تازہ ترین

حکومت ملک میں باکسنگ کے فروغ کےلئے تمام وسائل کو بروئے کار لائے، انٹرنیشنل باکسر محمد وسیم

Muhammad-Waseem

اسلام آباد (سپورٹس ڈیسک) انٹرنیشنل باکسر محمد وسیم نے کہا کہ حکومت ملک میں باکسنگ کے فروغ کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لائے، باکسنگ کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ اس پر حکومت اورپاکستان باکسنگ فیڈریشن کی توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ پروفیسر انور چوہدری کا دنیا کی عالمی تنظیم آئبا کا صدر بننا ہمارے کے لئے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں تھا ان کے دور میں ملک میں باکسنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود تھا لیکن انہوں نے اس ٹیلنٹ کو بروئے کار لانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ پاکستان نے اولمپک، کامن ویلتھ اور ایشیائی سطح کے علاوہ دیگر کئی انٹرنیشنل سطح میڈلز حاصل کئے، اس وقت تو باکسنگ ختم ہورہی ہے اگر اس کھیل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی تو نیا ٹیلنٹ آنا کم ہوجائےگا۔ انہوں نے حکومت اور پاکستان باکسنگ فیڈریشن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کھیل پر دھیان دیں، حکومت اور فیڈریشن کھلاڑیوں کی معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ پروفیشنل باکسنگ کے مقابلوں کا بھی انعقاد کرے تاکہ باکسنگ کے کھیل کو فروغ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں دیکھا جائے تو ہاکی اور باکسنگ میں ہی سب سے زیادہ میڈلز آتے تھے پاکستان نے باکسنگ میں بڑے بڑے نام پیدا کئے جن میں حسین شاہ نے اولمپک میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا اور اس کے علاوہ ابرار حسین، اظہر علی، اصغر علی، مہراللہ نصیر اور اصغر علی شاہ کے علاوہ بے شمار باکسر جنہوں نے دنیا میں باکسنگ کے میدان میں شہرت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پرچم بلند کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے خود بھی محنت کر کے پاکستان کے لئے بڑے بڑے اعزازت جیتے، ایک سوال کے جواب میں محمد وسیم نے کہا کہ کئی برس قبل پاکستان باکسنگ فیڈریشن اور حکومت انٹرنیشنل مقابلوں کی تیاری کے سلسلہ میں پورا پورا سال قبل تیاری کے لئے کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ کا انعقاد کرتی تھی اور پاکستانی کوچز کے ساتھ غیرملکی کوچ بھی کھلاڑیوں کو جدید اور اعلی تربیت دیتے تھے قازقستان، روس اور کوریا میں بیھجا جاتا تھا اور اب کھلاڑیوں کو بیرون ملک بھیجنے کی بات تو الگ لیکن کھلاڑیوں کی تربیت کا اہتمام بھی نہیں کیا جارہاہے، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کھلاڑیوں کو تربیت کے لئے بھیجنے سے کارکردگی میں بہتری آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو اچھی تربیت نہیں دی جائے گی تو کھلاڑیوں کی کارگردگی میں بہتری نہیں آسکے گی۔ انہوں نے کھلاڑیوں پر روز دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی دل لگا کر بھرپور محنت سے تربیت کرکے ملک وقوم کا نام روشن کریں، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میں دنیا کے بڑے مقابلے جیت کر پاکستان کےلئے میڈلز حاصل کئے اور الحمداللہ آج بھی میرا اچھا ریکارڈ قائم ہے، کرونا وائرس کی وباءکے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور کھلاڑی گھروں میں رہ کر میری طرح اپنی فزیکل فٹنس پر توجہ دیں اور بے جا اپنے اپنے گھروں سے غیر ضروری طور باہر نہ نکلیں، اگر کسی ضروری کام کے لئے گھر سے باہر جانا بھی ہو تو حکومت کی جانب سے بتائی گئی احتتاطی تدبیر پر عمل کریں، ماسک کا استعمال ضرور کریں، سماجی فاصلوں کا بھی خیال رکھیں اور بار بار ہاتھ دھوئیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*