تازہ ترین

حکومت پی ڈی ایم کے سینیٹ الیکشن لڑنے کے اعلان سے گھبرا گئی ، بلاول بھٹو

کراچی(آئی این پی ) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت پی ڈی ایم کے سینیٹ الیکشن لڑنے کے اعلان سے گھبرا گئی ہے، اب اداروں کو متنازعہ بنا کر عمران خان کے لیے دھاندلی کرائی جارہی ہے،اب پی ٹی آئی کی ہر دھاندلی کرنے کی کوشش ناکام رہے گی ، عمران خان پورے ملک کو بتا رہے ہیں انہیں اپنے نمبرز پر اعتماد اور بھروسہ نہیں یا، آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کرسکتی ہے اسمبلی میں کسی کو اس معاملے پر بات کرنے نہیں دی گئی، سینئراراکین پرحملہ کیاگیا، سپریم کورٹ کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ہفتہ کو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خبر چل رہی ہے کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعہ سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ساتھ کرانا چاہتی ہے جبکہ اس طرح سے ہر پاکستانی کی خفیہ ووٹنگ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم یک وجہ سے حکومت کی گھبراہٹ پورے ملک کے سامنے ہے، حکومت کا اپنے ممبران کے اوپر ایک قسم کا عدم اعتماد قرار دے دیا ہے اور پورے ملک کو خود بتا رہے ہیں کہ وہ اپنے ممبران کے اوپر بھروسہ نہیں کر سکتے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ حکومت کی جو اکثریت ہے اس کےلئے سینیٹ کے عین وقت تک ہر حربہ استعمال کریں، جیسے 2016میں حربے استعمال کر کے اور اداروں کو بدنام کر کے دھاندلی کی ویسے ہی اب سینیٹ کے انتخابات میں اداروں کو متنازعہ بنا کر عمران خان کےلئے دھاندلی کی جا رہی ہے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ اگر حکومت نے آئینی ترمیم لانے کا سنجیدگی سے فیصلہ کیا ہے تو پھر اسی سنجیدگی کے ساتھ بات بھی ہونی چاہیے، حکومت نے آئینی ترمیم میں کوئی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے مشاورت کی ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی نمائندگی ہے، ان کی رائے لیتے، ہم زیادہ سے زیادہ مکمل انتخابی اصلاحات پر مطالبہ کرتے اور وقت پر فیصلہ کرلیا جاتا تو شائد اب تک انتخابی اصلاحات بھی ہو چکے ہوتے لیکن حکومت نے جمہوری طریقہ نہیں اپنایا اور سپریم کورٹ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، آئین و قانون پر عمل نہ کرتے ہوئے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا اور سپریم کورٹ کو ایسے پوزیشن میں ڈھالا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ لے وہ متنازعہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم صرف اور صرف پارلیمان کر سکتی ہے جبکہ یہ معاملہ ابھی کورٹ میں ہے تو پھر ایک دن میں کمیٹی سے منظور کرا کر اسمبلی میں فیل کرنے کےلئے لے آتے ہیں اور پھر قومی اسمبلی میں بل میں بات تک کرنے نہیں دیا گیا اور سینئر ترین ممبر نوید قمر پر حملہ کیا گیا۔ بلاول زرداری نے کہا کہ اب کابینہ سے منظور کررہی ہے جبکہ اس معاملہ کو جو عدالت میں ہے اس کےلئے مختلف حربے استعمال کر کے کیا عدالت کو دباﺅ پر لانا چاہتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی حکومت کی تمام کوشش کو ناکام بنائے گی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور عمران خان اپنے نمبرز پر اعتماد نہیں ہے اس لئے وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے بندوں کو کنٹرول کرنے کےلئے یہ حربے استعمال کر رہے ہیں، حکومت کی جانب سے جو طریقہ کار منتخب کیا جا رہا ہے وہ غیر جمہوری ہے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے اور جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے لانگ مارچ کر رہے ہیں، جبکہ استعفوں کے معاملے سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ 31جنوری تک اپنے اراکین کے استعفے جمع کریں گے اور وہ ہمارے پاس ہیں ہم نے ابھی فیصلہ کرنا ہے وہ کب کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ سینیٹ میں انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے لیکن قانونی رائے کے بعد یہ اتفاق رائے ہوا کہ اگر سینیٹ انتخابات میں حصہ نہ لیا جائے تو پھر حکومت کو سپر اکثریت مل جائے گی جو ملک اور جمہوریت کےلئے مزید خطرناک ثابت ہو گی اس کے بعد پی ڈی ایم نے مل کر سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، پی ڈی ایم مل کر حکومت سے مقبالہ کر رہی ہے اور پی ڈی ایم کے جلسوں اور فیصلوں سے کچھ تو ہورہا ہو گا کہ عمران خان کا پسینہ نکل رہا ہے اور چھلانگیں مار کر کسی نہ کسی طرح سے آئین تبدیل کرنا چاہتا ہے، کچھ تو فرق پی ڈی ایم کی وجہ سے پڑ رہا ہے جبکہ سینیٹ الیکشن قریب ہے آپ بھی دیکھیں اور میں بھی دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ایک مقصد کٹھ پتلی حکومت ہٹانا ہے اور لانگ ٹرم مقاصد میں ملک کے پورے نظام کو بچانا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے نکالنا ہے، اداروں کو اپنے کردار تک محدود کرنا ہے،چاہے وہ پارلیمان ہو، سپریم کورٹ ہو یا کوئی بھی ادارہ ہو جبکہ اگر ہیڈ لائنز جیتنے کی کوششیں کریں گے تو یہ لانگ ٹرم مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ نئی نسل جو اپنی کوششیں کر رہی ہے اس میں کامیاب ہو گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*