تازہ ترین

کراچی لی مارکیٹ ہوٹلزمالکان کاحکومت سندھ سے ریلیف پیکیج کا مطالبہ

کراچی (کامرس ڈیسک)کراچی لی مارکیٹ کے ہوٹلزمالکان نے حکومت سندھ سے ریلیف پیکیج کی فراہمی کا مطالبہ کردیا ہے، ہوٹل مالکان کو یومیہ لاکھوں روپے نقصان کا سامناہے،لی مارکیٹ میں واقع 30سے زائد ہوٹلز میں100فیصد کمرے خالی ہیں جس کی وجہ سے ہوٹلوںکی آمدن بری طرح متاثر ہورہی ہے اور ہوٹل مالکان کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے، ہوٹل انڈسٹری کے ریونیو ختم ہوگئے ہیں اور انھیں اپنے عملے کی تنخواہوں اور یوٹلیٹی بلوں تک کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ہوٹل انتظامیہ کے پاس بلڈنگ کے کرائے،یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی اور ملازمین کو تنخواہوںکی ادائیگی کیلئے بھی رقم دستیاب نہیں ہے۔ہوٹلزاینڈشاپس اونرزویلفیئرایسوسی ایشن کے ارکان عبدالحق مخلص،حاجی گل جان مینگل،حاجی غلام حسین کرد،حاجی عبدالرشید، قاری یار محمد،محسن خان،نویداللہ ، مقصود بروہی،محمد نصیب ،محمد عمران ، حاجی لال محمد نے ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ دیگر انڈسٹریزکے ساتھ لی مارکیٹ کی ہوٹل انڈسٹری اور اس سے وابستہ شعبوں کو بھی ریلیف پیکج میں سرفہرست رکھا جائے اورہوٹلوں پر عائد یوٹلیٹی بلز کی ادائیگیاں موخر کرتے ہوئے ہوٹلوں پر عائد حکومتی محصولات کی چھوٹ فراہم کرکے ہوٹل انڈسٹری کو فوری ریلیف فراہم کیا جاسکتاہے۔ عبدالحق مخلص کے مطابق ان ہوٹلز میں بلوچستان سے آنے والے کاروباری افراد اورعلاج کیلئے آنے والے خاندان رہائش اختیار کرتے ہیں اور رمضان المبارک سے دوماہ قبل ہی سب ہوٹلزکے کمرے بک رہتے ہیں کیونکہ رمضان سے قبل کاروباری افراد کی کراچی آمد بڑھ جاتی ہے مگر امسال لاک ڈاﺅن کی وجہ سے سناٹاہے اور100فیصدکمرے خالی پڑے ہیں جبکہ ہوٹلزسے وابستہ ٹریولزایجنسیز، رینٹ اے کار،ریسٹورنٹس اور جنرل اسٹورزبھی بند ہیں جس کی وجہ سے انہیں بھاری مالی نقصان کا سامناہے ،ان ہوٹلز میں سے 80فیصدبلڈنگ ہوٹلز کے مالکان نے کرائے پر لئے ہوئے ہیں جنہوں نے مالکان کو ہر صورت میں کرائے کی ادائیگی کرنی ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*