تازہ ترین

کیلا : اب تو سدا بہار پھل ہے

یہ ایک ایسا پھل ہے جو فروٹ چاٹ کا لازمی جزو بھی ہے اور جسے لاغر لوگ دودھ کے ساتھ شیک کی شکل میں استعمال کریں تو ان کا وزن بڑھ سکتا ہے یہی نہیں بلکہ توانا بھی ہو سکتے ہیں۔سبزیوں میں آلو اور پھلوں میں کیلے بچوں کی مرغوب غذا ہے۔کیلے کی ساخت میں ٹیڑھا پن ہوتا ہے اور یہ سورج کی روشنی کے سفر کے ساتھ اپنا رخ اسی جانب کر لیتا ہے۔کیلے کے درخت پر لمبی اور گول پھلیاں لگتی ہیں۔
کچی پھلی کا رنگ گہرا سبز ہوتا ہے اور پکنے کے بعد اس پھلی کا رنگ زرد ہو جاتا ہے۔مزید پختہ ہونے پر اس پر سیاہ چتیاں بھی آجاتی ہیں۔کچے کیلوں کی ترکاری سبزی خوروں کی من بھاتی ڈش ہے اور پڑوسی ملک میں کچے کیلے کو بطور سبزی پکایا جاتا ہے۔اس کے چھلکوں کو اسنیکس کی پلیٹ کی طرح استعمال کرنے کا رجحان بھی بھارت،انڈونیشیا،اور ملائیشیا کے مضافاقی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
کیلے میں کاربوہائیڈریٹس وافر مقدار میں ملتے ہیں اس کے علاوہ سیروٹون (Serotonin)اورDopamine کے ساتھ ساتھ دیگر معدنی ذرائع مثلاً پوٹاشیم،وٹامنC اور وٹامن B6 دستیاب ہوتے ہیں۔اول الذکر سیروٹونن اور ڈوپامین ایسے ہارمون ہیں جن میں ہمارا جسم خود بھی بناتا ہے اور یہ کچے کیلے کے علاوہ چاکلیٹس میں بھی پائے جاتے ہیں۔ان دونوں کا تعلق انسانی مزاج اور موڈ سے ہوتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق کیلا بے چینی،پریشانی اور بے سکونی کو کم کرتا ہے۔یہ پٹھوں کے درد میں بھی مفید ہے۔
100گرام کیلے کے صحت بخش اجزائ:
پوٹاشیم 400ملی گرام
وٹامن C 4ملی گرام
وٹامن B6 03ملی گرام
یونانی ادویات اور علاج کے ماہرین کے مطابق کیلا سرد مزاج رکھنے والا پھل ہے لہٰذا نزلہ،زکام اور دمے میں پرہیز لازمی ہے۔جبکہ کالی کھانسی میں کیلے کے تنے کا پانی مفید سمجھا جاتا ہے۔
ہیضے کی حالت میں عرق گلاب اور کیلے کی جڑ کے ساتھ دوا بنائی جاتی ہے۔طبیب مستند اور تجربے کار ہوتو یہ دوا استعمال کی جا سکتی ہے ورنہ اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔پیچش میں کیلے کے گودے کو نمک لگا کر کھانا مفید بتایا ہے۔وزن میں اضافے کے لئے دو عدد کیلے 252ملی لیٹر دودھ میں ڈال کر اچھی طرح Blendکر لیا جائے اور یہ شیک دن میں ایک بار پیا جائے تو اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔
کیلے کے چھلکے کے بھی متعدد فوائد ہیں مثلاً کیل مہاسوں اور سورائس والی جلد پر کیلے کے چھلکے کے اندر کا سفید حصہ دن میں دوبار کسی بھی کریم کی مانند استعمال کرنے سے مہینے بھر میں اس مرض سے نجات مل جاتی ہے۔پیچش کے لئے 100 گرام دہی میں ایک کیلے کو چھیل کر چھوٹے ٹکڑے کر لئے جائیں اور اسے گھوٹا بھی جا سکتا ہے دن میں تین سے چار یا وقفے وقفے سے کھا لئے جائیں تو افاقہ ہوتا ہے۔
نکسیر کی شکایت میں بھی کیلا اکسیر ہے۔250ملی لیٹر دودھ میں تھوڑے سی براو¿ن شوگر یا سفید چینی کیلے کے ساتھ ملا کر کھا لینے سے پرانی نکسیر کی شکایت بھی رفع ہو جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*