تازہ ترین

قدرت کے رنگ

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
اگست کا آخری ہفتہ ‘مون سون ‘موسم برسات اپنے جوبن پر ‘صبح چھٹی ہونے کی وجہ سے رات دیر تک عبادت مطالعہ مراقبہ وغیرہ کر نے کے بعد میں صبح خوب نیندپوری کر کے اٹھا ‘ بارش اپنے جوبن پر آسمان سے بارش کے قطرے نہیں جیسے کو ئی پانی کے ڈول بھر بھر کر زمین کی طرف پھینک رہا ہو’ میں نے پردہ سرکاکر شیشے کو ہٹایا تو بارش کی ریشمی پھوار کے ساتھ خوشگوار تیز ٹھنڈے ہوا کے جھونکے میرے چہرے سے ٹکرا کر مدہوش کن سر شاری کی سوغات عطا کر گئے ‘ آسمان سے پانی کی دھاریاں تو اتر سے زمین پر برس رہی تھیں آسمان پر سرمئی بادلوں کا راج تھا سورج دیوتا نے شکست مان کر اپنا چہرہ سیاہ گھنے بادلوں کے پیچھے چھپا لیا تھا ‘ زمین پر دن کے وقت شام کا ملگجا سا اندھیرہ تھا اور تیز دھار بارش تیز ٹھنڈے جھونکوں کے ساتھ بادل ‘ تیز ہوا کے جھونکوں کو دیکھ کر مجھے کئی سال پرانی کوہ مری کی وہ صبح جانفرہ یاد آگئی جب اِسی طرح آسمان پر سیا ہ بادل تھے رات بھر بارش کے بعد ہی بادلوں کا جوش ٹھنڈا نہیں ہوا تھا میں رات کو خوب نیند پوری کر کے صبح تازہ دم ہو کر اٹھاتھا تو بارش رک چکی تھی مری میں جتنی بھی بارش ہو پانی نیچے ڈھلوانوں کی طرف سرک جاتا ہے اِس لیے زیادہ سے زیادہ بارش کے بعد بھی کاروبار زندگی بلکل نارمل ہو تا ہے میں رات کے نشیلے احساس کے ساتھ اپنے لان کی دبیز گھاس پر ننگے پاﺅں چلنے لگا نرم گداز گھاس پر ننگے پاﺅں چلتے ہوئے ہر قدم کے ساتھ میں عجیب سر شاری آسودگی سے ہمکنار ہو رہا تھا بارش رک گئی تھی لیکن ہلکی ہلکی شبنمی پھوار سا احساس باقی تھا آسمان سر مئی سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا میں اپنے بر آمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر میلوں دور اپنے سامنے قدرتی مناظر سے بھر پور وادی کو دیکھنے اور لمبے لمبے سانس لے کر اپنے پھیپھڑوں کو زندگی آفرین کیف آفرین ہوا سے بھرنے لگا اپنے پھیپھڑوں کو تازہ خوشبوں میں مہکی ہوا سے بھرنے کے بعد اپنے سامنے میلوں دورتک پھیلی قدرتی مناظر سے بھرپور وادی کو اپنی دماغی سکرین پر اتارنے لگا میرے سامنے دور تک قدرتی مناظر سے منقش طشتری دعوت نظارہ دے رہی تھی مناظر سے بھر پور طشتری جس پر قدرتی مناظر مختلف پھل دار درختوں دیوقامت فلک بوس چیڑ صنوبر دیار کے درختوں کے ساتھ زمین پر قدرتی پھولوں کے ساتھ ہزاروں گیندے کے پھول دار پودوں نے سفید اور زرد پھولوں کی ٹوپیاں پہن کر موسم بہار کی آمد اور دلکشی رعنائی لازوال حسن کا حشر بر پا کر رکھا تھا۔
