تازہ ترین

ہمارا گھر واقعی میں جنت بن سکتا ہے

تحریر:اسفند یار خان
مشرقی بالخصوص پشتون عورتیں بلا کی بھولی ہوتی ہیں۔ صبح سے رات تک گھر کے کام کاج کرتی اور گھر سے باہر رہنے والے اپنے مردوں کے بارے میں حسن ظن میں مبتلا ہوتی ہیں۔ ہر ماں کی نظر میں اسکا بیٹا انتہائی شریف اور تابعدار، ہر بہن کے لئے اسکا لالا (بھائی) ہیرو، ہر بیٹی کے خیال میں اسکا والد آئیڈیل اور ہر بیوی کی نظر میں اسکا شوہر دنیا کا سب سے وفادار شوہر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی جب بیٹا، بھائی، والد یا شوہر گھر آتا ہے تو کسی نہ کسی طرح اپنی عورتوں پر رعب جمانے اور ان کی عزت نفس مجروح کرنے کی شعوری یا لاشعوری کوشش کرتا ہے۔ وہ ماں جس کے قدموں تلے جنت ہے، بیٹے کے موڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اسے کوئی کام کرنے کا کہتی یا کسی کام سے منع کرتی ہے۔ بہن تو (چاہے چھوٹی ہو یا بڑی) بھائی کی نوکرانی ہی ہوتی ہے۔ بھائی تپتی دوپہر کو گھر آتا ہے تو وہ نیند سے اٹھ کر اس کیلئے کھانا لگاتی ہے اور جب تک بھائی کھاتا ہے وہ ساتھ بیٹھی اس کا مبارک چہرہ تکتی رہتی ہے۔ اسی طرح کولر اور مٹکے کے پاس بیٹھا بھائی جب پیاسا ہونے کا اعلان کرتا ہے تو بہن گھر کے دوسرے کونے سے دوڑتی ہوئی پانی پلانے حاضر ہو جاتی ہے۔ بیوی کی تو بات ہی نہ کرو، شوہر کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کیے رکھتی ہے۔ یہ سب باتیں ٹھیک اور مشرقی خاندانی نظام کی خوبیاں ہیں لیکن ان خدمات کے بدلے ان کا کماحقہ خیال نہیں رکھا جاتا۔
ہم اپنی خواتین کی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور فرمائشیں پوری کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ماں کی خواہش کے مطابق باجماعت نماز کیلئے گھر سے نہیں نکلتے یا وقت پر گھر واپس نہیں ہوتے، بہن اور بیٹی کی دلجوئی کیلئے ایک دو دن بعد ان کی پسند کی کوئی کم قیمت چیز نہیں لاتے اور بیوی کے ساتھ دہائیاں گزارنے کے بعد بھی ہم ان کے مزاج سے مطابقت پیدا نہیں کرتے۔ مثلا ہر بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا میاں دن میں ایک دو مرتبہ اس کے حسن یا اس کے کسی کام کی تعریف کرے لیکن اس معاملے میں ہم ایسے کنجوس واقع ہوئے ہیں کہ زندگی بھر ان کیلئے ہمارے منہ سے تحسین کا کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔ ہم اپنے موبائل فون میں فلمی اداکاراوں اور میڈیائی عورتوں کی تصاویر تو رکھ سکتے ہیں لیکن بیوی کی دلجوئی کیلئے کبھی اس کی تصویر نہیں لیتے یا ان سے یہ نہیں کہتے کہ فلاں رنگ تم پر سجتا ہے یا بالوں کے اس سٹائل کے ساتھ تم خوبصورت دکھتی ہو۔ اسی طرح ہر بیوی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بھائی، بہنوں اور والدین کی تعریف ہو اور ان سے ہمارے اچھے تعلقات ہوں۔ اس معاملے میں بھی ہمارا رویہ عموما الٹا ہی ہوتا ہے۔ بیوی کے سامنے ہی ہم فی سبیل اللہ اس کے خاندان والوں کی برائیاں بیان کرتے رہتے ہیں۔
ہم ہر روز اپنے گھر میں ان عورتوں کے ہاتھ کا پکایا ہوا سادہ یا پرتکلف لیکن ذائقہ دار کھانا کھاتے ہیں لیکن کبھی اپنی بیوی بہن یا بیٹی کے سامنے یہ نہیں کہتے کہ واہ کیا مزیدار کھانا پکایا ہے۔ ہاں اگر مرچ مصالحے یا نمک کی کوئی کمی بیشی رہ گئی ہو تو پہلا نوالہ نگلنے سے پہلے اپنا احتجاج ضرور ریکارڈ کرواتے ہیں تاکہ برائی کا قلع قمع کرنے میں کہیں دیر نہ ہو جائے اور اگر انہوں نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تو اسے اپنی شانِ عالی میں گستاخی سمجھ کر اسے پھوہڑ ہونے اور پتہ نہیں اور کیا کیا طعنے دیتے ہیں۔
گھر اگرچہ عورتوں کے ساتھ ہمارا ساجھا ہی ہوتا ہے لیکن آٹھوں پہر گھر کی چاردیواری کے اندر رہنے کی وجہ سے وہ اس کے معاملات میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لیتی ہیں۔ مثلا کمرے میں کونسی الماری ہونی چاہئیے، یا بیڈ کو کس کونے میں رکھا جائے یہاں بھی ہم ان کے مشوروں کو چنداں توجہ نہیں دیتے بلکہ اسے اپنے اختیارات میں دخل اندازی سمجھ کر ڈانٹ ڈپٹ سے ان کو خاموش کراتے ہیں۔مندرجہ بالا چھوٹی چھوٹی باتوں میں اگر ہم ان کی خواہشات کا خیال رکھیں تو ہمارا گھر واقعی میں جنت بن سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*