جعلی بنک اکاونٹس کیس،آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت20افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

اسلام آباد(اے این این )سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس سے متعلق کیس میں فیصلہ دیتے ہو ئے آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت بیس افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔اتوار کو چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاونٹس ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ سات لوگوں کے نام پر قائم انتیس اکاونٹس سے 35 ارب سے زائد کی ٹرانزکشن ہوئیں ، ڈی جی ایف آئی اے نے ساتوں نام سپریم کورٹ میں پیش کردیے۔سپریم کورٹ نے ان سات افراد اور دیگر 12 بینفشریز کو بارہ جولائی کو طلب کرلیا۔چیف جسٹس نے 29 اکاونٹ ہولڈرز کے نام پوچھے، تو بشیر میمن نے بتایا کہ طارق سلطان کے نام پر 5 اور ارم عقیل کے نام پر دو اکاﺅنٹس ہیں۔ یہ دونوں افراد ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ محمد اشرف کے نام پر ایک ذاتی اور 4 لاجسٹک ٹریڈ کے اکاونٹس ہیں، محمد عمیر بیرون ملک ہیں اور ان کا ایک ذاتی اور 6 اکاونٹس حمیرا اسپورٹس کے نام پر ہیں، عدنان جاوید کے 3 اکاونٹس لکی انٹرنیشنل کے نام پر ہیں، قاسم علی کے تین اکاونٹس رائل انٹرنیشنل کے نام سے ہیں، محمد اشرف سمیت 6 افراد نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے، سمٹ بینک کے عدیل ارشد کو ایف آئی اے سے تعاون کرنے کا کہا گیا ہے، ہم ان تمام افراد کو طلب کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ 35 ارب روپے کے فراڈیے کو آپ نے بلایا بھی نہیں، اب تک تفتیش کے مطابق ان کے پیچھے کون ہے؟،جن لوگوں سے آپ لڑنا چاہ رہے ہیں وہ آپ کے قابو میں نہیں آئیں گے، آپ کو سپریم کورٹ کی مدد درکار ہوگی، وائٹ کالر کرائم کو پکڑ لیا تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے، پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائیں جس میں فنانشل ماہرین بھی ہوں۔ بشیر میمن نے کہا کہ ہم نے سب کو نوٹس جاری کیے، مقدمہ بھی درج کروادیا ہے، حسین لوائی گرفتار ہوچکے ہیں۔ آپ کو سپریم کورٹ کی مدد درکار ہوگی، وائٹ کالر کرائم کو پکڑ لیا تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے، سمٹ، سندھ اور یو بی ایل بینک کے سربراہان کو بلا لیتے ہیں، اگر وہ ریکارڈ فراہم نہیں کرتے تو ہم دیکھ لیں گے، کیا نیب اور ایف آئی اے کی جوائنٹ ٹیم نہیں بن سکتی؟، پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائیں جس میں فنانشل ماہرین بھی ہوں۔عدالت نے آئی جی سندھ کو تمام افراد کی پیشی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے اسٹیٹ بنک کو نجی بینککی جمع کرائی گئی سات ارب روپے کی ایکوٹی روکنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ سٹیٹ بینک ایف آئی اے کو متعلقہ ریکارڈ کی حوالگی اور آئی جی سندھ تمام لوگوں کی عدالت میں حاضری یقینی بنائیں۔ عدالت نے سٹیٹ بینک کے سینئر افسران، سمٹ بنک، یو بی ایل اور سندھ بینک کے سربراہان اور سی ای اوز کو نوٹسز جاری کردیئے۔ عدالت نے احکامات جاری کیے کہ وزارت داخلہ اکانٹ ہولڈرز اور اسکینڈل میں ملوث لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے، اسٹیٹ بینک ایف آئی اے کو متعلقہ ریکارڈ کی حوالگی یقینی بنائے، سمٹ بیک کے اسٹیٹ بینک میں موجود 7 ارب کی ضمانت کی رقم کو منجمد کردیا جائے، آئی جی سندھ ان تمام لوگوں کی حاضری عدالت میں یقینی بنائے۔اس موقع پر عدالت نے جعلی بینک اکانٹس رکھنے والے 7 افراد سمیت اس سے فائدہ اٹھانے والے 13 افراد کو 12 جولائی کو طلب کرلیا۔جعلی بینک اکاو¿نٹس کے 13 بینیفشریز میں ناصر عبداللہ، انصاری شوگر ملز، اومنی پولیمئر پیکجز، پاک ایتھنول پرائیویٹ لمیٹڈ، چمبڑ شوگر ملز، ایگرو فارم ٹھٹھہ،زرداری گروپ، پارتھینون پرائیویٹ لمیٹڈ ، اے ون انٹرنیشنل، لکی انٹرنیشنل، لاجسٹک ٹریڈنگ، رائل انٹر نیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹ شامل ہیں۔سابق صدرآصف زرداری،ان کی بہن فریال تالپور،طارق سلطان ،ارم عقیل ، محمد اشرف ،محمد اقبال آرائیں اوردیگر افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کر تے ہوئے 12 جولائی تک سماعت ملتوی کر دی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*