عمران خان اور کرپشن کے خلاف ”زیرو ٹالرینس“

محمد اکرم چوہدری
حدیث نبوی ہے ”پچھلی ا±متیں اس لئے برباد ہوئیں کہ وہ اپنے کمزوروں کو سزا دیتیں اور طاقتوروں کو معاف کر دیا کرتیں “بدقسمتی سے پاکستان میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا۔ بلاشبہ قانون و شواہد کی باریک بینیاں اپنی جگہ، مگر جب طاقتور چھوٹ جائے تو معاشرہ پستی کی جانب چلا جاتا ہے،مایوسی پھیل جاتی ہے۔یہ اسی وجہ سے ہے کہ معاشرے کے پھلنے پھولنے کا انحصار عدل پرہوتا ہے اور جب عدل نہ رہے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔یہاں میرٹ ،اخلاقیات ، احتساب سب کچھ داﺅ پر لگایا جاتا رہا۔ یہاں تو دن دیہاڑے ریکارڈ جلائے جاتے رہے، یہاں دن دیہاڑے ثبوتوں کو مٹانے کے لیے گواہ ہی قتل کر دیے جاتے رہے۔ ایان علی سے ڈاکٹر عاصم تک سب کو ریلیف ملتا رہا، یہاں تو بلدیہ فیکٹری سے سانحہ ماڈل ٹاﺅن تک قیامتیں آجائیں مگر کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی تھی، باقی چھوڑیں یہاں نواز شریف یہ بھی کہہ دیں کہ ”میرے اثاثے ذرائع آمدنی سے زیادہ ہیں تو تمہیں اس سے کیا“ پھر بھی کوئی کچھ نہ کر سکے۔کے عین مطابق عوام کو سب کچھ یاد ہے کہ جب جب غریب کے حق پر ڈاکہ ڈالا جاتا رہا۔ یہاں تو یہ بھی ہوتا رہا کہ غریب شبے میں ہی پکڑا جائے ، اس کی پوری نسل کی خیر نہیں ، لیکن معاملہ بڑوں کا ہو ، اربوں ،کھربوں کا ڈاکہ ہویا کوہ ہمالیہ سے بڑی نالائقی ، ادارے بے بس، قانون بے کس، ہماری مامتا جاگ جائے، کوئی نہ کوئی چور دروازہ کھول کرہی دم لیں۔ان سب سے پیچھا چھڑانے کے لیے آج وزیر اعظم عمران خان جس قدر متحرک نظر آرہے ہیں تاریخ میں شاید ہی کوئی سیاستدان اس قدر سنجیدگی سے کام کر تارہا ہو۔ گزشتہ روز اتوار کو اپنے کہے کے مطابق وہ لاہور میں موجود تھے انہوں نے بہت سے امور پر کام کیا۔ خود تو دن رات ، چوبیس گھنٹے، ہفتے میں سات دن کام کر ہی رہے ہیں، پنجاب کی پوری کابینہ کو بھی اس کی تلقین کرتے نظر آئے۔ وزیراعظم عمران خان نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کا ریکارڈ جلنے کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کی ہدایات جاری کیں اس کے علاوہ عوام کی نظر میں سب سے احسن اقدام جو انہوں نے ا±ٹھایا وہ یہ تھا کہ انہوں نے آج تک جتنی عمارتوں میں آگ لگی ہے اس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کے احکامات جاری کیے تاکہ حقائق سامنے آئیں، ماضی کی کریشن کو بے نقاب کرنے کے لیے تمام بڑے بڑے منصوبوں کا آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیا اور گزشتہ 10برس کی ایک ایک چیز عوام کے سامنے لانے کے آرڈر کیے۔قارئین کو پنجاب کے وہ دس سال اچھی طرح یاد ہے جب ون مین شو کے تحت تمام فیصلے کیے جاتے رہے۔ بیوروکریسی کا جو حال کیا وہ عوام کے سامنے ہے۔ فواد حسن فواد کی گرفتاری سب کے سامنے ہے،جو فرنٹ مین تھا۔ وہ ہر کیس میں وعدہ گواہ بننے کے لیے تیار ہے۔ ملزم نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو آشیانہ اقبال پراجیکٹ کا کنٹریکٹ معطل کرنے کے غیر قانونی احکامات جاری کئے۔ مہنگے داموں 6 موبائل ہیلتھ یونٹس خریدنے کا بھی الزام ہے، ملزم 9 سی این جی پمپس کی ایک ضلع سے دوسرے ضلع منتقلی کیلئے جعلی این او سی تیار کروانے میں ملوث رہا۔ سابق وزیراعلیٰ کے خلاف ایک اور کیس کھلنے والا ہے جس کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے 7 گھروں کو وزیراعلیٰ ہاﺅس قرار دیا تھا، راولپنڈی اور مری کے آفسز الگ ہیں جہاں اربوں روپے خرچ ہوتے تھے۔ اسی طرح وزیراعظم ہاوس میں ساڑھے تین سو ملازم ہیں۔ وزیراعظم کی 80 میں سے 33 گاڑیاں بلٹ پروف ہیں۔ ایک ایک وزیر کے پاس 10،10 گاڑیاں تھیں۔ آپ بلدیاتی نظام کو دیکھ لیں جسے تباہ کر دیا گیا، عمران خان نے اسے بھی فوری تبدیل کرکے فعال کرنے کا حکم دیا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کا خون قتل کے ذمہ داروں کا تعاقب کر رہا ہے، پنجاب کا بیڑا غرق کیا، کوئی ایسا ادارہ نہیں چھوڑاجسے بربادنہ کیا گیا ہو‘ بلدیاتی فنڈ نچلی سطح تک نہیں پہنچتے تھے۔ اور ان سب سے ہٹ کر 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کی سماعت آج کل سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ 56 کمپنیز کیس میں نیب اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو غیر معمولی تنخواہوں تک محدود کر کے الجھا دیا گیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ نے ان کمپنیوں کے افسروں کو اضافی تنخواہوں کی واپسی کا حکم دیا ہے جبکہ بھرتیوں میں جعل سازی اس سے بھی بڑا جرم ہے جس کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات میں سابق وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے چیف سیکرٹری دفتر تک کئی حکام پھنس سکتے ہیں ایڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کو سامنے رکھ کر آگر تحقیقات کریں تو آپ پہ کرپشن کے نئے در وا ہوںگے۔ انڈر میٹرک لوگوں کو سولہویں گریڈ میں بھرتی کر کے لاکھوں روپے تنخواہ دی جاتی رہی۔ جس کی گریجوایشن مکمل نہیں اسے ایچ ای سی کی دیکھ بھال میں لگایا جاتا رہا۔ الغرض، قائداعظم سولر پاور پراجیکٹ، سستی روٹی سکیم، لیپ ٹاپ سکیم، آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم، صاف پانی پراجیکٹ، میٹرو بس پراجیکٹ، اورنج ٹرین منصوبہ، سڑکوں کے منصوبے ، واٹرٹراسپورٹ کمپنی، پنجاب ماڈل بازار پراجیکٹ سمیت متعدد منصوبوں میں کرپشن کی نئی نئی داستانیں رقم ہوئی ہیں۔ بغیر ایس او پیز کے پراجیکٹ دیے جاتے رہے۔بہرکیف عمران خان نے اس تمام کرپشن پر سے پردہ ا±ٹھانے کے جو احسن اقدامات ا±ٹھائے ہیں وہ یقیناً قابل تحسین ہیں۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عوام میں شعور آئے گا، ذمہ داران کا سزا ملے گی اور معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ عمران خان نے ان کرپٹ عناصر کے خلاف پنجاب کے تمام سٹیک ہولڈرز کو یہ ہدایات جاری کیں ہیں کہ کرپشن پر زیرو ٹالرینس کی جائے گی۔ بیوروکریٹس کو کوئی غیر قانونی کام کرنے کے لیے نہیں کہیں گے۔ لیکن بیوروکریٹس کو عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔ کیوں کہ یہ ا±ن کی ذمہ داری ہے۔ اور ایل ڈی اے پر جے آئی ٹی بنے گی، اور جن لوگوں نے ایل ڈی اے میں گھپلے کیے ہوئے ہیں ا±ن پر شکنجہ کسنے اور ان سے سرکاری زمینوں کا حساب کتاب لینے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔ اور سرکاری زمینیں واگزار کروائی جائیں گی۔ چونکہ تحریک انصاف نے اسلام آباد میں 300ارب روپے کی زمینیں واگزار کروائی ہیں اس لیے ہم پورے پاکستان سے قبضہ مافیا کی جان چھڑا کر دم لیں گے۔ یہ قومی اثاثے ہیں، یہ قوم کی امانت ہیںاور قوم کے حوالے ہونے چاہئیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو یقینا یہ عمران خان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ ہمیں ا±مید یہی کرنی چاہیے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار 100دن سے پہلے ہی عمران خان کے وڑن کے مطابق عوام سے کیے گئے وعدے پورے کر لیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*