تازہ ترین

سرحد پار سے پاکستان میں دہشتگردی کی معاونت کی جا رہی ہے ،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سرحد پار سے پاکستان میں دہشتگردی کی معاونت کی جا رہی ہے ،ہم اپنے قومی سلامتی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ، اپنی اقتصادی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں ہیں،چین اور پاکستان کے مابین اقتصادی راہداری کا کایا پلٹ منصوبہ، نہ صرف دونوں ممالک کیلئے بلکہ پورے خطے کیلئے اقتصادی ترقی اور روابط کے فروغ کا موجب ہو گا،کراچی اور گوادر پورٹس، وسط ایشیائی ریاستوں اور مغربی چین کیلئے عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ کی فراہمی کا باعث بن سکتے ہیں ،افغانستان میں قیام امن کا واحد راستہ افغانوں کی قیادت میں، افغانوں کو قابلِ قبول جامع مذاکرات ہیں ،افغانستان میں قیام امن سے پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک کیساتھ روابط بڑھانے میں مدد ملے گی ،خطے میں دیر پا اور مستقل امن عامہ کا قیام مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر منحصر ہے ،ہندوستان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنا ہو گا ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل سیکورٹی کانفرنس /اسلام آباد ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مجھے یہاں آ کر انتہائی مسرت ہو رہی ہے،میں اس اہم موضوع پر منعقدہ کانفرنس کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،دنیا بھر میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ہم تاریخ کے بدلتے ہوئے اس اہم موڑ پر کھڑے ہیں،میں علاقائی و عالمی منظر نامے کو پیش نظر رکھتے ہوئے، امن و امان اور سماجی و اقتصادی ترقی کے حوالے سے پاکستان کا نکتہ نظر آپ کے سامنے رکھوں کا۔ انہوںنے کہاکہ نئی سیکورٹی پارٹنرشپس تشکیل پا رہی ہیں،پرانے اتحاد ازسر نو مستحکم ہو رہے ہیں،گھیراو¿ کی پالیسیاں ایک نئی سرد جنگ کے بیج بو رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ چند برسوں میں دنیا نے بہت سی نءمسابقت، نئے تنازعات کو جنم لیتے دیکھا ہے،یک طرفہ سوچ کے پنپنے سے عالمگیریت کو گزند پہنچی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بڑی عالمی قوتوں کے مابین مسابقت واضح دکھائی دی ۔ انہوںنے کہاکہ پرانے اور نئے تنازعات کا ادغام دنیا کے مختلف حصوں میں امن و امان کو خطرات سے دوچار کر رہا ہے ،تمام ریاستوں کی سلامتی کے یکساں تحفظ کا نادر اصول رو بہ زوال ہے،جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کی دوڑ میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے ،سائنسی افسانے آج حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں ،غلط اطلاعات اور جھوٹی خبروں کو ریاستی سطح پر آلہ کار کے طور پر پھیلایا جا رہا ہے،سرحد پار سے پاکستان میں دہشتگردی کی معاونت کی جا رہی ہے ،ان تمام نامساعد حالات کے باوجود پاکستانی قیادت نے نئے پاکستان کے وڑن کے تحت، لوگوں کی اقتصادی اور معاشی ترقی کو آپنی توجہ کا مرکز بنایا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اپنے قومی سلامتی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ، اپنی اقتصادی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے خطے میں تنازعات کا حصہ بننے کی بجائے امن و استحکام کیلئے کی جانے والی کاوشوں میں حصہ دار بننے کا شعوری فیصلہ کیا ،پاکستان نے حال ہی میں بحری مشقوں کی میزبانی کی جس میں 45 ممالک کی بحریہ نے شرکت کی، ہم اپنی جغرافیائی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو ایک اقتصادی مرکز کے طور پر دنیا کے سامنے لا رہے ہیں ،اس مقصد کیلئے وزارت خارجہ نے سفارت کاری کے بہت سے نئے پہلوو¿ں پر کام شروع کیا ہے جن میں معاشی سفارت کاری، پبلک ڈپلومیسی، ڈیجیٹل و سائینس ڈپلومیسی قابلِ ذکر ہیں۔ انہوںنے کہاکہ انگیج افریقہ جیسی نئی پالیسیاں بروئے کار لائی جا رہی ہیں ،آسیان اور ای یو کیساتھ معاشی تعاون کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جا رہا ہے ،چین اور پاکستان کے مابین اقتصادی راہداری کا کایا پلٹ منصوبہ، نہ صرف دونوں ممالک کیلئے بلکہ پورے خطے کیلئے اقتصادی ترقی اور روابط کے فروغ کا موجب ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ کراچی اور گوادر پورٹس، وسط ایشیائی ریاستوں اور مغربی چین کیلئے عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ کی فراہمی کا باعث بن سکتے ہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ افغانستان میں قیام امن سے پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک کیساتھ روابط بڑھانے میں مدد ملے گی ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان شروع سے اس نظریے پر کاربند ہے کہ طاقت، افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں ،افغانستان میں قیام امن کا واحد راستہ افغانوں کی قیادت میں، افغانوں کو قابلِ قبول جامع مذاکرات ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن عمل میں پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کا ثمر، امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے اور بین الافغان مذاکرات کی صورت میں ظاہر ہوا ،عالمی برادری نے افغانستان میں قیام امن کیلئے ہمارے مصالحانہ کردار کو سراہا ،اب افغانوں پر منحصر ہے کہ وہ اس نادر موقع سے پوری طرح استفادہ کرتے ہوئے، افغانستان کے مسئلے کے جامع سیاسی حل کی جانب آگے بڑھیں ۔ انہوںنے کہاکہ خطے میں دیر پا اور مستقل امن عامہ کا قیام مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر منحصر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان کیطرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے یک-طرفہ اور غیر آئینی اقدامات ، اور مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے بدترین محاصرے نے خطے کے امن کو شدید نقصان سے دو چار کیا ہے ،ہماری حکومت نے 2018 میں آتے ہی ہندوستان پر واضح کیا کہ اگر وہ امن کی جانب ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو بڑھائیں گے مگر افسوس کہ بھارت سرکار نے امن کی جانب پیش قدمی سے تامل کیااور پھر دنیا نے خطے میں بڑھتے ہوئے تناو¿ کو محسوس کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنا ہو گا ۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کے مذموم ارادے سے باز رہنا ہو گا اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں، اقوام متحدہ کی زیر نگرانی، آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کا حق خود ارادیت انہیں دینا ہو گا ۔ انہوںنے کہاکہ خطے میں ماحول کو ساز گار بنانے کی ذمہ داری بھی ہندوستان پر عائد ہوتی ہے ، تنازعات کی بجائے باہمی تعاون ہماری ترجیح ہے ،ہم پر امن بقائے باہمی کے اصول کے حامی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*