تازہ ترین

سردیاں آگئیں دھوپ تاپیے

موسم سرما کی آمد کا مختلف مزاج رکھنے والے افراد پر مختلف رد عمل سامنے آتا ہے۔کچھ لوگ سردی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرتے ہیں۔ رشتہ داروں کے ساتھ مل کر مختلف مصروفیات میں کمی کر لیتے ہیں اور بعض لوگ زیادہ تر وقت گھر یا کسی ایک جگہ پر گزارتے ہیں۔جو یریا سردیوں میں تنہائی محسوس کرتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ سردیوں میں خوشیوں اور مسرتوں کے جذبے سرد پڑ جاتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ سرد راتوں کے ٹھٹھرتے لمحے میری حالت زار پر آنسو بہا کر ماحول کو مزید غمگین اور اداس بنا رہے ہیں····
ایسا کیوں ہوتا ہے···؟
جویریا کے اس سوال پر ماہر نفسیات نے اسے بتایا کہ اس کی ابتر ذہنی کیفیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ دھوپ میں مناسب وقت نہیں گزارتی۔جی ہاں،سورج کی روشنی بھی شفا بخش اثرات رکھتی ہے۔
ایسے ممالک جہاں سورج کم کم نکلتا ہے وہاں لوگوں میں ڈپریشن (اضمحلال)،SAD (سیزنل ایفیکٹو ڈس آرڈر) اور دیگر نفسیاتی امراض کے علاوہ خودکشی کا رجحان زیادہ ہے۔
دنیا کے وہ خطے جہاں دھوپ بہت کم نکلتی ہے۔ وہاں صحت کے کئی مسائل ہیں۔ایسے علاقوں میں جس دن سورج نکل آئے،لوگوں کے لئے گویا عید کا سماں ہوتا ہے۔ماہرین نفسیات یہ بھی کہتے ہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا شخص سردیوں میں زیادہ مضطرب اور پریشان رہتے ہیں۔اس لئے انہیں ایسی جگہ بیٹھایا جائے جہاں سورج کی روشنی انہیں براہ راست ملے یا انہیں دھوپ میں سیر کرائی جائے۔
یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ دھوپ میں بیٹھنے سے مریض کی طبیعت جلد ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی مریضوں کو چہرے کے ذریعے سورج کی روشنی جذب کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔جس سے نہ صرف یہ کہ وہ صحت یاب ہو جاتے ہیں بلکہ ان کے روزمرہ کے کاموں میں بھی توجہ اور پختگی آجاتی ہے۔
عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ سردیوں میں ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے کیونکہ دھوپ کی کمی کی وجہ سے کولیسٹرول میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دھوپ کولیسٹرول کو کم کرتی ہے۔انسانی جلد میں ایک کیمیائی مادہ اسکوالین (Squalene) پیدا ہوتا ہے۔دھوپ نہ ملنے سے یہ مادہ کولیسٹرول میں تبدیل ہو جاتا ہے۔انسانی جلد کو دھوپ ملتی رہے تو یہ مادہ وٹامن ڈی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔وٹامن ڈی کی کمی اور کولیسٹرول کی زیادتی ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا باعث بن سکتی ہے۔وٹامن ڈی دل کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔
اس وٹامن کی کمی سے سردیوں میں دل کے امراض بڑھ جاتے ہیں۔دل کے امراض سے ممکنہ حد تک محفوظ رہنے کے لئے سورج کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جانا چاہیے۔
دیکھنے میں آتا ہے کہ سرد موسم میں دیہی علاقوں کی عورتیں اپنے نومولود بچوں کو دھوپ میں بیٹھا کر تیل کی مالش کرتی ہیں۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ سورج کی تپش سے بچے کی ہڈیاں مضبوط ہوں۔
جدید تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ دھوپ سے جسم میں حیاتین ڈی(وٹامن ڈی) پیدا ہوتا ہے۔جو کیلشیم کو جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔ایسے نوجوان جو باڈی بلڈنگ کے شوقین ہیں یا جم وغیرہ جاتے ہیں۔وہ دھوپ سینکنے کی ورزشیں بھی کرتے ہیں۔جس سے ان کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔بوڑھے افراد کو دھوپ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ ڈھلتی عمر کی کمزوری دور ہو۔جوڑوں کے امراض اور زخم وغیرہ میں سورج کی تپش ازحد مفید ہے۔
سردیوں میں عام طور پر زخم جلدی ٹھیک نہیں ہوتا اور مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔بعض اوقات پرانے زخم بھی دکھنے لگتے ہیں۔اس کی وجہ انسانی جسم میں درجہ حرارت کی کمی سے پیدا ہونے والی مدافعتی کمزوری ہے۔اس صورت حال میں بھی ڈاکٹر دھوپ میں بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اکثر نوجوان خواتین دھوپ سے کتراتی ہیں۔خیال یہ ہوتا ہے کہیں ان کا رنگ سیاہ نہ ہونے لگے۔
یہ صحیح ہے کہ تیز دھوپ جلد کی نمی غیر متوازن کرکے اس کی شادابی کم کرتی ہے مگر اس خیال کے تحت دھوپ سے اجتناب مناسب نہیں۔انسانی جلد کے خلیے اگر لمبے عرصہ تک سورج کی حدت سے محروم رہیں تو مردہ ہونے لگتے ہیں اور یوں جلد اپنی شادابی و نکھار کھونے لگتی ہے۔
بعض جلدی امراض کا علاج بالا بنفشی شعاعوں (Ultraviolet Rays) یعنی دھوپ سے کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر مریض کو اس کی صورتحال کے مطابق کچھ دوائیاں لگا کر دھوپ میں بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
بعض ڈاکٹر برص کے مریضوں کے لئے دھوپ کو مفید قرار دیتے ہیں۔ دھوپ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔بال اگر دھوپ میں سکھائے جائیں تو تپش کی حدت نمی اور خشکی سے پیدا ہونے والے جراثیم ختم کرتی ہے اور سر جو¶ں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔سردیوں کے آغاز پر لوگ مخصوص گرم کپڑوں اور بلینکٹ وغیرہ کو باکس سے نکال کر دھوپ میں رکھتے ہیں تاکہ کپڑوں میں پیدا ہونے والی نمی اور بدبو کا خاتمہ ہو جائے۔بعض اوقات رات کو استعمال ہونے والے کپڑے بھی دھوپ میں رکھے جاتے ہیں۔اگر یہ کپڑے بغیر دھوپ لگوائے بکسوں یا صندوقوں میں بند کر دیے جائیں تو ان میں کھٹمل پیدا ہونے کا احتمال بھی رہتا ہے۔دھوپ کئی مضر جراثیم کو مار دیتی ہے۔دھوپ لگانے سے کپڑوں میں کئی جراثیم پیدا نہیں ہوتے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*