تازہ ترین

متوازن غذا کی تلاش

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم
(گذشتہ سے پیوستہ)زیادہ جمنے والی چکنائی کھانے سے حیاتین ھ (وٹامن ای) کی ضرورت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔خون میں کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے،فالج اور عارضہ رگ دل وغیرہ کی بنیاد پڑتی ہے۔مرض سرطان کا تعلق بھی زیادہ چکنائی کھانے سے ہے۔بہ کثرت نمک خوری کی عادت فشار خون،امکان فالج اور سرطان معدہ میں اضافہ کرتی ہے۔اگر غذا میں شکر زیادہ ہو تو لحمیات (پروٹینز) کی ضرورت بھی زیادہ ہو جاتی ہے،جو جسم کو نہ ملے تو نقاہت ہوتی ہے۔غذا کی مقدار زیادہ ہو تو فربہی اور دیگر امراض کا خطرہ ہوتا ہے۔ہماری غذا کو مصنوعی طریقوں سے بھی خراب کر دیا گیا ہے۔آج کل غذاو¿ں میں اس قدر ملاوٹ ہو رہی ہے،جتنی تاریخ کے کسی دور میں نہیں ہوئی تھی۔اب ان غذاو¿ں سے ضروری مغزیات حاصل کرنا دشوار ہو گیا ہے۔
مستقبل میں جو غذائیں دستیاب ہوں گی،ا±ن کے تصور ہی سے وحشت ہوتی ہے۔ماضی میں جو بچے اپنی ماو¿ں کی نرم وگداز چھاتیوں کو منہ میں لینے کے مشتاق تھے،اب ان کے ننھے منے منہ میں سخت اور ٹھنڈے نپل (بوتلوں) ٹھونسے جا رہے ہیں۔ان کو ڈبوں کی وہ غذائیں اور وہ دودھ دئیے جا رہے ہیں،جن میں نمک،چینی اور چکنائی کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے اور جس کا نتیجہ سوائے علالت کے اور کیا ہو گا۔خراب غذا ضروری نہیں کہ صرف غریبوں کا ہی مقسوم ہو اور تمام امیر لوگوں کو صحیح غذا حاصل ہو۔بازار کی تیار شدہ چٹ پٹی اور روغنی غذاو¿ں کو ہم نے اپنی سب سے بڑی ضرورت بنا لیا ہے۔اس لئے بھی یہ تیزی سے رائج ہوتی جا رہی ہیں،کیونکہ لوگوں کے پاس وقت کم اور پیسہ زیادہ ہے۔کم فرصتی کے سبب سے بازاری غذا واقعی ضرورت بن گئی ہے۔خواتین بھی باہر کام پر جارہی ہیں۔
پکی پکائی غذائیں کھانے سے خواتین میں نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ان کو ایک طرح سے احساس جرم ہو رہا ہے کہ کھانا پکانے کا جو کام ان کو کرنا چاہیے،وہ نہیں کر رہی ہیں۔
چونکہ بازاری غذائیں متوازن نہیں ہوتیں اور مغزیات سے تہی ہوتی ہیں،اس لئے ان کو مستقلاً کھانا مناسب نہیں۔اگر حیوانوں کو بھی صرف یکساں،یعنی غیر متنوع غذا دی جائے تو وہ کچھ عرصے بعد بیمار ہو کر مر جاتے ہیں۔
صحیح غذا کے انتخاب اور دستیابی میں یہ دشواری بھی ہے کہ متوازن غذا کے متعلق معلومات نامکمل ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ صحت وتندرستی کی خاطر گوشت،انڈوں اور دودھ پر زیادہ زور دیا جاتا تھا اور وزن کم کرنے کے لئے روٹی،چاول اور آلو کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا تھا،جو صحیح نہیں تھا،اس لئے کہ علم ہر لمحہ ایک بڑھنے والا عمل ہے۔اب غذا کے متعلق معلومات میں اضافے سے ذیابیطس کے مریضوں کے لئے چکنائی والی غذا،خصوصاً جمنے والی چکنائی جو حیوانی غذاو¿ں میں بالعموم ہوتی ہے،مضر ثابت ہو رہی ہے۔
