نگراں وزیراعظم کی حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی مذمت

کوئٹہ(این این آئی) وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انتخابی امیدواروں اور سیاسی ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں شرکت کرنے والے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیکورٹی اقدامات اور ہر ممکن حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے سلامتی سے متعلق انتظامات کے بارے میں سیاسی قیادت سے مشاورت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو رونما ہونے سے بچنے کے لئے ان کا تعاون حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اتوار کو وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت گورنر ہاﺅس کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان علاﺅالدین مری، وزیر داخلہ بلوچستان آغاز عمر بنگلزئی، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، چیف سیکرٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر، سیکرٹری داخلہ بلوچستان حیدر علی کھوکھر، آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل ندیم انجم، آئی جی ایف سی بلوچستان ساﺅتھ میجر جنرل سردار طارق امان، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ اور دیگر سینئر سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا عمومی اور سانحہ مستونگ کے تناظر میں خصوصی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے مستونگ دھماکے کے بارے میں اجلاس کے شرکاءکو بریفنگ دی۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے صوبے میں عام انتخابات کے پر امن اور احسن انداز میں انعقاد کے لئے کئے جانے والے انتظامات کے بارے میں بھی اجلاس کے شرکاءکو آگاہ کیا۔ وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ انتخابی امیدواروں اور سیاسی ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں شرکت کرنے والے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیکورٹی اقدامات اور ہر ممکن حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے سلامتی سے متعلق انتظامات کے بارے میں سیاسی قیادت سے مشاورت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو رونما ہونے سے بچانے کے لئے ان کا تعاون حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور معاونت سے عوامی شعور اجاگر کرنے کے لئے فوری مہم بھی شروع کرنی چاہیے تاکہ عام لوگوں کو سیکورٹی سے متعلق معیاری طریقہ ہائے کار (ایس او پیز) کے بارے میں معلومات مل سکیں اور لوگ اس پر عمل کر سکیں۔ وزیراعظم نے سانحہ مستونگ کے بعد زخمیوں کو بروقت امداد فراہم کرنے اور انہیں منتقل کرنے کے ضمن میں مسلح افواج اور سول انتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کی جس کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں بچ گئیں۔ قبل ازیں وزیراعظم نے ساراوان ہا?س کوئٹہ کا دورہ کیا اور شہید سراج رئیسانی کے غمزدہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا جو 13 جولائی 2018ءکو مستونگ میں دہشت گردی کے حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ وزیراعظم نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا بھی دورہ کیا اور اس سانحہ میں زخمی ہونے والے لوگوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*