تازہ ترین

طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں بھی تباہی مچادی، 3افراد جاں بحق

کراچی/کوئٹہ(آئی این پی)کراچی میں مون سون کے چوتھے اسپیل میں مسلسل تیسرے روز بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس کے بعد مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔مختلف شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا ہے، عزیز آباد بلاک 2 میں بارش اور سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، پہلے سے کیچڑ اور گندگی سے پریشان کشمیری محلے کے مکینوں کا مزید براحال ہوگیا۔ کورنگی کاز وے کے مقام پر ملیر ندی کا پانی بہہ کر سڑک پر آگیا، پاک فوج کی ٹیمیں سول انتظامیہ کے ساتھ ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ کراچی کے تینوں بڑے نالوں کی صفائی کا کام 100 فیصد مکمل ہوگیا ہے اور تمام 42 چوک پوائنٹس کو کلیئر کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گلستان جوہر اپارٹمنٹ میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، کٹی پہاڑی پرکرنٹ لگنے سے 13 سالہ بچہ کاشان اور میوہ شاہ قبرستان کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔لانڈھی نمبر 4 میں دکان کے شٹر سے کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق، سٹی کوٹ اور سول اسپتال کے قریب کرنٹ سے 2 افراد جان سے گئے۔ایک بچہ سرجانی ندی میں جبکہ بنارس میٹرو سنیما کے قریب ندی میں ڈوب کر 6 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔ملیرماڈل کالونی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، گلشن اقبال بلاک 13 ڈی میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔ اتحاد ٹاون میں ایک شخص کرنٹ لگنے سے چل بسا۔لیاری جہان آباد میں گھر کی چھت گرنے سے دو افراد جان سے گئے جبکہ نارتھ کراچی سیکٹر 2 میں 6 سالہ بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں بارش کے بعد بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری ہے، نشیبی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات گھروں کی اندرونی ناقص وائرنگ سے پیش آئے، کسی حادثے کا تعلق کے الیکٹرک کے انفرا اسٹرکچر سے نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا کا کم دباﺅ شمالی بحیرہ عرب سے مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث کراچی میں اتوار کو بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات ڈاکٹر عبدالقیوم کے مطابق مون سون سسٹم کی شدت تاحال برقرار ہے اور بارش برسانے والے سسٹم کا پھیلا بلوچستان تک ہے۔ بارش کے باعث حسب معمول شہر کی اہم شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں، بجلی غائب ہوگئی اور نالوں سے متصل علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون سسٹم برسنے کے بعد کمزور پڑنا شروع ہو جائے گا، لیکن کراچی میں آج بھی بوندا باندی اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچادی، مستونگ، خضدار، ہرنائی، نوشکی، لورا لائی، ڈھاڈر میں سیلابی ریلوں میں متعدد مویشی بہہ گئے، کچے گھروں کی دیواریں گر گئیں، کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ قومی شاہراہوں پر جگہ جگہ آمدورفت معطل ہوگئی۔شدید بارشوں کی وجہ سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، مکران کوسٹل ہائی وے پر 30 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، کوہلو کے ندی نالوں میں طغیانی سے سوناری پل بہہ گیاجس کی وجہ سے کوہلو کا سبی اور کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق بارش اور سیلاب کے دوران مختلف حادثات میں اب تک تین افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مون سون رینج والے علاقوں آواران، تر بت، گوادر، اورماڑہ، ڈیرہ بگٹی،جھل مگسی، زیارت ،ہرنائی،لسبیلہ، جعفر آباد اور نصیر آباد، بولان اور سبی، سمیت مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔جعفرآباد میں بارش کے باعث پیش آنے والے حادثے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ حب میں سیلابی ریلے میں پھنسے 2 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔خضدار کے تفریحی مقام مولا چٹوک میں سیلابی ریلے میں پھنسے 7 سیاح ریسکیو کر لیے گئے جبکہ مکران کوسٹل ہائی وے پسنی کے بدوک کے قریب پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا جس کے باعث گوادر کا لسبیلہ اور کراچی سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا اور کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔ضلع ڈیرہ بگٹی میں مختلف علاقوں میں 4 سے 5 فٹ پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا، انتظا میہ نےآبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا۔ ہرنائی میں ا یک گھنٹے مسلسل بارش سے نشیبی علاقہ زیر آب آ گیا اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کے باعث برساتی نالوں میں سیلابی ریلہ محلہ غریب آباد کے کچے مکانات میں داخل ہوگیا، رہائشی اپنی مدد آپ کے تحت سیلابی پانی کو گھروں سے نکال رہے ہیں۔بولان کے علاقے کرتہ ندی میں بارش کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے کوئٹہ سبی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گیا، سیلابی ریلہ کرتہ میں خانہ بدوشوں کے مال مویشی بہا کر لے گیا۔ڈیرہ بگٹی میں سیلابی ریلے میں سانپ نے ایک شخص کو کاٹ لیا جسے ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کردیا گیا، سیلابی ریلہ مقامی آبادی کا سامان اور کھانے پینے کی اشیا بھی بہا کر لے گیا۔ دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)نے بارشوں سے پیدا ہونے والی صور تحال کے باعث انتظامیہ کو الرٹ کر دیا تھا اور حکام نے ساحلی علا قوں میں ماہی گیر وں کی گہرے سمندر، برساتی نالوں، سیا حتی مقاما ت اور نالوں کے قریب شہریوں کی آمدو ر فت پر پابندی عا ئد کردی تھی۔محکمہ موسمیات نے مو جودہ بار شو ں کا سلسلہ اتوار تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کے لیے امدادی سامان روا نہ کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کوئٹہ میں نیوز کونفرنس کے دوران کہا ہے کہ بلوچستان میں بارشوں کاسلسلہ جاری ہے بعض علاقوں میں املاک اور جانی نقصان اور کمیونکیشن سسٹم متاثر ہوا ہے، وزیر اعلی جام کمال خا ن پیدا شدہ صورتحال کا از خود جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مون سون بارشو ں کا الر ٹ جاری کر دیا گیا تھا، پی ڈی ایم اے پہلے سے ہی ہائی الرٹ پر ہے ، وزیر اعلی نے متعلقہ محکموں کو مشینری کو استعمال کرکے امدادی کاموں کی ہدایت کردی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ، دیگر امدادی سامان بجھوایا جارہاہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ ضلع گوادر اور بولان میں سیلابی ریلے کے باعث سڑکیں بند ہوگئی ہیں جنہیں کھولنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ بہت سارے ڈ یمز میں اوور فلو ہورہاہے اب تک بارشوں سے تین افراد جا ں بحق ہوئے ہیں عوام سے اپیل ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*