تازہ ترین

کووڈ۔19 ذیابیطس کا سبب بھی

ان میں سے صرف چند میں ذیابیطس قابو سے باہر ہو جاتی ہے،ایسا کیوں ہوتا ہے،سائنس دان ابھی تک یہ بات پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔
اس سال ڈاکٹروں کے ریکارڈ میں ایسے افراد بھی ہیں،جو ذیابیطس قسم دوم میں مبتلا ہیں،لیکن ان کو زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ان میں فربہ اور بوڑھے افراد شامل ہیں۔جو کووڈ۔19 کے خطرے کی زد میں آنے کے بعد ذیابیطسی ہنگامی حالت کے تجربے سے بھی گزرتے ہیں۔ذیابیطس قسم اول کی ابتدائی علامتوں میں شدید پیاس،تھکاوٹ،پیشاب کی زیادتی اور وزن میں کمی شامل ہیں۔ماریو کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس قسم کی علامتیں مرض کے لاحق ہونے کے اشارے ہوتے ہیں۔چند دن قبل اس نے اور اس کی بیوی سارہ نے دیکھا کہ ا±ن کے 12 سالہ لڑکے ایٹی کس (Atticus) کا وزن کافی گر گیا ہے،وہ دبلا پتلا ہو گیا ہے اور نیند میں زیادہ رہنے لگا ہے۔
دونوں میاں بیوی نے اندازہ لگایا کہ عالمی وبا کے باعث سب کی طرح چونکہ ایٹی کس بھی گھر میں قید ہو گیا ہے اور اس قید کے اثر اور طوالت سے نڈھال وبیزار ہو گیا ہے۔9 جولائی 2019ءکو جب علامتوں نے شدت اختیار کر لی تو ماریو اپنے لڑکے کو قریبی طبی مرکز لے گیا،جہاں ڈاکٹر نے لڑکے کا معائنہ اور ٹیسٹ کرنے کے بعد بتایا کہ اس کے خون میں شکر کی مقدار بہت بڑھ چکی ہے اور پیشاب میں کیتونی جسمیوں (Ketones) کا غیر معمولی اخراج ہورہا ہے،یعنی دونوں علامتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایٹی کس ایسی ذیابیطس میں مبتلا ہو چکا ہے،جس میں جسم کے سیال مادوں اور بافتوں (ٹشوز) میں کیتونی جسیمے جمع ہو چکے ہیں۔
اسے طبی اصطلاح میں کیتونی ذیابیطس (Diabetic Ketoacidosis) کہتے ہیں۔ڈاکٹر نے کہا کہ ایٹی کس کو فوراً اسپتال میں داخل کرنا پڑے گا،اس لئے کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ اس نئی قسم کی ذیابیطس کی وجہ سے وہ سکتے میں نہ چلا جائے۔ماریو نے جب آمادگی ظاہر کی تو ایک ایمبولینس انھیں 50 میل دور ایک جگہ لے گئی،جس کا نام رینو تھا اور یہیں اسپتال واقع تھا۔اسپتال میں بچوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ایٹی کس کو داخل کر لیا گیا۔
ماریو لڑکے کے پاس وہاں تین دن رہا۔ا±س نے ٹیلی فون پر اپنی بیوی کو سارا حال بتا دیا۔اسپتال میں مریض کے ساتھ شوہر ٹھیر سکتا تھا یا بیوی، دونوں کو ٹھیرنے کی اجازت نہیں تھی۔یہ احتیاط اسپتال میں کورونا وائرس کے تعدیے کے خطرے کی وجہ سے لازمی تھی۔شام میں ماریو نے ڈاکٹرسے دریافت کیا:”ڈاکٹر صاحب!میرے لڑکے کو ذیابیطس کیسے ہو گئی،یہ میرے لئے انتہائی حیرت انگیز ہے؟“ ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کا لڑکا کورونا وائرس کا شکار ہو چکا ہے،اس لئے کہ چند مہینے پہلے آپ اور آپ کی بیوی میں بھی کورونا وائرس کی علامتیں ظاہر ہوئی تھیں،لیکن اس وقت ٹیسٹ کے انتہائی سخت معیار کی وجہ سے آپ دونوں کورونا کا ٹیسٹ نہیں کرا سکے تھے۔
