وزیراعظم ریاست مدینہ کے طر ز حکمرانی کا وعدہ پورا کرکے دکھا ئینگے ،وزیر دفاع

نوشہرہ(نیوز ایجنسی ) وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت دینی مدارس کے ہر گز خلاف نہیں درحقیقت دینی مدارس کو قومی دھارے میںلانے کے لیے کوشش کررہے ہیں‘اب تک حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایاحکومت ہر فیصلہ وفاق المدارس کی انتظامیہ اور تمام مکاتب فکر کے علماءکے ساتھ مشاور ت کے بعد کرے گی ‘وزیر اعظم عمران خان دینی مدارس کا بہت احترام کرتے ہیں کیونکی دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیںاور علم کی روشنی پھیلانے میں دینی مدارس کا قلیدی کردار ہیں‘ بعض عناصر افواہیں پھیلاکر غلط فہمیاں پیدا کرکے اپنی سیاسی دکانیں نہ چمکائیں‘وزیر اعظم عمران خان پاکستان میں ریاست مدینہ منورہ کی طرز حکمرانی کا وعدہ پورا کرکے دکھائیں گے اور دینی مدارس کے خلاف بین الاقوامی سازشوں کا خاتمہ کرکے دکھا ئیں گے۔ وہ جمعہ کو دارالعلوم حقانیہ اضاخیل کے مہتمم سید نثار اللہ باچا کی قیادت میں وفدسے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی پی کے 64 کے امیدوار لیاقت خان خٹک پی کے 61 کے امیدوار محمدابراہیم خٹک اور ممبر قوم اسمبلی ڈاکٹر عمران خٹک بھی موجود تھے پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم محمدعلی جناح کے بعد اس ملک کے ساتھ جو کہلواڑ شروع ہواس کی مثال نہیں ملتی سیاسی اور دینی جماعتوں کی قیادتوںنے بھی اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کیا جعلی منشور پیش کیے اورملک کو تباہی کے دہانے کھڑا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ‘قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد عمران خان کی صورت میں ہمیں ایماندار قیادت ملی جس کا مشن اس ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا اداروں کی بحالی اور دنیاکے نقشے پر باوقار ملک بنا نا ہے یہ بات ہماری مخالفین کوہضم نہیں ہورہی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میںصوبے غریب عوام کے اصل مسائل کے حل کرنے پر توجہ دی طبقات نظام تعلیم ختم کرنے کی طرف پہلا قدم رکھا جس طرح سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سرپرستی کی اسی طرح دینی مدارس اور مساجدوں کا بھی بھرپور خیال رکھا اس وقت بھی علماءکی مشاور ت سے تعلیم نصاب کی درستگی جہیز اور سود کی لعنت کی خاتمے ائمہ مساجد کی تنخواہوں دینی مدارس اور مساجد میں سولر ائزیشن اسلامی قانون سازی کرپشن کے خلاف جہاد صحت سمیت تمام ادارووں کی بحالی پر دن رات کام کیا اور ہمیشہ علماءکی سرپرستی حاصل رہی اور ہم نے ہر موڑ پر علماءسے مشاور ت کی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ پورے ملک میں پی ٹی آئی کو اکثریت ملی۔ پرویز خٹک نے کہا کہ دینی مدارس نے اپنی مدد آپ کے تحت مفت تعلیم ، مفت خوراک ، مفت کتب اور مفت رہائش کا جو بھیڑا اٹھایا ہے رہتی دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی اور محتاط اندازے کے مطابق چالیس سے پچاس لاکھ طلباءو طالبات دینی مدارس سے وابسطہ ہے دینی مدارس کی اہمیت سے کوئی بھی انکا ر نہیں کرسکتا انہی علماءاور مدارس کی وجہ سے ہماری سمت درست ہے جس طرح پی ٹی آئی کی سابقہ صوبائی حکومت نے دینی مدارس کو قومی دائرے میں شامل کرنے کے لیے کمپیوٹر، جدید سائنسی علوم کے لیے لیبارٹیاں بنائی اب عمران خان دینی مدارس کے خلاف بین الاقوامی سازشوں کا گلا گھوٹنے کے لیے پورے ملک کی سطح پر دینی مدارس کی سرپرستی کر نا چا ہتے ہیں اور ان کا ویژن ہے کہ وہ علماء،تمام وفاق المدارس کے ساتھ مشاور ت کرکے اگلا قدم اٹھا ئیں جس سے اسلام اور پاکستان کا صحیح تشخص دنیا پر واضح ہو اور اسلام اور پاکستان کے خلاف یہود ،ہنود اور نصارہ کی سازشیں ناکام ہو جس کا ذکر قران میں بھی موجود ہے پاکستان سب ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کررہا رہے اور یہ عمران خان کی آزاد خارجہ اور داخلہ پالیسی کا اہم نقطہ ہے جو ہماری مخالفین کو ہضم نہیں ہورہا اور یہی وجہ ہے کے وہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں اور بے پرکیا ں اڑا رہی ہے اور میڈیا بھی اس میں اپنا کردار اد کررہی ہے لیکن عمران خان پاکستا ن کو دنیا کے نقشے پر مضبوط اقتصادی اور معاشی قوت کے طورپر اجاگر کرکے دم لیں گے اور ان کا یہ مشن جاری رہے گا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*