حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لے ‘ شیخ عامر وحید

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا کہ نگراں حکومت نے اپنے دور میں دوسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جو افسوسناک ہے کیونکہ اس سے عوام کیلئے مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہو گا اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی کاروبار کی لاگت خطے میں زیادہ ہے جس سے ہماری برآمدات کو عالمی مارکیٹ میں سخت مقابلے کا سامنا ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے سے کاروبار کی لاگت مزید بڑھے گی، پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوں گی ، برآمدات میں کمی ہو گی اور مہنگائی بڑھنے سے عوام کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی لہذا انہوں نے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور معیشت و عوام کو مزید مشکلات سے بچانے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے۔ شیخ عامر وحید نے کہا کہ حکومت نے اس سے پہلے 11جون 2018کو پیٹرول کی قیمت میں 4.26روپے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمت میں 6.55روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 4.46روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا جبکہ اب دوبارہ یکم جولائی سے پیٹرول کی قیمت میں 7.54روپے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمت میں 14روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.36روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے اس طرح نگران حکومت نے اپنے دور میں اب تک مجموعی طور پر پیٹرول کی قیمت میں11.80روپے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمت میں 20.55روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 7.82روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جو بلا جواز ہے کیونکہ اس سے عوام، کاروبار اور معیشت کیلئے مزید مسائل و مشکلات پیدا ہوں گی۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر بجلی تیل سے پیدا کی جاتی ہے اور تیل کی قیمت میں اضافہ کرنے سے کمرشل و صنعتی اداروں کیلئے بجلی بہت مہنگی ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ کاروبار کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے ہماری برآمدات پچھلے کئی سالوں سے صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر رہی ہیں اور ان حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے سے پیداواری لاگت مزید بڑھے گی جس سے ہماری برآمدات متاثر ہوں گی اور معیشت کمزور ہو گی لہذا انہوںنے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پوری توجہ الیکشن کے کامیاب انعقاد پر مرکوز کرے اور معیشت سے متعلق اہم فیصلوں کو آئندہ منتخب حکومت کیلئے چھوڑے ورنہ ایسے فیصلوں سے معیشت مزید مسائل کا شکار ہو گی ۔ اسلام آباد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھے گی جس کے نتیجے میں نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو ں گی بلکہ عوام کیلئے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو گا جس سے ان کی مشکلات بڑھیں گی۔ انہوںنے کہا کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی شعبے کی مشکلات میں بھی مزید اضافہ ہو گا کیونکہ اکثر ٹیوب ویل ڈیزل سے چلتے ہیں جبکہ کھیتوں سے مارکیٹ تک مال لانے کی قیمت بھی مزید بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کئے ہوئے ہیں جس وجہ سے یہ مصنوعات پاکستان میں پہلے ہی بہت مہنگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت ہائی سپیڈ ڈیزل پر 27.5فیصد اور باقی تمام مصنوعات پر 17فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت ہائی سپیڈ ڈیزل پر 8روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 10روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی چارج کر رہی ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کرے تا کہ قیمتیں کم ہونے سے کاروبار کی لاگت کم ہو ، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے ، برآمدات میں اضافہ ہو اور معیشت بہتر ترقی کی طرف گامزن ہو ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*