ایٹی کس کے پچھلے طبی ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ اس کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آئی تھی،لیکن اس کے ضد اجسام (Antibodies) کا ٹیسٹ کبھی نہیں ہوا تھا،ورنہ ہفتوں پہلے ہی کورونا وائرس کا معلوم ہو جاتا۔کووڈ۔19 سے تعلق رکھنے والی ذیابیطس پر کی گئیں ابتدائی تحقیقات اور رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ یہ بچوں کو زیادہ شکار کر رہی ہے۔لندن کے امپیرئل کالج میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کئی اسپتالوں کے ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ کی وبا نے جب بھی زور پکڑا تو ذیابیطس قسم اول نے بچوں کو زیادہ متاثر کیا اور اس قسم کے کیس زیادہ بڑھے۔ایک اسپتال میں جب پانچ بچوں کے ٹیسٹ کیے گئے تو ان کے ٹیسٹ مثبت آئے،لیکن بہت سارے بچوں کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے تھے۔لاس اینجلس میں بچوں کے ایک اسپتال کے مطابق ذیابیطس قسم دوم کے نئے تشخیص شدہ مریض بچے جو کیتونی ذیابیطس میں مبتلا تھے،ان کے خون میں تیزاب کی بہت زیادہ مقدار پائی گئی،جو مہلک ثابت ہو سکتی تھی۔
ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر للی چاو (Dr.Lily Chao) نے بتایا کہ اسپتال کا طبی عملہ یہ کھوج لگانے کی کوشش کر رہا ہے کہ مذکورہ مریض بچوں میں تیزاب کی جمع شدہ زیادہ مقدار کا سبب کووڈ۔19 ہی ہے یا کوئی اور سبب ہے۔اسپتال کی ایک تجربہ کار نرس برینڈی ایڈورڈز (Brandi Edwards) کے مطابق جب کوئی بچہ مذکورہ کیفیت میں اسپتال میں لایا جاتا ہے تو ا±سے ایمرجنسی روم یا انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جاتا ہے۔بعدازاں وہ بچے کے والدین سے انسولین کے انجکشنوں اور گلوکوس مانیٹر کی بابت بات چیت کرتی اور انھیں صلاح مشورہ دیتی ہے۔برنیڈی کہتی ہے کہ میں نے رواں برس دیکھا ہے کہ ذیابیطس قسم اول میں مبتلا بہت زیادہ بچے اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیے جا چکے ہیں،اس سے قبل اتنے کیس کبھی نہیں آئے تھے۔
ابتدائی ہنگامی حالات سے نکلنے کے بعد نئی ذیابیطس کے تشخیص شدہ مریض کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
ہر ماہ علاج معالجے اور ادویہ پر بے تحاشا پیسے خرچ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ دروں افرازی ماہر (Endocrinologist) سے وقت لے کر اس سے ملنے کے لئے طویل عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے اور ایسا امریکا کے بہت سے شہروں میں ہوتا ہے۔ماریو بیولنا ایری زونا میں رہتا تھا،ا±سے بھی ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ذیابیطس قسم اول تشخیص ہونے کے بعد اسے دو مہینوں سے زیادہ عرصے تک گلوکوس مانیٹر کے حصول کے لئے وفاق کی نافذ کردہ بیمہ صحت کی امدادی رقم کا انتظار کرنا پڑا۔
اس بیماری نے ا±سے طویل عرصے تک بے کار رکھا اور معاشی طور پر اس کا دیوالیہ نکل گیا۔اس کی دوسری بیوی ایریکا 8 ماہ کی حاملہ تھی،ا±ن کی 3 سالہ ایک بیٹی کیٹا لینا بھی تھی۔ایک دن اچانک ماریو بیولنا کی بیوی کو علاقہ بدری کا ایک نوٹس ملا،جب کہ ماریو اپنے صاحب زادے کے ساتھ اسپتال میں تھا۔گھر میں ا±ن کے پاس کھانے پینے کی تھوڑی سی اشیاءہی بچی تھیں۔ان کی زندگی طوفان کی زد میں تھی اور طوفان دھیرے دھیرے ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔کووڈ۔19 نے لاکھوں خاندانوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا اور یہ خاندان بھی تباہی کے دہانے پر پہنچنے والا تھا:
کشتیاں ڈوب گئی ہیں اپنی
اب لیے پھرتا ہے دریاہم کو

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*