بلوچستان کے مسائل حل کرنےکی یقین دہانی

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ برطانیہ سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے معاہدہ کیا ہے ہماری حکومت بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کریگی،بلوچستان میں اب رات کے اندھیرے میں کسی کو اٹھایا نہیں جائے گا،ہماری حکومت کو بنے ایک ماہ نہیں ہوا تو ہماری خارجہ پالیسی یاد آگئی ۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ ان کےلئے نیا لیکن بلوچستان کے عوام کےلئے بہت پرانا ہے کیونکہ جب بھی وفاق میں کوئی حکومت برسراقتدار آتی ہے وہ اسی طرح کے دعوے کرتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس پر عملی طور پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا جو بلوچستان کے عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کے مترادف اقدام ہے ۔
بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن بدقسمتی سے اسے ہر دور میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی پسماندگی کا خاتمہ نہ ہوسکا اور اس طرح اس کی عوام میں احساس محرومی پیدا ہوتا گیا جوکہ بلاشبہ ایک قدرتی عمل ہے جس کا تدارک کرنا از حد ضروری ہے ۔
اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدا رآئی ہے اور ان کی کابینہ کی ایک وزیر شیریں مزاری نے اب ایک بار پھر بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کی بات کی ہے اس لئے یہاں اس بات کا ذکر کرنا از حد ضروری ہے کہ اس کو بیان تک محدود نہ کیا جائے بلکہ اس پر عمل طور پر اقدامات کئے جائیں جوکہ وقت کی اہم ضرورت اور نہایت ہی ناگزیر ہے ۔
جیسا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں تبدیلی لانے کا نعرہ بلند کیا ہے اس کواس پر مکمل طور پرعمل درآمد کرنا چاہےے اگر وہ اس میں خدانخواستہ کامیاب نہیں ہوتی تو یہ بلاشبہ اس کی ایک بڑی ناکامی ہوگی اور اس طرح پاکستان کے عوام نے اس مقصد کےلئے ان کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے وہ اس کا احترام کرتے ہوئے ان کو صحیح معنوں میں نیا پاکستان دے گی ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہونگے وہ اطمینان سے اپنی زندگی گزار سکیں گے کیونکہ اس وقت وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں جن میں بیروزگاری ،مہنگائی اور دیگر مسائل کی بھر مار ہے ،جن کا حل کرنا بہت ہی ضروری ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*