تازہ ترین

صابن ، ہمارے جسم کا بہترین دوست

صفائی نصف ایمان ہے اور جسمانی صفائی کے لئے صابن کا کردار بے حد اہمیت رکھتاہے۔ جدید دور میں ہاتھ دھونے کے لئے علیحدہ ہینڈ واش متعارف کرائے گئے ہیں اور نہانے کے لئے بھی علیحدہ مائع مارکیٹ میں آئے اور لوگوں نے اس اختراع سے فائدے لینا شروع کئے۔بہت سے گھروں میں اب بھی صابن کی ٹکیہ ہی استعمال ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی صفائی اور فرحت بخش احساس کے تقاضے نبھاتی ہے۔
صابن کے اجزائ۔ماہرین کے مطابقAlkali(الکلی) اور چربی کو ابال کر صابن تیار کیا جاتاہے اور اس کے لئے حیوانی یا نباتاتی چربیاں حاصل کی جاتی ہیں۔نباتاتی تیلوں میں ناریل، بادام، پام، بنولہ اور زیتون کے علاوہ کھیرا اور شہد بھی شامل کیا جاتاہے، جبکہ الکلی میں سوڈا اور پوٹاشیئم جیسے معدنی عناصر بھی شامل کئے جاتے ہیں۔
ہینڈ واش کے اجزائ۔جس رفتار سے ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے ایسے میں اگر گھروں میں ہاتھ دھونے کے لئے مختلف ہینڈ واش موجود ہوں تو بہتر ہے یہ عیاشی ہر گز نہیں بلکہ بنیادی صفائی کی ایک ضرورت ہے۔ہینڈ واش میں گلیسرین، سوڈیم سیلفیٹ، سوڈیم کلو رائیڈ،سڑک ایسڈ، لیکٹک ایسڈ،پرفیوم سوڈیم بینز وایٹ اور دیگر کیمیائی اجزاءبھی شامل ہوتے ہیں جبکہ خوشبویات میں شہد، بادام، سبز چائے اور کھیرا وغیرہ بھی شامل کیا جاتاہے۔
یہ جراثیم کش ہوتے ہیں مگر ان کا انتخاب بھی اپنی جلد کی مناسبت سے کرنا چاہئے۔
باڈی واش۔یہ مختلف پھولوں کے عطریات سے تیار کئے جاتے ہیں اور ان میں دیر تک قائم رہنے والی خوشبو ہی نہیں بلکہ بعض تیلوں جن میں Juniper Oilبھی شامل ہے،سے ملا کر بنایا جاتاہے۔یہ موسم میں جلد کی صفائی کے لئے موثر ہو سکتے ہیں۔ان کی ملائمت اور لطافت آپ کو تازہ دم کر دیتی ہے۔
تاہم ان کی ضرورت سے زیادہ مقدار استعمال کرنا غیر ضروری اور ضیاع ہی ہے۔
کم قیمت مگر مضر صحت صابن۔ جو صابن استعمال کے بعد ہاتھوں یا جسم پر خشکی کا باعث بن رہا ہو وہ آپ کے لئے نہیں ،اور صابن کا زیادہ استعمال بھی جلد کو اس کی قدرتی تہہ جو حفاظتی مقصد کے لئے ہوتی ہے اپنی جاذبیت کھو دیتی ہے اس طرح ممکن ہے کہ جلد پر کوئی انفیکشن ہو جائے۔
بہتر ہو گا کہ ایسے صابن کا انتخاب کیا جائے جن میں موئسچرائزر اور گلیسرین کی مقدار شامل ہو۔
برتن دھونے والے صابنوں میں جراثیم کش اجزاء اور لیموں کے عرق شامل ہوتے ہیں۔یہ اینٹی بیکٹیریل ہوتے ہیں لہٰذا انہیں صرف برتن دھونے کے لئے ہی استعمال کرنا چاہئے۔ان سے کپڑے دھونے یا نہانے کا کام نہیں لئے جا سکتے یہ ہاتھوں کے لئے عموماً مضر نہیں ہوتے لیکن اگر آپ سستے صابن خرید کر برتن چمکانے کا ارادہ رکھتی ہیں تو ایسا ہر گز نہ کیجئے گا۔
کچھ صابنوں میں چکنائی کاٹنے والا تیزابی مادہ زائد مقدار میں شامل کیا جاتاہے۔جو ہاتھوں پر برے اثرات مرتب کرتاہے۔
حسن افزاء جڑی بوٹیوں کے صابن۔دنیا بھر میں ایسے خاص صابن بنائے جاتے ہیں۔پاک وہند ،ملائیشیا، یورپی ممالک، سری لنکا، انڈونیشیاءوغیرہ میں ان صابنوں کے ماہرین کی کثیر تعداد آباد ہے۔ان میں نیم ،صندل ،ہلدی ، بادام، شہد ،ناریل ،بکری کے دودھ اور مختلف پھلوں جن میں آڑو، چیری ،رس بھری ،سیب ،انگور اور بعض پھول بھی شامل ہیں بنائے جاتے ہیں اور خواتین صارفین کی بڑی تعداد انہیں استعمال کرتی ہے۔
ان میں گلیسرین ایک خاص جزو شامل ہوتاہے جو جلد کے لئے مفید عنصر ہے خشک جلد کی حامل خواتین کو یہ صابن استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتاہے۔
بعض صابنوں میں ہلکی خوشبو شامل کی جاتی ہے دراصل وہی بہتر بھی ہوتے ہیں۔ تیز خوشبو والے صابن الرجی کر سکتے ہیں ممکن ہے کہ ان میں غیر معیاری چربی کی بو سے صارف کی توجہ ہٹانے کے لئے تیز خوشبو شامل کی گئی ہو، ایسا صابن حساسیت پیدا کر سکتاہے لہٰذا صابن کسی بھی مقصد کے لئے خریدیں ہمیشہ اچھے برانڈ اور خود کو موافق آنے والا یعنی آزمودہ ہی خریدیں یہی نہیں موسموں کے تقاضوں کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
سردیوں میں ہمیں اضافی نمی کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا موئسچرائزر سوپ بہتر رہے گا لیکن گرمیوں میں لیموں کے اثر والا صابن ہی بہتر انتخاب ہو سکتاہے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*