تازہ ترین

تعلیمی اداروں کی بندش۔۔۔لمحہ فکریہ۔؟

تحریر : سید عارف سعید بخاری
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وباءسے تعلیمی اداروں کی بندش نے ایک پوری نسل کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔یہ بات انہوں نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی نئی مہم ”ہمارا مستقبل بچائیں”کے آغاز کے موقع پر ایک وڈیو کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔اقوام متحدہ کی اس مہم کا مقصد کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں رسمی تعلیم کی بحالی کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے ،ان کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیامیں 160کے لگ بھگ ممالک میں ایک ارب سے زائد بچے رسمی تعلیم سے محروم ہیں جبکہ کم از کم چار کروڑ بچے پری سکول کی تعلیم شروع ہی نہیں کر پائے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ معذور طلبہ ،اقلیتوں اور خطرے سے دوچار برادریوں ،پناہ گزینوں اور بے دخل افراد کے بچوں کے بھی تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جانے کا سنگین خطرہ موجود ہے۔سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 25کروڑ طلبہ سکول جانے سے محروم ہیں اور یہ بہت بڑا تعلیمی بحران ہے۔
کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد طالب علموں کی سکولوں میں واپسی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔گٹریس کا کہنا تھا کہ اب ہمیں ایک پوری نسل کی تباہی کا سامنا ہے۔جس سے انسانی قابلیت، صلاحتیں اور برسوں سے حاصل کی گئی ترقی ضائع ہوسکتی ہے اور اس سے عدم مساوات بدتر شکل اختیار کر سکتی ہے انہوں نے تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری پر بھی زور دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ عالمی وباءسے پہلے ہی غریب اور ترقی پذیر ممالک کو سالانہ ایک عشاریہ پانچ ٹریلین ڈالر فنڈنگ کی کمی کا سامناتھا ،جس میں ڈیجیٹل تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔اہم بات یہ ہے تعلیم کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا ر±خ ان کی جانب ہونا چاہئے جن کے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے۔
تعلیم کی اہمیت ازل سے مسلمہ ہے اس کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ ءتعبیر نہیں ہوسکتا۔بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک کسی بھی حکومت سے جدید ضروریات کے مطابق بچوں کی تعلیم کیلئے کوئی ٹھوس پالیسی واضح ہی نہیں کی۔یہو د و نصاریٰ کے ایجنٹوںنے قوم کے نونہالوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کی بجائے انہیں تباہی و بربادی کی دلدل میں دھکیل کر عالمی سامراج کے ناپاک عزائم کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔انگریزی تعلیم کے چکر میں قوم انگلش سیکھ پائی اور نا ہی ا±ردو پر عبور حاصل کر پائی۔طلبہ کی ساری زندگی انگریزی سیکھنے میں گذر جاتی ہے۔تعلیمی شعبے میں طریقہ تدریس میں تفاوت کی بدولت ملک میں غریب و امیر طبقات ہی وسعت پاتے گئے۔غریب لوگ اپنے بچوں کو ا±ردو میڈیم میں پڑھانے پر مجبور ہیں ،سرکاری سکولوں میں فیسیں کم ہیں یا بالکل معاف ہیں ،لیکن وہاں تعلیم نام کی کوئی شہ بچے حاصل نہیں کر پاتے اور ا±ردو میڈیم والے بچے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیرباد کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ معاشی مشکلات یا کالج کی سطح پر انگریزی ذریعہ تعلیم ہی ہوتا ہے۔
دنیا اس وقت جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس قدر آگے جا چکی ہے کہ اس کا مقابلہ ترقی پذیر غریب ممالک کے بس میں ہی نہیں رہا۔سوشل میڈیا ،کمپیوٹر ، انٹرنیٹ اورفیس بک جیسی سہولیات نے بھی بچوں کو تعلیم سے دور کر دیا ہے۔”ریموٹ کنٹرول ”سسٹم کی بدولت سستی کاہلی ہماری قوم کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ ضرورت کی ہر چیز ”آن لائن ” سسٹم کے ذریعے لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے طریقہ کار نے بچوں میں صحت عامہ سمیت بہت سے مسائل پیدا کرنے شروع کر دئیے ہیں۔
کرونا وائرس کے دنوں میں بچوں کو ”آن لائن ” تعلیم حاصل کرنے کی جانب راغب کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ،اس کے بھی خاطرخواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔المیہ یہ ہے کہ طلبہ کی اکثریت انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی سہولت سے محروم ہے اس لئے انہیں”آن لائن” تعلیم دینا ایک دشوار امر ہے۔اسی بناء پر بے شمار بچوں نے اپنے تعلیمی اداروں میں لکھ کر دے دیا ہے کہ وہ ”آن لائن”امتحان نہیں دے سکتے۔ کروناوائرس کی وجہ سے بعض ذہین طلبہ کو بغیر امتحان دئیے اگلی کلاس میں پروموٹ کر دیا گیا ہے لیکن اس میں بھی بعض طلبہ کو اس کا اہل نہیں سمجھا گیا جس کی وجہ سے ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
حکومت نے بچوں پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ انہیں چھ ماہ سے زاہد عرصہ گھروں میں مقیدرکھا گیا ہے۔اس دوران بچوں نے تعلیم پر توجہ ہی نہیں دی ،بلکہ اپنا زیادہ وقت موبائل ، انٹرنیٹ اور فیس بک پر ہی ضائع کیا ہے۔اس طرح مسلسل بچوں کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے اور حکومت اب بھی تعلیمی ادارے کھولنے پر رضا مند نہیں ،چند سال قبل سانحہ اے پی ایس پشاور میں بچوں کی شہادتوں کے بعد قوم کو ایک ترانہ متعارف کروایا گیا تھاکہ ”ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے ”۔۔لیکن یہاں تو صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ دشمن کے بچے تو پڑھ پائے یا نہیں۔؟ہم نے اپنے ہی نونہالوں کو تعلیم سے دور کر دیا ہے اور اس بات کا ہمیں احساس تک نہیں ہو پا رہا۔موجودہ حالات میں تکلیف دہ امر یہ ہوگا کہ اب جب بھی تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے تو بچوں کیلئے سکول جانا بھی ایک مسئلہ ہوگا۔اور انہیں دوبارہ سے تعلیم کی جانب راغب کرنا جوئے شیرلانے کے مترادف ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے کوئی ایسی پالیسی وضع کریں کہ جس کی روشنی میں”کرونا ہو یاکوئی اور سنگین بحران تو ہمارے بچے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔حکومت کی موجودہ حکمت عملی نے بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا کر دیا ہے۔اس لئے حکومت کو اس مسئلہ کو مناسب حل نکالنے کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*