بلوچستان میں مزدوروں کی فعالیت کےلئے اقدامات کرنےکی ضرورت ہے

کوئٹہ(ہ ا)سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے ہیومن رائٹس کے چیئرمین سینیٹر نواز کھوکھر نے کہا کہ بلوچستان میں مزدوروں کو فعالیت کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مائنز نکالے جانے والے ایریا میں سہولیات کی فقدان سے کام کرنے والے غریب مزدوروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینٹ فنکشنل کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر نواز کھوکھر نے پیر کے روز کوئٹہ میں ہیومن رائٹس کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سینیٹر جہانزیب جمالدینی، سینیٹر عثمان خان کاکڑ، سینیٹر ثناءجمالی ، چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق ، سیکرٹری داخلہ بلوچستان غلام علی بلوچ ، آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری و دیگر نے شرکت کی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نواز کھوکھر نے کہا کہ ہمارے مائنز ایریا میں جدید مشینری کی ضرورت ہے اور ان ایریا میں سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ چیف انجینئر مائنز ڈیپارٹمنٹ کو مائنز ایریا کا دورہ کرنا چاہئے۔ ہمارے غریب مزدوروں کو صاف پانی تک میسر نہیں، رہائش کے لئے کوئی انتظام نہیں ، خوراک کی چیزیں نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوںنے کہا کہ مائنز ایریا میں شہید ہونے والے غریب مزدوروں کے لئے کم معاوضہ دینا ظلم ہے۔ ان غریبوں کیلئے معاوضہ پانچ لاکھ سے زیادہ کردینا چاہئے۔ ان غریب مزدوروں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ مائنز ایریا میں ریسکیو سینٹر اور ہسپتال بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کام کوئٹہ سے دور دراز علاقوں میں ہورہاہے اور ان غریب مزدوروں کے علاج کیلئے ہسپتال کوئٹہ میں تعمیر کیا گیا ہے جس کی ادھر کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ ہسپتال ان علاقوں میں ہونا چاہئے جہاں مزدور کام کررہے ہیں۔ اس موقع پر آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری، بریگیڈیئر زاہد نے سینٹ فنکشنل کمیٹی آف ہیومن رائٹس کو بلوچستان میں امن و امان بارے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے علاقوں میں پولیس اور ایف سی اہلکار تعینات کئے ہیں اور باقاعدہ ان علاقوں کے لئے جانے والے راستوں میں چیکنگ کا نظام نہایت ہی فعال کیا ہے اور کوئٹہ سے تفتان جانے والے زائرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور باقاعدہ شیعہ زائرین کے بسوں کے ساتھ پولیس اور ایف سی کی سکواڈ تفتان تک سفر کررہی ہے۔ بریگیڈیئر ایف سی زائد نے بریفنگ میں کہا کہ بلوچستان میں امن کے لئے ایف سی اور دیگر ادارے فعال ہیں اور امن قائم کرنے کے لئے کافی بہتر اقدامات اٹھائے ہیں۔ آئے روز ایف سی اور پولیس بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ حال ہی میں دہشت گردوں نے ہمارے جوانوں پر حملے کئے اور ان حملوں میں ہمارے جوان شہید ہوئے۔ انہوںنے بتایا کہ حال ہی میں بلوچستان میں دہشت گردوں کے کیمپوں سے کافی تعداد میں اسلحہ اور دیگر ایمونیشن برآمد کئے اور دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ چیئرمین نے اس موقع پر کہا کہ ہم سیکورٹی اداروں کے قربانیوں کو سراہتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں پولیس افسران کی کمی اور تعیناتی کا مسئلہ اعلیٰ سطحی پر اٹھایا جائے گا اور بلوچستان کے پولیس کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات سینٹ کے پلیٹ فارم سے اٹھایا جائے گا تاکہ اس پر جلد عملدرآمد ہو اور یہاں کے مسائل حل ہوجائے۔ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو مسنگ پرسن کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور قائمہ کمیٹی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوںنے کوئٹہ میں آکر ہمارے مسئلے کو اہمیت دی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی سینٹ کے فلور پر لاپتہ افراد کے حوالے سے بھرپور طور پر آواز اٹھائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*