تازہ ترین

فاسٹ فوڈ کے بڑھتے رجحان کے اثرات! صحت مند کھائیں اور صحت مند رہیں!

اچھی خوراک طویل زندگی کے لیے ایک لازمی ضرورت ہے۔بدقسمتی سےآج کی دنیا فاسٹ فوڈ کھانوں کے استعمال کے نظام میں ڈھل گئی ہے جس کے صحت پر کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔فاسٹ فوڈ سے مراد ایسی قسم کے کھانے ہیں جو جلدی سے تیار اور پیش کیے جا سکیں جیسے کہ پیزا ،برگر ،پاستا ،سموسہ ،کچو ری و دیگر۔بھلے ہی کھانوں کا ذائقہ بہترین ہوتا ہے اس کے باوجود یہ کھانے اکثر مضر صحت اشیا مثلا چربی سے بھرپور گوشت، کھلے گھی، نقصان دہ مسالہوں، سوڈ یم اور اضافی شوگر سے بنائےجاتے ہیں۔
جبکہ گھریلو کھانوں میں تازہ پھل سبزیوں اور گوشت میں کئی مقو ی اجزا شامل کیے جاتے ہیں جو حفضان صحت کے کام آتے ہیں۔
یہ سب جاننے کے باوجود بھی بہت سے لوگ فاسٹ فوڈ کوہی ترجیح دیتے ہیں۔
ان میں سے اکثر لوگ، بالخصوص جو طویل شفٹو ں ،یا دفاتر وغیرہ میں کام کرتے ہیں انکے پاس اچھی خوراک کا انتظام کرنے کا وقت نہیں ہوتا تو وہ قریبی ریستوران میں جا کر یا آرڈر کر کے منگوا لیتے ہیں کہ جسکی ڈلیوری کا کام ریسٹوران با آسانی سر انجام دیتے ہیں۔
اسکی ایک اور بھی وجہ ہے کہ زیادہ تر ممالک میں تعداد نوجوان آبادی کی ہے لہذا وہ فاسٹ فوڈ پر زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔فاسٹ فوڈ کلچر سب سے پہلے 1950 کی دہائی میں امریکہ میں مقبول ہوا اور آج کل MNCs تیسری دنیا کے ممالک جیسے کہ پاکستان میں فاسٹ فوڈ کے مختلف رجحانات کو فروغ دے رہی ہیں جس کی وجہ سے صحت عامہ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں اب کھانے پینے کے کاروبار سے منسلک فرمو ں کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں فل ڈیلوری سروس ریسٹوران،روایتی فوڈ ریسٹوران،فاسٹ فوڈ ریسٹوران،ڈھابے، ٹھیلے اور خورونوش کے اسٹورز شامل ہیں۔
پاکستان ایسا ملک ہے جس میں صارفین کی کئی تعداد ہے۔ریسٹوران کی صنعت پاکستان میں تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے۔ معاشی زوال کے باوجود دن بد ن نئے ریسٹوران کھولے جا رہے ہیں۔ اس صنعت نے پاکستان کے GDP میں نمایاں طور پر حصّہ لیا ہے۔ اگر چہ پاکستان میں فی کس آمدنی زیادہ نہیں ہے لیکن اوسطا ہر پاکستانی اپنی آمدنی کا تقریبا ۴۲ % کھانے پے خرچ کرتا ہے۔
پاکستان میں مغربی طرز کا کھانا تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔فاسٹ فوڈ کی زیادہ تر شاخیں 1995 سے 1999 کے درمیان قائم کی گئیں جو زیادہ تر شہری علاقوں میں ہیں جیسے کہ کراچی، اسلام آباد ،لاہور۔ فاسٹ فوڈ کے کچھ بین الاقوامی ریستوران جو کامیابی کے ساتھ پاکستان میں چل رہے ہیں ان میں کے ایف سی،میکڈونلڈ، پیزا ہٹ ،مسٹر برگر شامل ہیں۔یہ باقائدگی کے ساتھ ٹیلی ویڑن اور انٹرنیٹ پر پروموشن کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں کیوں کہ وہ اسکو کاروبار سمجھتے ہیں اور عوام کی صحت سے انکو کوئی غرض نہیں ہے۔
پیسے کا ضیاع تو ہے ہی پر بہت ساری صحت کی پریشا نیو ں کا بھی با عث ہے۔آج سے تقریبا 50 سال قبل جب ہمارے ملک میں فاسٹ فوڈ کلچر نہیں تھا تو لوگ گھروں کا پکا ہوا کھانا ہی کھاتے تھے تب لوگ صحت مند بھی تھے اور طرح طرح کی بیماریاں بھی نہیں تھیں۔ بہت کم لوگ ہی دل کے عارضے، بلڈ پریشر اورکولسٹر و ل کے مریض تھے لیکن جیسے جیسے فاسٹ فوڈ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے طرح طرح کی بیماریاں کثرت سے جنم لے رہی ہیں۔اب تو بیس پچیس سال نوجوان بھی ان بیماریو ں کا شکار ہو رہے ہیں جو عموما ساٹھ ستر سال والوں کو ہوتی تھیں۔غذاءقلت، قلبی عا ر ضہ، موٹاپا ،پٹھو ں اور گردوں کی بیماریا ں، جنسی بے کار گی ،دمہ و امراض جگر و غیرہ فاسٹ فوڈ کے مستقل استعمال سے جنم لیتے ہیں۔اور لوگ ان سب کے مضر اثرات کے انجام سے بے خبر با قائد گی سے انکا استعمال کر رہے ہیں۔
فاسٹ فوڈ کی مصنوعا ت استعمال کرنےوالے ایسے لوگوں میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں شعور پیدا کرنے کے لیے دانشوروں، ڈاکٹروں اور میڈیا کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔
ہمیں خود اپنے طور پر بھی گھر کی بنی ہوئی اشیا کو ترجیح دینی چا ہیے تاکہ ہم صحت مند اور طویل زندگی گزار سکیں۔
آج کل کرونا وائرس جیسے وبا ءمرض کی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی لاک ڈاو¿ن کی صورت حال ہے۔
لوگ گھروں میں مقید ہیں اور صرف ضروری کام سے ہی گھروں سے نکل سکتے ہیں۔ حکومت نے وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے جو اقدام کیے ہیں اس سے جہاں دوسری انڈسٹریز کو نقصان ہوا ہے وہاں فوڈ انڈسٹری پر بھی کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔فاسٹ فوڈ ریسٹو ران ،ہوٹل وغیرہ بند ہو کر رہ گئے ہیں اور اس کاروبار سے منسلک لوگ شدید مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عوام بھی وبا ءاور جان لیوا مرض سے بچنے کے لئے گھر کے بنے ہوئے کھانوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک مثبت پہلو ہے۔ لوگ مرغن اور مضر صحت کھانوں سے دور ہوئے ہیں تو امید ہے کہ بیمار یوں کی شر ح میں بھی کمی آئے گی۔
کرونا جہاں ہمارے لئے طرح طرح کے مسائل پیدا کر رہا ہے وہیں ہماری خوردونوش کی عادات و اطوار پر مثبت انداز میں اثرانداز ہو رہا ہے۔ شائد اس طرح ہم ایک بار پھر گھریلو کھانوں کی اہمیت جاننے کے قابل ہو سکیں اور کئی موذی امراض سے نجات پا لیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*