تازہ ترین

غذائیں جو ٹھنڈ سے محفوظ رکھیں

سرد ہوائیں اور ٹھنڈ بڑھتے ہی گرم کپڑے اور لحاف نکل آتے ہیں۔ایسے میں کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کا استعمال ٹھنڈ میں کمی لانے کے لئے فائدہ مند بھی ہے اورجن کے کھانے سے نزلہ زکام،خشک کھانسی اور بخار سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔سردیوں میں گرم لباس سے خود کو ڈھانپنا یا ہیٹر کے سامنے بیٹھنا کافی نہیں ہوتا بلکہ جسم گرم رکھنے کے لئے مخصوص غذا کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔موسم سرما میں مخصوص کھانے اور مشروبات غذا میں شامل کرنے سے جسم میں گرمائش پیدا کی جا سکتی ہے۔ایسی غذائیں ان لوگوں کے لئے مفید ہیں جو کم درجہ حرارت سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔
ڈرائی فروٹس:ٹھنڈ سے بچنے اور جسم کو گرم رکھنے کا ذریعہ انجیر اور کھجور ہے۔دونوں ہی آئرن اور کیلشیم سے بھرپور ہوتی ہیں اور جسم کی توانائی میں اضافہ کرتی ہیں۔مونگ پھلی،پستہ،بادام،کاجو،اخروٹ اور چلغوزے بھی سردیوں کی خاص سوغات مانے جاتے ہیں۔بادام اور اخروٹ کولیسٹرول گھٹانے میں مدد دیتے ہیں۔
دیسی گھی کا استعمال:ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں روزانہ ایک چمچ دیسی گھی کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا مفید ہے۔پکانے کے لئے استعمال ہونے والے عام تیل میں بلند درجہ حرارت پر فری ریڈیکل پیدا ہو جاتے ہیں جو متعدد بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔اس کے برعکس دیسی گھی میں مستحکم سیچوریٹڈ بانڈ پر مشتمل چکنائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے فری ریڈیکل بہت کم بنتے ہیں۔اس میں شامل ان سیچوریٹڈ چکنائی جسم کو گرم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
جڑ والی سبزیاں:سردیوں میں پائی جانے والی بعض سبزیاں بھی ٹھنڈ سے محفوظ رکھتی ہیں۔سردیوں میں جڑ والی سبزیاں استعمال کرنا مفید ہے۔ان میں گاجر، مولی،آلو،پیاز اور لہسن کا استعمال مفید بتایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مٹر،گوبھی،مولی،شکر قندی،پالک،اروی اور ساگ بھی قابل ذکر ہیں۔
سردی کا توڑ سوپ:سردی کا ذکر ہوتے ہی کھانے پینے کی جن چیزوں کا خیال سب سے پہلے آتا ہے ان میں سے ایک سوپ بھی ہے۔یہ نہ صرف جسم کو گرم رکھتا ہے بلکہ جلد ہضم ہو کر بھوک بھی بڑھاتا ہے۔سوپ کی غذائیت کا انحصار اس میں استعمال کیے جانے والے اجزاء پر ہوتا ہے۔یہ سبزی سے تیار کیا جائے یا چکن سے،ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ اسے زیادہ نہ پکایا جائے کیونکہ اس طرح اس کی غذائیت کم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ سردیوں میں ہونے والی پانی کی کمی کو بھی سوپ کسی حد تک پورا کرتا ہے۔
شہد توانائی کا ذریعہ:سردیوں میں شہد استعمال کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے ناشتے میں روٹی اور دیسی گھی کے ساتھ لیں،دن میں کسی وقت پانی میں گھول کر پی لیں۔
