تازہ ترین

لاک ڈاﺅن کا اطلاق اب مساجد پر نہیں ہوگا، مفتی تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن

کراچی (این این آئی) اکابر علمائ، اتحاد تنظیمات مدارس دینینہ اور مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے فیصلہ کیا ہے کہ لاک ڈاﺅن کا اطلاق اب مساجد پر نہیں ہوگا۔ پانچوں اوقات، نماز جمعہ اور تراویح کی نماز احتیاطی تدابیر کے ساتھ باجماعت ادا کی جائے گی۔ آئمہ مساجد لوگوں کو نماز سے روک نہیں سکتے، ان کا کام مسجد میں آنے والوں کو نماز پڑھانا ہے، اس بنیاد پر مقدمات قائم کرنا قابل مذمت عمل ہے۔ حکومت مساجد اور مدارس کو ریلیف دیتے ہوئے ایک سال یا کم از کم تین ماہ کے بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی بلز معاف کرے۔ آئمہ مساجد کے خلاف مقدمات قائم کرنا درست عمل نہیں ہے۔ پوری قوم کورونا وباءکے خاتمے کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور رجوع کرے۔ علماءنے مساجد کو آباد رکھنے کے لئے 13 نکاتی احتیاطی تدابیر بھی مرتب کی ہیں جبکہ نفاذ اور عمل کے حوالے سے علماءاور رہنماﺅں پر مشتمل 12 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ یہ فیصلہ منگل کو جامعہ دارالعلوم کراچی میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں مفتی منیب الرحمن، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا ڈاکٹر قابل خان، صاحبزادہ شاہ اویس نورانی، شیخ محمد سلفی، مولانا یوسف قصوری، مولانا راشد سومرو، محمد حسین محنتی، قاری محمد عثمان، مولانا امداد اللہ، مولانا ڈاکٹر قاسم محمود، مولانا اعجاز مصطفی، مولانا مفتی عابد مبارک، مفتی رفیع الرحمن نورانی، حافظ احمد سلفی اور بڑی تعداد میں علمائ، اتحاد تنظیمات مدارس اور مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے شرکت کی۔ مذہبی جماعتوں میں جمعیت علماءاسلام، جمعیت علماءپاکستان، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیت اہلحدیث، تنظیم اسلامی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق ہائے مدارس، وفاق المدارس العربیہ پاکستان، تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، رابطة المدارس پاکستان، وفاق المدارس السلفیہ، بیشتر جامعات، قائدین اور مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کا اعلان کراچی پریس کلب میں منگل کی شام کو پرہجوم پریس کانفرنس میں مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی مفتی منیب الرحمن نے کیا۔ اس موقع پر شاہ اویس نورانی، مولانا راشد محمود سومرو، محمد حسین محنتی، مولانا یوسف قصوری، مولانا اعجاز مصطفی، قاری محمد عثمان، مولانا ڈاکٹر عادل خان، مفتی عابد مبارک اور دیگر بھی موجود تھے۔ مفتی تقی عثمانی نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں مذہبی جماعتوں، اتحاد تنظیمات مدارس کے رہنماﺅں اور مدارس کے مہتمیمین کے علاوہ اور دیگر نے شرکت کی جبکہ ٹیلی فون کے ذریعے مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، لیاقت بلوچ، علامہ ساجد میر، مولانا محمد حنیف جالندھری اور دیگر سے مشاورت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قاری حنیف جالندھری نے شیعہ علماءسے رابطہ کیا اور انہوں نے بھی اس اعلامیہ کی تائید کی ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ کورونا وباءسے پوری نسل انسانی آزمائش میں مبتلا ہے۔ یہ وقت اللہ سے توبہ اور رجوع کا وقت ہے۔ علماءاور مذہبی رہنماﺅں نے شدید غور وفکر کے بعد احتیاطی تدابیر طے کی ہیں اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھلی رہیں گی۔ مساجد میں پانچ وقت نماز، جمعہ کی نماز اور تراویح کی نماز باجماعت ادا ہوگی۔ تین یا پانچ افراد کی حکومتی پابندی قابل عمل ثابت نہیں ہورہی ہے۔ بیمار وائرس سے متاثر یا ان کی عیادت پر مامور، بزرگ افراد مسجد کے بجائے گھروں میں نماز ادا کریں اور انہیں جماعت کا ثواب ملے گا۔ مساجد سے قالینوں کو ہٹا کر ہر نماز کے بعد جراثیم کش ادویہ سے صفائی کی جائے۔ مساجد کے دروازوں پر سینی ٹائزر گیٹ نصب کئے جائیں۔ اس شرعی ذمہ داری میں اہل محلہ اور مخیر حضرات کردار ادا کرسکتے ہیں۔ دو صفوں کے درمیان ایک صف کا فاصلہ ہو اور دائیں بائیں مقتدی مناسب فاصلے سے کھڑے ہوں۔ اگرچہ عام حالات میں شرعاً ایسا مکروہ تحریمی ہے تاہم عذر کی بناءپر انشاءاللہ کراہت باقی نہیں رہے گی۔ تمام حضرات وضو گھر سے کریں۔ سنتیں اور نوافل بھی گھر میں ادا کریں۔ نمازی ہاتھ صابن سے دھو کر اور ماسک پہن کر مسجد میں آئیں۔ نماز جمعہ میں اردو تقریر بند کی جائے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو صرف پانچ منٹ کے لئے لوگوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے۔ خطبہ جمعہ کو ضروری حمد وصلوٰة، تقویٰ کے بارے میں ایک آیت اور مسلمانوں کے مصائب سے نجات کی دعا پر محدود رکھا جائے۔ جماعت کے بعد اور جماعت سے پہلے ہجوم سے گریز اور نماز کے بعد ہجوم کے بجائے فاصلے سے گھروں کو جائیں۔ آئمہ مساجد عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کریں تاہم عمل کرانے کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہے۔ اس کے لئے علماءکو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حکومت سندھ نے گزشتہ اجلاس میں مساجد کے آئمہ اور انتظامیہ کے خلاف دس مقدمات فوری طور پر واپس لینے اور آئندہ اس طرح کے مقدمات قائم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی جس سے باہمی اعتماد اور اتحاد مجروح ہوا ہے۔ آئندہ اس طرح کی کارروائیوں سے گریز کریں۔ تمام ایف آئی آر واپس لیں اور گرفتار آئمہ کو فوری طور پر رہا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے شرکاءنے میڈیکل اور دیگر تمام شعبوں کے ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو اس وباءسے چھٹکارے کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ آج سے مساجد پر لاک ڈاﺅن کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اعلامیہ کے مطابق مساجد میں پانچوں اوقات نماز با، جمعہ اور نماز تراویح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا لاک ڈاﺅن میں ہے۔ ہمیں مشکلات کا احساس ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام 8 ماہ سے لاک ڈاﺅن میں اور بھارتی مظالم کا شکار ہیں۔ اس پر دنیا نے خاموشی اختیار کی یہ عمل قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لاک ڈاﺅن کے دوران مزدور اور غریب طبقے کے مسائل کو بھی مدنظر رکھے۔ حکومت مساجد اور مدارس کے یوٹیلٹی بلز معاف کرے۔ ایک سال نہیں تو کم سے کم تین ماہ ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے مدارس اور مساجد شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مساجد اور مدارس سے وابستہ افراد کے مسائل کون حل کرے گا۔ کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مواقعوں پر حکومت نے مساجد کے آئمہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور ان پر قائم مقدمات فوری طور پر قائم کئے جائیں۔ مشترکہ اعلامیہ پر عمل کے لئے 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وباءکا معاملہ انسانی اور سماجی تھا لیکن افسوس یہ ہے کہ الیکٹرونک میڈیا میں صرف مساجد اور نمازوں کا ذکر ہوا جس سے یہ محسوس ہورہا تھا کہ شاید کورونا وباءکے حوالے سے یہی مسائل ہیں۔ اس سے گریز کیا جائے۔ علماءنے کہا کہ اب اس مشترکہ اعلامیہ پر مکمل عمل کریں گے اور عوام بھی اس پر عمل کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*