تازہ ترین

قومی اسمبلی ، حکومت سی پیک اتھارٹی کے قیام سمیت3 بل منظور کر وانے میں کامیاب

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے دوران حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہ داری (سی پیک ) اتھارٹی کے قیام سمیت3 بل کثرت رائے سے منظور کر وا لئے جبکہ فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ،انسداد زنا بالجبر (تفتیش وسماعت)آرڈیننس اور2بل پیش کر دئےے۔اپوزیشن ارکان نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا ۔اپوزیشن ارکان نے سپیکر کی ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور انہیں اسپیکر ڈائس پر اچھالا ۔اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی بھی کی اور’ جاگو جاگو اسپیکر جاگو‘’شرم کرو حیا کرو اسپیکر کو رہا کرو‘،’ووٹ چور جان چھوڑو‘،’ضمیر فروشو ،چینی،آٹا، گیس،بجلی چوروجان چھوڑو‘،’گلی گلی میں شور ہے اسپیکر ہمارا کمزور ہے ‘کے نعرے لگائے۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس میں وقفہ سوالات کے اختتام کے بعد اپوزیشن ارکان سید نوید قمر و دیگر نے نقطہ اعتراض پر بات کرنے کےلئے اجازت مانگی مگر اسپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت دینے کی بجائے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کو ایجنڈے میں موجود آرڈیننس پیش کرنے کی ہدایت کردی جس پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج شروع کردیا ۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود اسمبلی کی کارروائی جاری رکھی ۔اس دوران مشیرپارلیمانی ڈاکٹربابراعوان نے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ آرڈیننس2020اورانسداد زنا بالجبر(تفتیش وسماعت)آرڈیننس2020پیش کیا ۔اس دوران اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا مگر اسپیکر نے کسی کو بولنے کی اجازت نہ دی اور ایجنڈے میں موجود بل پیش کرنے کےلئے متعلقہ وزیروں کو ہدایت کردی ۔ فواد چوہدری کی عدم موجودگی میں مشیرپارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے پاکستان قومی ادارہ برائے نظام اوزان پیمائش بل 2021اورپاکستان آرڈیننس بورڈ ترمیمی بل 2021پیش کیا جن کو اسپیکر نے مزید غوروخوص کےلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بجھوادیا۔اس دوران اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور نونو کے نعرے لگائے ۔اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور انہیں اسپیکر ڈائس پر اچھالا ۔اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی کی اور’ جاگو جاگو اسپیکر جاگو‘’جگاﺅ ضمیر جگاﺅ‘،’شرم کرو حیا کرو اسپیکر کو رہا کرو‘،’ووٹ چور جان چھوڑو‘،’ضمیر فروشو ،چینی،آٹا، گیس،بجلی چوروجان چھوڑو‘،’گلی گلی میں شور ہے اسپیکر ہمارا کمزور ہے ‘کے نعرے لگائے ۔ اپوزیشن کے احتجاج کے دوران حکومت نے سی پیک اتھارٹی بل 2020،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی ترمیمی بل 2020اور پاکستان سنگل ونڈو بل 2020منظوری کےلئے پیش کیا جسے ایوان کی کثرت رائے نے منظوری دے دی گئی ۔سی پیک بل کے تحت سی پیک اتھارٹی کے چیئرپرسن اور اراکین کا تقرر چار سال کےلئے ہوگا جبکہ چیئرمین اور اراکین کی مدت ملازمت میں ایک بار چار سال کےلئے توسیع ہوسکے گی ۔وزیراعظم یا ان کی جانب سے نامزد کوئی بھی شخص چیئرمین یا اراکین کو کسی بھی وقت برطرف کر سکے گا ۔کسی بھی ایسے شخص کو بطور چیئرپرسن ،رکن یا اور کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا جس سے بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی مفادات کا ٹکراﺅ ہو،ایڈیٹر جنرل آف پاکستان اتھارٹی کے سالانہ حسابات کی جانچ پڑتال کرے گا ۔اتھارٹی اپنی سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی پابند ہوگی ،سی پیک اتھارٹی کے قانون کے مطابق سرانجام دیے گئے امور کے خلاف نالش(عدالتی کارروائی)استغاثہ یا دیگر قانونی کارروائیاں نہیں کی جائیں گی ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*