میرا گھر اور سامنے کا لج کی عمارت دونوں پہاڑی ڈھلوان پر تھے یہ سلسلہ دور نیچے سے نیچے بڑھتا چلا جاتا ‘ خوب نیچے جاتا تو اطراف سے مختلف ندی نالیاں آبشار جھرنوں کا پانی مل کر چھوٹے سے دریا کا روپ دھار لیتا پھر وہاں سے پیالے کی طرف دوسری طرف اٹھنا شروع ہو جاتا اِس طرح میں قدرتی مناظر سے بھر پور پیالے کے ایک کنارے پر تھا جو پنجاب کا آخری علاقہ تھاپیالے کا دوسرا کنارہ کے پی کے میں تھا اِن دونوں کناروں کے درمیان جنت نظیر مناظر کی بھر مار تھی سورج دیوتا جب صبح انگڑائی لے کر بیدار ہو تا تو پہلے میرے سامنے والے کنارے کو دھوپ کی حرارت آمیز سوغات عطا کر تا پھر آہستہ آہستہ ہمیں بھی فیض یاب کر تا ‘ آسمان پر کہیں بادل تھے کہیں سے نیلا آکاش جھانک رہا تھا بادلوں کے آوارہ غول مست ہاتھیوں کی طرح نیلگوﺅں فضاﺅں میں دھمال ڈھالتے نظر آرہے تھے نیلے آکاش پر بادلوں کی اٹھکھیلیاں زمین پر بھی دھوپ چھاﺅں کے بہار رنگ مناظر پیش کر رہی تھیں میرے سامنے میلوں دور تک کہیں دھوپ کہیں چھاﺅں نے عجیب ست رنگی منظر پیدا کیا ہواتھا وادی کا بے پناہ حسن میرے سامنے بانہیں پھیلائے مجھے دعوت نظارہ دے رہا تھا اور میں جنت نظیر مناظر کو قطرہ قطرہ پی اور دیکھ رہا تھا وادی کے خوبصورت حسن کو قدرت نے چار چاند اِس طرح لگائے تھے کہ دائیں طرف سے وادی کا منہ کھلا تھا جہاں سے تیز ہوا کے جھونکوں پر بادلوں کے غول تیز رفتاری سے داخل ہو تے تھے آپ سطح سمندر سے ہزاروں فٹ کی بلندی کی وجہ سے اپنی زندگی کا عجیب کیف آفریں منظر دیکھتے ہیں ہوا کے جھونکوں پر بادلوں کے غول سوار ہو کر تیز ی سے آپ کی طرف پرواز کر تے آتے ہیں۔
اپنے راستے میں آنے والے درختوں پودوں گھاس مکانوں کو مہک آلود ہواﺅں سے بھگوتے آتے ہیں اِس دوران اپنی زد میں آنے والے انسانوں کو بھی تحیر انگیز نشاط انگیز سرشاری سے ہمکنار کرتے آگے بڑھ جاتے ہیں ہوا کے جھونکوں پر سوار بادلوں کے یہ غول جب تیز رفتاری سے آپ کی طرف بڑھتے ہیں تو آپ دھواں سمجھ کر عجیب سے خوف کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن یہ آرام سے ریشمی گالوں کی آپ کے رخساروں کو چومتے ہوئے نمی کا تازہ احساس دیتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں پہلی بار جب آپ اِس سرور آور تجربے سے گزرتے ہیں تو آپ کا خوف دور ہو جاتا ہے پھر کتنی دیر تک بادلوں کے یہ آوارہ غول قطار در قطر وادی کے ایک طرف سے داخل ہو کر راستے میں آنے والوں کی نمی کی سرور آفریں کیفیت دے کر گزرے چلے جاتے ہیں اگر آپ اِن کی زد میں کھڑے ہو جائیں تو وہ مسلسل آپ کو سرشاری آسودگی کے نئے جہانوں سے آپ کو متعارف کر واتے چلے جاتے ہیں اِس طرح آپ اپنی زندگی کے خوبصورت ترین تجربے سے آشنا ہو تے ہیں۔