اس کے برعکس بھوسی ملے آٹے کی روٹی،چاول اور آلو اپنے نشاستے اور ریشے کی فیض سے مضر نہیں، بلکہ مفید ہیں۔
حصول غذا کی مشکلات کی وجہ سے ہم جال کے پھندے میں پھنس گئے ہیں اور پھندے میں پھنسے ہوئے پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہے ہیں۔آخر وہ کون سی غذا ہے جسے صحیح کہا جائے،خصوصاً اس اشتہار بازی کے زمانے میں کہ جب روز اشتہار کے زیر اثر ہر غذا پر یہ یقین آنے لگتا ہے کہ یہی غذا دراصل صحت بخش غذا ہے۔
اچھی یا ب±ری غذا۔اچھی غذائیت کا صرف یہی مطلب نہیں کہ کسی خاص غذا کی حقیقی یا فرضی اہمیت کو جتایا جائے۔غذائیات ان تمام عادات طعال کا نام بھی نہیں ،جو آپ کو پسند ہوں۔غذا کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے آپ کے دسترخوان پر کھانا آجائے۔غذائی قلت بالعموم صرف ایک شے کی نہیں ہوتی،بلکہ مختلف اشیا کی قلت ہوتی ہے اور انتخاب غذا میں علمی روشنی اور علمی رہ نمائی ضروری ہے۔
بہرکیف یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ فی زمانہ غذائی رہ نمائی کے نہایت آسان اور اصول و قواعد دستیاب ہیں،جن کے مطابق ہر شخص تندرست و صحت مند رہنے کے لئے صحیح غذا کا انتخاب کر سکتا ہے۔ایسی غذا کی تلاش مشکل نہیں،جو نہ اس قدر گراں ہو کہ لوگوں کی دسترس سے باہر ہو،نہ یہ ولایت سے درآمدہ ہو،نہ یہ مغرب کی نقل ہو ،نہ جس میں کوئی اشتہار بازی ہو اور یہ ہماری روایات سے بھی پیوستہ ہو۔
دراصل غذائی افادیت سے واقفیت کے لئے گنجینہ معلومات ضروری ہے،جو ہر وقت دستیاب رہے۔بعض غذاو¿ں کی فائدہ رسانی تجربے سے بھی ثابت ہو جاتی ہے،جیسے بھوسی دار غذا سے قبض میں مبتلا افراد کو فائدہ ہوتا ہے۔
غذا سے توانائی اور مغزیات (لحمیات،کار بیدہ،روغنیات،معدنیات و حیاتین)حاصل ہوتے ہیں۔لحمیات سے آٹھ سے دس ضروری امینو ترشے (AMINO ACIDS)، روغنیات سے ضروری روغنی ترشے،مثلاً لینولیئک ایسڈ (LINOLEIC ACID) ملتے ہیں۔
حیاتین کی اب تک معلوم تعداد 13 ہے۔معدنیات و عناصر 18 ہیں۔ان کے علاوہ اوکسیجن،ہائیڈروجن،نائٹروجن اور کاربن بھی ہیں،جو سب مل کر 40 ہو جاتے ہیں اور مختلف آمیزوں میں دستیاب ہیں۔مکمل و متوازن غذا کھانے سے یہ آپ سے آپ حاصل ہو جائیں گے۔
ریشہ یا پودوں کا ا±وپری پرت بھی بے مصرف نہیں ہوتا۔اس سے فضلے کی مقدار بڑھتی ہے،آنتوں میں غذا کا سفر تیز ہوتا ہے۔غذا میں اس کی موجودگی سے شکر و چکنائی کا انجذاب آہستہ و ہموار ہوتا ہے،خون میں شکر معمول کے مطابق رہتی ہے اور خون کی روغنیات میں اعتدال آتا ہے۔سرطان کا مرض،خصوصاً بڑی آنت کے سرطان سے تحفظ ملتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*