انڈسٹری کے اثر رسوخ اور پہنچ کا پتہ چلتا ہے ۔سید توقیر بخاری نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا وفد صورتحال کا جائزہ لینے جلد پاکستان آ رہا ہے مگر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی کے بجائے حاضری لگانے کے لئے پشاور کے صرافہ بازار سے چند دکانداروں کو نقص امن کے جرم میں گرفتارکر کے تشہیر کی گئی جنھیں ہائی کورٹ نے ثبوت نہ ہونے پر چھوڑ دیا۔ایف آئی اے کے ایسے اقدامات سے ملکی ساکھ بہتر نہیں ہو گی نہ ہی ایف اے ٹی ایف کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ انکم ٹیکس کے متعلقہ قانون میں تبدیلی کے حکومتی فیصلے سے صورتحال بہتر ہو گی نہ مطلوبہ نتائج حاصل ہونگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*