گرم مسالے:موسم سرما میں گرم مسالے مثلاً لونگ،کالی مرچ،دار چینی کا استعمال مفید ہے۔سردیوں میں عام طور پر گرم مسالہ کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ گرم مسالے میں کئی فائدے مند جڑی بوٹیاں اور مرچیں شامل ہوتی ہیں جن سے صحت بہتر ہوتی ہے۔گرم مسالے کھانسی،جوڑوں میں درد اور موسم سرما میں ہونے والے دیگر جسمانی مسائل میں بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔لونگ سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے،سانس کے مرض میں مبتلا افراد کے لئے سردیوں میں الائچی کا زیادہ استعمال مفید ہے۔سردیوں میں سینے میں پیدا ہونے والا دباؤ کالی مرچ کے استعمال سے کافی حد تک دور ہو جاتا ہے۔اسے آپ نہ صرف کھانا پکانے کے دوران بھی ڈال سکتے ہیں اور پکے ہوئے کھانے جیسے تلے ہوئے انڈے،پاستا اور سوپ وغیرہ پر اوپر سے ڈال کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
دار چینی کی میٹھی سی خوشبو موسم سرما میں اچھی لگتی ہے۔دار چینی سردیوں میں کئی امراض سے حفاظت کرتی ہے۔ماہرین غذائیت کے مطابق سردیوں کی سوغات غذاؤں سے ہی سردی کا توڑ کرنا چاہیے،یہ غذائیں لذیذ بھی ہیں اور تاثیر میں گرم بھی۔
باجرے کی روٹی اور سبزیاں:موسم سرما کے شروع ہوتے ہی تازہ رنگ برنگی مزے دار اور صحت بخش سبزیاں مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ان سبزیوں کو گندم کے بجائے باجرے کی روٹی کے ساتھ کھائیں،باجرے میں بڑی مقدار میں میگنیشیم پایا جاتا ہے جس سے دل کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں،اس میں موجود پوٹاشیم اور فائبر کی وجہ سے کولیسٹرول لیول متوازن رہتا ہے اور خون کو صحیح طرح سے گردش کرنے میں مدد ملتی ہے۔سردیوں میں کئی منرلز اور فائبر سے بھرپور باجرے کی روٹی پکا کر اسے دال یا سبزیوں کے ساتھ کھائیں۔
مکئی کی روٹی اور ساگ:آئرن سے بھرپور مکئی اور ساگ میں وٹامن بی کمپلیکس،وٹامن اے،وٹامن سی،بیٹا کیروٹین اور سیلینئین بھی پایا جاتا ہے جو کہ جلد،بال،دل اور دماغ کی صحت سمیت ہاضمے کے لئے بھی مفید ہے،مکئی اور ساگ قوت مدافعت کے لئے بھی مفید ہے۔
گُڑ اور دیسی گھی:گُڑ اور دیسی گھی کا ایک ساتھ استعمال سردی لگ جانے اور نزلہ زکام کے لئے فائدہ مند ہے،گُڑ کو پیس کر دیسی گھی میں پکانے سے ایک مزیدار سا میٹھا بن جاتا ہے جسے کھانے کے بعد بطور میٹھا یا باجرے کی روٹی کے ساتھ بھی کھایا جاتا ہے۔
ملکہ مسور(کالی)دال:ملکہ مسور ہر موسم میں دستیاب ہوتی ہے مگر اسے سردیوں میں دیسی گھی کے بگھار کے ساتھ مکئی یا باجرے کی روٹی کے ساتھ کھایا جائے تو سردیوں کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔کالی دال کا استعمال چاولوں کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے،کالی دال گردے میں پتھری سے بچاؤ سمیت جلد اور بالوں کی جڑوں کو نم رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
مکھن اور دیسی گھی کا استعمال:مکھن اور دیسی گھی میں صحت مند چکنائی پائی جاتی ہے،اس کے استعمال سے جسم مضبوط اور متحرک ہو سکتا ہے،سردیوں میں اس کے استعمال سے سر اور جلد پر ہونے والی خشکی میں افاقہ ہوتا ہے۔دیسی گھی میں موجود وٹامن اے،ڈی،ای پائے جاتے ہیں۔جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے انہیں اپنی غذا میں مکھن یا اصلی گھی کا استعمال بھی کرنا چاہیے۔
تل کے بیج:سردیوں میں تل کے لڈوؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے،گُڑ کو پگھلا کر تل مکس کرکے اس کی کئی طریقوں سے مٹھائیاں،گجک بنتی ہیں جو سردیوں میں پسند کی جاتی ہیں،یہ بینائی،جلد اور ہڈیوں کے لئے بھی مفید ہے۔تل کا استعمال عمر ڈھلنے کے مرحلے کو آہستہ اور بالوں کی بڑھنے کی رفتار کو تیز کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*