قومی اسمبلی اجلاس میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دھواں دار خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکوﺅں کو ڈاکو نہ کہیں توکیا کہیں گزشتہ حکومتوں میں اداروں کو تباہ کرکے خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا اس طرح سٹیل ملز ،ریڈیو اور پی آئی اے سمیت دیگر ادارے تباہ کئے گئے گزشتہ حکومتوں نے اداروں میں اقرباءپروری کی انتہا کردی جس طرح ڈا کے کے پیسے مجرے پر لٹائے جاتے ہیں اس طرح قومی اسمبلی کے اجلا س میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مذکورہ خطاب کے بعد اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد فواد چوہدری نے اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معذت کرلی ۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری قومی اسمبلی میں دھواںدار خطاب اور اس میں مذکورہ نا زیباالفاظ کا استعمال بلاشبہ اچھا اقدام نہیں ہے کیونکہ یہ پارلیمان کے آداب کے منافی ہے ان کا استعمال ترک کرنا چاہےے ہمارے سیاستدانوں میں یہ عنصر پایا جاتا ہے کہ وہ جوش خطابت میںآکر بہت کچھ بول جاتے ہیں لیکن بعد میں اس پر معذرت بھی کرلیتے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیںکہ اس جیسے اقدامات کرنا حیرت ناک بات ہے جب ان کو بولنے کے بعد اس پر ثابت قدم نہیںرہا جاسکتا تو پھر ان کو بولنے سے گریز کرنا چاہےے ہمارے ملک کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں سیاستدان ایک دوسرے کی ذاتیات پر بھی حملے کرتے ہیں وہ سیاسی اجتماع ہو یا پارلیمنٹ اس موقع کو ضائع نہیں کر تے اس طرح پارلیمان میں یہ عمل کرنے سے ایوان میں ایک دوسرے پر حملے کرتے ہیں جس سے ماحول میں تلخی پیدا ہوجاتی ہے اور اگر یہ عملی حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے تو پھر اس پر اپوزیشن احتجاج کا راستہ اختیار کرکے واک آﺅٹ جیسا اقدام کرتی ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ہویا اپوزیشن دونوں کو پارلیمانی آداب کا ہر طرح لحاظ رکھنا چاہےے ان کو ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہےے جس سے ماحول خراب ہوجبکہ دوسری جانب پارلیمان کی کاروائی میں خلل پڑے اور نازیبا الفاظ ادا کرنے والا بالآخر معذرت کرنے پر مجبور ہوجائے یہ کوئی شائستگی نہیں ہے ۔
تمام اراکین پارلیمان کو پارلیمنٹ میں قانون سازی اور دیگر اہم امور پر توجہ دینی چاہےے خصوصاً اپوزیشن کو تنقید برائے اصلاح اورتنقید برائے تنقید سے گریز کرنا چاہےے یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔ اپوزیشن کو حکومت پر بے جا تنقید اور مذکورہ طرح کے ذاتی حملے نہیں کرنے چاہئیں اسے منتخب حکومت کو مدت پوری کرنے کا موقع دیتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے عوام ان کو اگلی مرتبہ منتخب کرنے پر مجبور ہوجائے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*