پاکستان بھرسے گرم علاقوں کے آنے والے اِن ریشمی ٹھنڈے جھونکوں سے خوب خوب لطف اندوز ہو تے ہیں کیونکہ ہوا کے جھونکوں میں بادلوں کے سا تھ جنگلی جڑی بوٹیوں اور سیب ناشپاتی آلو بخارہ انار آڑو کی فرحت آور مہک بھی شامل ہو تی ہے آپ اِس نادر تجربے سے پہلی بار گزرتے ہیں جو آپ کے مشام جان کو خوب معطر کر دیتا ہے میں جب بادلوں کو اپنی طرف آتا دیکھتا تو اٹھ کر ا±س جگہ پر چلا جاتا جہاں پر بادلوں کے غول زیادہ تعداد میں وارد ہو تے تھے پھر میں آنکھیں بند کر کے اپنی بانہیں کھول کر ہوا کے اِن بادلوں سے بھرے ہو ئے جھونکوں کا استقبال کر تا بادلوں کے یہ غول مشکبو احساس سے لبریز میرے جسم کو چھو کر فرحت آسودگی زندگی آفریں احساس دے کر آگے بڑھتے چلے جاتے میں قدرتی مناظر کا ایسا گھنٹوں اِس زیست آفریں مسحور کن تجربے سے گزرتا وقفے وقفے سے آسمان سے برستا نور اپنے پھیپھڑوں میں ا±تارتا زندگی سے بھر پور پھیپھڑوں سے خون میں شامل ہو کر رگوں میں زندگی جوش دوڑا دیتا جب تازہ کیف آفریں ہوا رگوں میں دوڑ تی تو جسم صحت افزا زندگی سے بھرپور کیفیات سے دوچار ہو جاتا جسم چستی پھرتی خاص نشیلے باطنی کیفیت سے دو چار ہو جاتا عطر بیز ہواﺅں کے جھونکے آپ کے قلب و جان باطن کو مدہوشی سے نئے آہنگ سے دوچار کر دیتے آسمان پر زمین پر بادلوں کے آوارہ غول اطراف میں قدرتی مناظر کی موسلا دھار بارش درمیاں میں آپ ہواﺅں بادلوں کی بھینی بھینی سرگوشیاں سنتے ہوئے خمار آلودو سرگوشیاں آپ کی سماعتوں اور محسوسات کے بوسے لیتی ہوئی یہ مناظر ہوائیں بادلوں کے غول آپ صرف اور صرف پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں ہی لطف اٹھا سکتے ہیں۔
وہاں پر قدرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ فروز ہو تی ہے جب آپ ہوتے ہیں فطرت ہو تی ہے پہاڑ کی بلندیوں سے مختلف آبشار اور جھرنوں چشموں کا پانی بڑے نالے کی صورت میں جب ڈھلوان کا نشیبی سفر کرتا ہے اِس سفر کے دوران اونچائی سے نشیبی سفر کرتے ہوئے تو راستے میں حائل رکاوٹوں سے ٹکراتے ہو ئے عجیب سحر انگیز ترنم سی آواز پیدا کر تا ہے تو جنگل میں سرگوشیوں کی آوازیں پھیلی نظر آتی ہیں بعض جگہوں سے جب بلندی سے یہ پانی گرتا ہے تو دور تک شبنمی پھوار سی گرتی محسوس ہو تی ہے پاکستان کے گرم علاقوں کے مکین جب ایسی جگہ سے گزرتے تو نشاطگی کی آخری حدوں کو محسوس کر تے ہیں میںفطرت ا±س کی دلنشیں فطرتی مناظر سے بھرپور لطف اٹھا رہا تھا فضائی آلودگیوں سے پاک فرحت بخش زندگی بخش کیف آفریں ماحول سے اپنے قلب و روح باطن کے عمیق ترین گو شوں کو فرحت سر شاری دے رہا تھا مادیت پر ستی سے بھر پور زندگی کے ہنگاموں سے پاک تھا آسمان اور قدرتی مناظر کے ساتھ مست بادلوں بھرے ہوا کے خمار آلود جھونکے تھے آج چھٹی کا دن تھا جو میں قدرت اور ا±س کے قدرتی مناظر کے ساتھ بھر پور طریقے سے انجوائے کر نا چاہتا تھا اِس روح پرور ماحول میں مجھے کسی کا انتظار تھا جس کے آنے سے فطرت کی رعنائیاں اپنے جوبن پر رقص کر نے لگتی تھیں میں بھی فطرت خدا کا عاشق وہ بھی خدا کے اس کے نظاروں کا عاشق۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*