تازہ ترین

قومی اسمبلی ، اپوزیشن کا کلبھوشن یادیو سے متعلق قانون سازی پر احتجاج

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق قانون سازی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کا گھیراﺅ کرلیا ، اپوزیشن اراکین مودی کا جو یار ہے غدار ہے کے لگاتے رہے جبکہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن عوامی مفاد کی قانون سازی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے ،اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے،اپوزیشن آئے اور قانون سازی میں حصہ ڈالے جس پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ہم آنکھیں بند کر ےک بلوں کو پاس نہیں کر اسکتے ،اتنی قانون سازی تو گزشتہ تین سالوں میں نہیں کی گئی جو حکومت آج کرنا چارہی ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جمہوریت کے علمبردار اپوزیشن عوامی مفاد کی قانون سازی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے،اپوزیشن تعمیری تنقید کے بجائے واک اﺅٹ کر جاتی ہے،اپوزیشن کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے،۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن آئے اور قانون سازی میں اپنا حصہ ڈالے جو ان کی ذمہ داری ہے۔ سید نوید قمر نے کہاکہ وزیر خارجہ کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ اپوزیشن کورم کی نشاندہی کرکے اہم قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے،ہم آنکھیں بند کرکے بلوں کو پاس نہیں کراسکتے،ہم بلوں کو پڑھے اور سمجھے بغیر کیسے بلوں کو پاس کردیں۔ انہوںنے کہاکہ اتنی قانون سازی تو گزشتہ تین سالوں میں نہیں کی گئی جو حکومت آج کرنا چارہی ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہاک ہاسپیکر صاحب، ہم قانون سازی میں حصہ لینا چاہتے ہیں ، دوروز قبل دس بل ایک ہی روز میں منظور کرلئے گئے ،آپ لوگوں نے تو عوام سے ووٹ نہیں لئے ہم نے لئے ہیں ،اتنی جلدی میں اتنے بل منظور کرنا چاہتے ہیں جیسے بجٹ کے بعد آپ نے الیکشن میں جانا ہو ۔ انہوںنے کہاکہ قائمہ کمیٹیاں غیر موثر ہوچکی ہیں۔ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہاکہ کہا گیا کہ قائمہ کمیٹیوں میں کام نہیں ہوتا ،الیکشن ایکٹ نو تک ماہ قائمہ کمیٹی میں رہا ،اپوزیشن کمیٹی میں بل کی منظوری میں روڑے اٹکاتی رہی ،ایک طرف الیکشن صاف شفاف کرانے کی بات کی جاتی ہے ،دوسری طرف الیکشن ایکٹ پر بحث سے اپوزیشن گریزاں رہی۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے کہاکہ ہم نے پاکستانی قوم کے لیے شاہراہوں کو محفوظ بنانا ہے،موجودہ حکومت نے پہلی بار روڈ سیفٹی پالیسی بنائی ،اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہر صوبے کی اپنی ٹرانسپورٹ منسٹری ہے، موٹر وے پولیس کی ڈرائیونگ لائسنس اتھارٹی بنائی ہے ۔ انہوںنے کہاک ہپورے ملک میں موٹر وے پولیس لائسنس ڈرائیونگ جاری کرے گی ،موٹر وے پولیس کے ڈرائیونگ لائسنس دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے کہاکہ ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے کچھ دال میں کالا ہے ،ایجنڈے کے ستاون نمبر پر بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کے لئے قانون منظوری کرایا جارہا ہے ،پہلے سے قانون موجود ہے کہ ہائی کورٹس میں فوجی عدالتوں کی سزاوں کے خلاف اپیل ہوسکتی ہے،ہم محبت وطن لوگوں سے ووٹ لے کر آئے ہیں ،ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے،حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔ فروغ نسیم نے کہاکہ احسن اقبال نے ثابت کردیا کہ وہ وہ کام چاہتے ہیں جو بھارت چاہتا ہے،لگتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ آپ نے نہیں پڑھا،مجھے احسن اقبال کی بات سن کر بڑا صدمہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ تین مارچ 2016 کو کلبھوشن گرفتار ہوا،آئی سی جے میں ڈان لیکس کو بطور حوالہ پیش کیا گیا،آئی سی جے کے مطابق پاکستان کو قانون لانا پڑے گا۔انہوںنے کہاکہ اگر ہم یہ قانون نہیں لے کر آئیںگے تو عالمی عدالت انصاف میں ہمارے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے، میں آپکے سامنے یہ سارا فیصلہ پڑھ دیتے ہیں جس کا پیرا 146 یہ ہے کہ کلبھوشن کو پھانسی دینے کے فیصلے کو ریویو کرنا پڑے گا، یہی وہ قانون ہے جو فیصلے پر نظرثانی کو یقینی بنائے گا۔وزیر قانون کی تقریر پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا ، اپوزیشن نے نعرے لگائے کہ مودی کا جو یار ہے غدار ہے ، اس دور ان اپوزیشن ارکان نے اسپیکر روسٹرم کو گھیر لیا۔اجلاس کے دور ان مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل پاکستان نرسنگ کونسل کے بل پیش کر دیئے ۔ خرم دستگیر خان نے کہاکہ رولز کہتے ہیں کہ قائمہ کمیٹی سے بل آنے کے بعد ایوان میں اس پر بحث ہوتی ہے،ان بلوں میں کیا ہے ایوان کو کچھ پتہ نہیں،ہم قوانین کی منظوری کے اس طریقہ کار کی مزاحمت کریں گے۔ قومی اسمبلی اجلاس ایک بار پھر ن لیگ کے مرتضی جاوید عباسی نے کورم کی نشاندہی کر دی کورم پورا ہونے پر قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ایوان میں پہنچ گئی۔ اجلاس کے دور ان بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہم ٹی وی شو میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں،اپوزیشن کے بغیر جو قانون سازی ہوگی وہ کمزور ہوگی،اگر آپ ہمیں بولنے نہیں دیں گے، بل پڑھنے نہیں دیں اور ہمارے حقوق نہیں دیں گے تو کس طرح قانون سازی ہوگی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*