تازہ ترین

پی ڈی ایم کا 14 نومبر کو اسلام آباد میں سربراہی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈیم ایم کا حقیقی ہدف آئینی اور جمہوری نظام کی بحالی ہے،پاکستان کا سنگین مسئلہ معاشی بحران ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، اس کے لیے متفقہ میثاق طے کیا جائے گا ، تین ہفتے گز چکے حکومت مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ، فارن فنڈنگ کیس التواءکا شکار ،دنیا کو چور کہا جا رہا ہے ،اپنے اوپر لگے مقدمات التواءکا شکار ہوتے جا رہے ہیں ، صاف ظاہر ہے کہ دل میں سب کچھ کالا ہے ، اپوزیشن میں مکمل اتحاد ہے 14نومبر کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔تفصیلات کے مطابق اتوار کوپاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کا اجلاس صدر مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، اختر مینگل، آفتاب شیرپاﺅ، مولانا عبدالغفور حیدری، امیر حیدرہوتی، میاں افتخار حسین، شاہ اویس نورانی، ساجد میر، حافط عبدالکریم اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے شرکت کی۔اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، سابق صدر آصف علی زرداری اور محسن داوڑ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا، سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کا سنگین مسئلہ معاشی بحران ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی سکون اور عزت نفس چھین لیا ہے ،ایسی صورتحال میں پی ڈی ایم کی تحریک کو آگے لے جایا جائے گا ۔ ملک کے مختلف شہروں میں جلسے جلسوں کے شیڈول پر بھی بات کی گئی ۔ پی ڈیم ایم کا حقیقی ہدف آئینی اور جمہوری نظام کی بحالی ہے ۔ اجلاس میں اس حوالے سے ایک میثاق طے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ 13 نومبر کو پی ڈی ایم کی اسٹرئینگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا ۔ تمام جماعتیں اپنی تجاویز لائیں گی اس کے بعد متفقہ میثاق طے کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 14 نومبر کو اسلام آباد میں سربراہی اجلاس ہوگا۔جو اسٹرئینگ کمیٹی کی سفارشات کو حتمی شکل دے گا ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں 19 اکتوبر کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس کی ایک بار پھر مذمت کی گئی ۔ طے پایا تھا کہ اس واقعہ کے لئے بنائی گئی تحقیقی کمیٹی دس روز میں رپورٹ پیش کرے گی ۔ تین ہفتے گزر جانے کے بعد بھی رپورٹ سامنے نہیں آئی ۔ رپورٹ آنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ پولیس کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے بیان پر اعتراض کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس التواءکا شکار ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ دل میں سب کچھ کالا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا نام لینا یا نہ لینا کوئی بڑی بات نہیں، سب کومعلوم ہے اسٹیبلشمنٹ سے مرادکیا ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*