سفارتی بد اخلاقی

جاوید صدیق
جس سفارتی بداخلاقی کا مظاہرہ سشما سوراج نے نیویارک میں سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کیا وہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ بھارت نے ایک عرصہ سے سارک کی تنظیم کے ساتھ یہی انداز اپنایا ہوا ہے۔ سارک وزراءخارجہ کا اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس جنوبی ایشیا کے ملکوں کے وزراء خارجہ کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کی اس تنظیم کے پلیٹ فارم کو فعال بنانے اور اس کے مقاصد اور اہداف کے حصول کیلئے حکمت عملی بنائیں۔ بھارت نے اس تنظیم کو گذشتہ 33 برس سے مفلوج بنا کر رکھا ہوا ہے۔ سارک جنوبی ایشیا کے ساتھ ملکوں کی علاقائی تنظیم کے طور پر دسمبر 1985ء میں ڈھاکہ میں وجود میں آئی۔ سارک ملکوں کی آبادی دنیا کی آبادی کا 21 فیصد ہے۔ اس تنظیم کے قیام پر بڑا سوچ بچار کیا گیا۔ ستر کی دہائی کے آخری سالوں میں پاکستان ‘ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ مالدیپ ‘ نیپال ‘ سری لنکا اور بھوٹان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے ایک تنظیم قائم کریں گے۔ یہ تنظیم جنوبی ایشیا کے لوگوں کو مل جل کر کام کرنے اور اپنے علاقے کی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ بنگلہ دیش کے سابق صدر جنرل ضیاء الرحمن نے جنوبی ایشیا کے ملکوں کے سربراہوں کو خطوط لکھے کہ جنوبی ایشیا کے ملکوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ایک تنظیم کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
1978ءمیں سوویت یونین کی افغانستان میں عسکری مداخلت کے بعد جنوبی ایشیا کے ملکوں کے درمیان تعاون کے لئے تنظیم کے قیام کا کام تیز کیا گیا۔ بھارت شروع سے ہی اس تنظیم کے بارے میں شبہات کا شکار تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ سارک میں علاقائی سیکورٹی کے مسائل کو اٹھایا جائے گا۔ پاکستان بنگلہ دیش ‘ سری لنکا اور دوسرے ممالک بھارت کے خلاف ایکا کر لیں گے۔ پاکستان کو ابتداء میں یہ خدشہ تھا کہ بھارت دوسرے جنوبی ایشیائی ملکوں کو پاکستان کے خلاف ایک محاذ بنانے کے لئے متحرک کرے گا۔ ابتدا ہی میں یہ تنظیم شکوک اور شبہات کے ماحول میں قائم ہوئی۔ سارک کا پہلا دو روزہ اجلاس سات اور آٹھ دسمبر کو ڈھاکہ میں منعقد ہوا۔
یہ تنظیم علاقائی تجارت ‘ معاشی ترقی‘ منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام‘ سارک ملکوں میں شہریوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے ایسے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمکش ہے۔ یہ کشمکش بنیادی طور پر بھارت کی اس خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے سے ابھری ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی سیکورٹی تنازعات بھی ہیں جن میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ سارک کے پلیٹ فارم سے کشمیر کا مسئلہ نہ اٹھایا جائے۔ جب کبھی پاکستان یا کسی دوسرے ملک نے سارک کو فعال بنانے کے لئے پاک بھارت سیکورٹی مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا بھارت کے تیور بگڑ گئے اور اس نے کوشش کی سارک کانفرنس کو ناکام بنایا جائے۔
دسمبر1985ء سے لے کر اب تک سارک کے اٹھارہ سربراہ اجلاس ہو چکے ہیں۔ اس تنظیم نے معمولی پیش رفت کی ہے جس میں سارک چیمبرز آف کامرس کا قیام‘ جنوبی ایشیا کے اکاو¿نٹس کی تنظیم کا قیام‘ ساو¿تھ ایشیا فاو¿نڈیشن کی تشکیل‘ جنوبی ایشیا میں بچوں کیخلاف تشدد کے خاتمے کی تنظیم کا قیام‘ سارک ملکوں کے ادیبوں اور شاعروں کی تنظیم کا قیام شامل ہے لیکن سارک کے قیام کے دیگر مقاصد وہ اس خطے میں آزادانہ تجارت کا فروغ‘ معاشی تعاون ‘ سارک ملکوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا ان میں سے کوئی بھی مقصد پوری طرح حاصل نہیں ہو سکا۔
بھارت نے سارک کو اپنی بالادستی اور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی جس سے یہ تنظیم اپنی افادیت کھو بیٹھی ہے۔
نیویارک میں بھارتی وزیر خارجہ کا سارک وزرائے خارجہ کانفرنس میں اٹھ کر اچانک چلے جانا اور اس کے بعد افغانستان اور بنگلہ دیش کے وزراء خارجہ کا بھی کانفرنس سے نکل جانا ایک سوچی سمجھی سکیم لگتی ہے۔ بھارت اس تنظیم کو اہمیت نہیں دیتا۔ اس بھارتی رویہ سے سارک تنظیم مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق سشما سوراج کا وزراء خارجہ کانفرنس سے چلے جانا سارک ملکوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ بھارت تنظیم کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ بھارتی وزیر خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب کا سامنا کرنے سے گریز کر رہی تھیں۔ دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات اس موقع پر طے کی گئی تھی۔ خود بھارت نے اس ملاقات کی تجویز دی تھی لیکن خود ہی بھارت نے اس ملاقات کو منسوخ بھی کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک بھارت اس خطے کے بارے میں اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لاتا یہاں کے اربوں لوگ مسائل کا شکار رہیں گے۔ بھارت کو اب جو خوف کھا رہا ہے وہ چین کا جنوبی ایشیا میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں سری لنکا ‘ نیپال اور مالدیپ شامل ہیں جو اب اس کی چوہدراہٹ کو تسلیم نہیں کرتے انہیں چین کی اقتصادی امداد اور سفارتی سپورٹ حاصل ہو رہی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*