تازہ ترین

پاکستان اور روس کا ”بین الحکومتی کمیشن“اجلاس کے جلد انعقاد پر اتفاق

اسلام آبا د(این این آئی) پاکستان اور روس نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے ”بین الحکومتی کمیشن“کے اگلے اجلاس کے جلد انعقاد پر اتفاق کرتے ہوئے کہاہے کہ دو طرفہ اقتصادی، تجارتی و دفاعی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون بڑھایا جائیگا ،باہمی تجارت 790 ملین ڈالرز کو پہنچ گئی ہے ،باہمی تجارت میں مزید اضافے ی ضرورت ہے جبکہ وزیر خاوجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات نئی جہت اور بلندی اختیار کر رہے ہیں ،ہمارا اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر تعاون بہترین ہے ،یکساں فوائد کے حامل تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں،پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پر امن حل کا حامی ہے ،روس ہیلتھ کیئر میں بہت آگے ہے، روسی ویکسین نے اچھے نتائج دکھائے ہیں۔ بدھ کو وزارتِ خارجہ میں پاکستان اور روس کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ،پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ روسی وفد کی قیادت روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں آپ کو اور آپ کے وفد کو وزارت خارجہ آمد پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں ،۔ انہوںنے کہاکہ کرونا عالمی وبا کے دوران روس میں ہونیوالے جانی نقصان پر افسوس ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ جس جوانمردی کے ساتھ روس نے اس عالمی وبائی چیلنج کا سامنا کیا وہ قابل تحسین ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک روسی کرونا ویکسین ”سپوٹنک 5“ سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان اور صدر پیوٹن کے مابین متواتر رابطہ، دو طرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان، نے اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی معاشی ترجیحات میں تبدیل کیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے ماسکو شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سے ہونیوالی ملاقات اور کثیرجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے ہونیوالے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، روس کے ساتھ کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے پر عزم ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم، بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے ای ویزہ سمیت بہت سی سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔ دوران مذاکرات اقتصادی، تجارتی و دفاعی تعاون کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ۔پاکستان اور روس کے مابین اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے ”بین الحکومتی کمیشن“کے اگلے اجلاس کے جلد انعقاد پر اتفاق کیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان، روس کے اشتراک ساتھ ”سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے“کے جلد آغاز کیلئے پر عزم ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار خلوص نیت سے ادا کرتا آ رہا ہے ۔وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے روس کی کاوشوں کو سراہا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ افغان امن عمل کے حوالے سے، گذشتہ ماہ ماسکو میں وسیع سہ رکنی اجلاس کا انعقاد قابلِ تحسین ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دشنبے میں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس اجلاس کے موقع پر میری ایمبیسڈر ضمیر کابلوف کے ساتھ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی ۔وزیر خارجہ نے روسی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور علاقائی امن کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پر امن حل کا حامی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم تنظیم سمیت اہم علاقائی و عالمی فورمز پر پاکستان اور روس کے مابین تعاون، دو طرفہ تعلقات کے فروغ کا باعث ہے ۔روسی وزیر خارجہ نے پرتپاک خیر مقدم پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دو طرفہ اقتصادی، تجارتی و دفاعی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ سرگئی لاﺅروف کو وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے وفود کی سطح پر مذاکرات ابھی مکمل ہوئے ،روس کے ساتھ ہمارے تعلقات نئی جہت اور بلندی اختیار کر رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ روس کے ساتھ کثیرجہتی مضبوط تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے، ہماری جغرافیائی سرحد سے آگے واقع روس کو ہم خطے اور عالمی منظر نامے میں استحکام کا باعث سمجھتے ہیں۔ انہوںنے کہاک ہروس اقوام متحدہ کی مرکزیت اور عالمی قانون وکثیرالقومیت کی بنیاد کا بھرپور مبلغ ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ باعث اطمنان ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات اعتماد اور ہم آہنگی سے عبارت ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارا اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر تعاون بہترین ہے اور ہم اسے مزید مستحکم بنا رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ہم یکساں فوائد کے حامل تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔انہںنے کہاکہ ہمارے تجارتی تعلقات میں پچھلے برس مزید اضافہ ہوا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہماری گفتگو میں ہم نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں پر بات چیت اور تبادلہ خیال کیا کہ ان تعلقات کو اور بھی زیادہ تحریک اور تقویت کس طرح سے مل سکتی ہے، ہم نے ان طریقوں پر غور کیا جس سے تجارت سمیت دوطرفہ معاشی تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہو۔ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور روس بین الحکومتی کمیشن کا آئندہ اجلاس کورونا سے متعلق پابندیوں کے نرم ہوتے ہی جلد بلانا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے نارتھ ساو¿تھ گیس پائپ لائن منصوبے سمیت توانائی کے شعبہ میں تعاون پر پیش رفت کا جائزہ لیا،ہم نے انسداد دہشت گردی اور دفاع سمیت سکیورٹی کے شعبے میں ہمارے درمیان تعاون کا بھی جائزہ لیا۔ انہوںنے کہاکہ مجھے خوشی ہے روسی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا انہوںنے کہاکہ ہم نے ملٹی لیٹرل ایجنڈا کے زیادہ تر امور پر پاکستان اور روس کے موقف میں یکجائی دیکھی۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کے حوالے سے ہم نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن واستحکام کے لئے افغانستان میں امن واستحکام نہایت ناگزیر ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے افغان قیادت میں افغانوں کو قابلِ قبول امن عمل کے لئے ہماری حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ میں نے وزیر خارجہ لاوروف کو گزشتہ ماہ ماسکو میں افغانستان پر ایکسٹینڈڈ ٹرائیکا اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارک دی۔ انہوںنے کہاکہ میں نے روسی وزیر خارجہ کو جنوبی ایشیاءمیں امن وسلامتی کے بڑے سوال، بھارت کے ساتھ ہماری سرحد پر نازک صورتحال اور غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ میں نے انہیں پاکستان اور بھارت کے مابین 2003 کے سیز فائر معاہدے کی دو طرفہ پاسداری کے حوالے سے آگاہ کیا انہوںنے کہاکہ ہم پراعتماد ہیں کہ اس دورے سے ہماری دوستی کو گہرا کرنے کا عمل مزید تیز ہوگا،میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت کے ساتھ بارڈرز کی صورتحال پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا،مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت اور اہمیت سے آگاہ کیا،جموں و کشمیر کی صورتحال سے روسی ہم منصب کو بھی آگاہ کیا،پاکستان اور روس نے دوطرفہ رابطے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس موقع پر روسی وزیرخارجہ نے کہاکہ کورونا وائرس وبا کے باوجود ہمارے سیاسی تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں،باہمی تجارت 790 ملین ڈالرز کو پہنچ گئی ہے اور اس میں چالیس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،ہم سمجھتے ہیں باہمی تجارت میں مزید اضافے ی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے انرجی شعبے میں تعاون پر بھی بات کی جس میں نارتھ ساﺅتھ گیس پائپ لائن اہم ہے،ہمارا 2015ءکا ایک ایگریمنٹ ہے، اس پر مزید اتفاق رائے جیسے ہی ہوتا ہے ہم کام شروع کردیں گے۔ انہوںنے کہاکہ انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پاکستان کو تعاون فراہم کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری مشترکہ فوجی مشقیں بھی ہونے جارہی ہیں،ہم بین الاقوامی اداروں جیسے یو این میں تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا اہم رکن اور انسداد دہشت گردی سٹرکچر میں بہت فعال ہے،ہمیں افغانستان میں بڑھتی دہشت گردی پر تشویش ہورہی ہے ،افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہورہی ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی مذاکرات سے ہی افغانستان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ روس، چین امریکہ اور پاکستان نے افغانستان کے معاملہ پر بات چیت کی ہے،ہماری افریقہ اور مڈل ایسٹ کی سورتحال پر بات چیت بھی ہوئی ہے،یمن، لیبیا شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہو۔سرگئی لاروف نے کہاکہ روس سمجھتا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل میں براہ راست بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ایشیا بحرالکاہل کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے،امریکہ خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کررہا ہے،ہم نئی تقسیم لائنز کے واضح طور پر خلاف ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔روسی وزیرخارجہ نے کہاکہ ہم نے دوطرفہ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لئے اقدامات پر اتفاق کیا ہے،ہم نے دو سو ملین ڈالرز سے زائد کی گندم پاکستان کو فراہم کی۔ انہوںنے کہاکہ نیوکلیئرانرجی کے ہمارے شعبوں میں بھی تعاون شروع ہوا ہے،صنعتوں کا فروغ بہت اہم ہے،بین الوزارتی کمیشن کے اجلاس میں اس پر مزید غور ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری باہمی تجارت میں بہت گنجائش ہے،پاکستان خطے میں تجارت بڑھانے پر یقین رکھتا ہے جس میں روس بہت اہم ہے،توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعاون کی بہت اہمیت ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ روس ہیلتھ کیئر میں بہت آگے ہے، روسی ویکسین نے اچھے نتائج دکھائے ہیں،پاکستان نے کرونا کی روسی ویکسین کی تجارتی بنیادوں پر حصول کے اقدامات کئے ہیں، ہم نے روس سے بات کی ہے کہ کس طرح سے یہ ویکسین پاکستان میں بنانے کے لئے تعاون ہوسکتا ہے۔روسی وزیرخارجہ نے کہاکہ روس نے ویکسین کی پندرہ ہزار ڈوز پاکستان کو فراھم کی ہیں،ہم مزید ڈیڑھ لاکھ ڈوزز فراہم کررہے ہیں،پاکستان میں بہت ڈیمانڈ ہے، ہم کوشش کریں گے مزید فراہم کریں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے درمیان پاک ایران بھارت پائپ لائن پر کوئی بات نہیں ہوئی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*